میونسپل کارپوریشن نے شہر میں فضائی آلودگی پر قابو پانے کے لئے کوئلہ اور لکڑی استعمال کرنے والی بیکریوں کے خلاف کارروائی شروع کرتے ہوئے انہیں نوٹس جاری کئے ہیں۔
بیکری۔ تصویر:آئی این این
میونسپل کارپوریشن (بی این ایم سی) نے شہر میں فضائی آلودگی پر قابو پانے کے لئے کوئلہ اور لکڑی استعمال کرنے والی بیکریوں کے خلاف کارروائی شروع کرتے ہوئے انہیں نوٹس جاری کئے ہیں۔ نوٹس میں بیکری مالکان کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ۳۰؍ دن کے اندر کوئلہ اور لکڑی کا استعمال بند کرکے سی این جی، پی این جی، بجلی یا دیگر ماحول دوست ایندھن اختیار کریں، بصورت دیگر ان کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔
میونسپل کارپوریشن کے آلودگی کنٹرول محکمہ کے ڈپٹی کمشنر بال کرشن شیرساگر نے کہا کہ بامبے ہائی کورٹ کی ہدایت پر قائم ہائی پاور کمیٹی کے احکامات کے مطابق فضائی آلودگی کے بڑے ذرائع کے خلاف کارروائی کی جا رہی ہے۔ ان کے مطابق کوئلہ اور لکڑی سے چلنے والی بیکری کی بھٹیوں سے خارج ہونے والا دھواں اور مضر ذرات شہریوں کی صحت کے لئے نقصان دہ ہیں، اسی لئے بیکریوں کو صاف ایندھن اختیار کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔انہوں نے واضح کیا کہ مقررہ مدت کے بعد معائنہ کیا جائے گا اور ہدایات پر عمل نہ کرنے والی بیکریوں کے خلاف جرمانہ، لائسنس کی معطلی یا منسوخی اور ضرورت پڑنے پر سیلنگ کی کارروائی بھی کی جا سکتی ہے۔دوسری جانب بیکری مالکان نے میونسپل انتظامیہ کے اس اقدام پر اعتراض کرتے ہوئے کہا ہے کہ شہر میں فضائی آلودگی کا اصل سبب بیکریاں نہیں بلکہ بڑی تعداد میں موجود ڈائنگ، سائزنگ یونٹس اور کیمیکل فیکٹریاں ہیں۔
نیو سپر بیکری کے مالک اکبر صدیقی نے کہا کہ بھیونڈی میں سیکڑوں سائزنگ یونٹس اور ڈائنگ روزانہ بھاری مقدار میں لکڑی استعمال کرتے ہیں، جبکہ ایک بیکری ایک ماہ یا ڈیڑھ ماہ میں جتنی لکڑی استعمال کرتی ہے، سائزنگ یونٹس اتنی لکڑی ایک ہی دن میں جلا دیتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ جس سرکاری حکم (جی آر) کی بنیاد پر نوٹس جاری کئے جا رہے ہیں وہ بنیادی طور پر مکمل شہری (اربن) علاقوں کے لئے تھا جبکہ بھیونڈی کا بڑا حصہ سیمی اربن زمرے میں آتا ہے، اس لئے اسے یہاں من و عن نافذ کرنا مناسب نہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ انتظامیہ آلودگی کے اصل اسباب پر توجہ دے اور تمام شعبوں کے خلاف یکساں پیمانے پر کارروائی کرے۔بیکرس اسوسی ایشن کے صدر ریاض طاہر مومن نے بتایا کہ میونسپل کارپوریشن کی جانب سے جاری نوٹس کے سلسلے میں عنقریب میٹنگ منعقد کیا جائے گی جس میں صورتحال کا جائزہ لے کر آئندہ کے لائحۂ عمل اور ممکنہ اقدامات کے بارے میں فیصلہ کیا جائے گا۔