Updated: June 19, 2026, 7:12 PM IST
| New Delhi
رپورٹس کے مطابق امریکی اے آئی کمپنیوں کیلئے ڈیٹا اینوٹیشن کی خدمات فراہم کرنے والے امریکی ملازمین ۱۵ سے ۲۵ ڈالر فی گھنٹہ کے درمیان کماتے ہیں۔ لیکن ہندوستان، کینیا، فلپائن اور وینزویلا میں بالکل یکساں کام کرنے والے ملازمین کو ایک سے ۳ ڈالر فی گھنٹہ یعنی تقریباً ۱۰۰ سے ۲۵۰ روپے فی گھنٹہ کے برابر، کم اجرت دی جاتی ہے۔
ہر ذہین اے آئی چیٹ بوٹ کے صحیح جواب اور سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والے ہیومنائیڈ روبوٹ کے ڈیمو کے پیچھے ایک نادیدہ افرادی قوت چھپی ہوتی ہے۔ رپورٹس کے مطابق، نہایت کم اجرت پر کام کرنے والی اس افرادی قوت کا ایک بڑا حصہ تیزی سے ہندوستان میں مرکوز ہو رہا ہے۔ امریکی اے آئی کمپنیوں کیلئے کام کرنے والے ہندوستانی ملازمین ڈیٹا لیبلنگ، اے آئی آؤٹ پٹس (نتائج) کی تصحیح اور یہاں تک کہ کیمرے کے سامنے روزمرہ کے کام کر رہے ہیں تاکہ روبوٹس ان کی نقل کرنا سیکھ سکیں۔ اکثر اس کام کیلئے انہیں روزانہ صرف چند ڈالر کے برابر اجرت دی جاتی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: گروک اے آئی کا استعمال ایران پر حملوں میں کیا گیا
ہندوستان کی ڈیٹا اینوٹیشن (ڈیٹا کی شناخت اور درجہ بندی) کی صنعت ۲۱–۲۰۲۰ء میں تقریباً ۲۵۰ ملین ڈالر تھی لیکن اب اس مارکیٹ کے ۲۰۳۰ء تک ۷ ارب ڈالر سے تجاوز کرنے کی امید ہے۔ اس کی بنیادی وجہ امریکی اے آئی کمپنیوں کی طرف سے ملازمین کی مانگ ہے، جنہیں اپنے ماڈلز کی تربیت کیلئے انسانوں کے تیار کردہ بڑے پیمانے پر لیبل شدہ ڈیٹا کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس کام میں تصاویر کو ٹیگ کرنا، آڈیو کو تحریر میں منتقل کرنا، چیٹ بوٹ کے جوابات کی درجہ بندی کرنا اور ان کی غلطیوں کی نشان دہی کرنا شامل ہے۔
یہ بھی پڑھئے: امریکہ میں شرح سود میں کوئی تبدیلی نہیں
عالمی سطح پر اجرت کا بڑا فرق
رپورٹس کے مطابق ان کمپنیوں کیلئے یہی کام انجام دینے والے امریکی اینوٹیٹرز ۱۵ سے ۲۵ ڈالر فی گھنٹہ کے درمیان کماتے ہیں۔ لیکن ہندوستان، کینیا، فلپائن اور وینزویلا میں بالکل یکساں کام کرنے والے ملازمین کو ایک سے ۳ ڈالر فی گھنٹہ یعنی تقریباً ۱۰۰ سے ۲۵۰ روپے فی گھنٹہ کے برابر، کم اجرت دی جاتی ہے۔ امریکہ کی بڑی اے آئی لیبز شاذ و نادر ہی ان ملازمین کو براہ راست ملازمت پر رکھتی ہیں، اس کے بجائے وہ اس کام کو کنٹریکٹنگ پلیٹ فارمز کے ذریعے چلاتے ہیں جو ان کاموں کو کسی بھی وقت اس ملک کو منتقل کر دیتے ہیں جہاں سب سے زیادہ سستی افرادی قوت دستیاب ہو۔ اس کی وجہ سے اجرتیں کم رہتی ہیں اور ملازمین آسانی سے تبدیل کئے جا سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: سی اے کی چھٹی: اے آئی نے بھرا انکم ٹیکس ریٹرن !
ان روبوٹس کی تربیت جو ان کی ملازمتیں چھین سکتے ہیں
ایک حیران کن پیش رفت میں، کمپنیوں نے ہندوستانی فیکٹری ملازمین کو ہلکے وزن کے کیمرے پہن کر روزمرہ کے کام انجام دینے کیلئے ملازمت پر رکھنا شروع کردیا ہے، جس سے ”ایگو سینٹرک“ (ملازم کے اپنے زاویے سے) ویڈیو فوٹیج تیار ہوتی ہے۔ یہ فوٹیج انسان نما روبوٹس کو وہی کام دہرانے کی تربیت دینے کیلئے استعمال کی جاتی ہے۔ ایسا ہی ایک آپریشن، ’ایگو لیب ڈاٹ اے آئی‘ (Egolab.AI)، جس کا ہندوستان میں آفس بنگلورو میں واقع ہے، دنیا بھر میں روبوٹکس کے منصوبوں کیلئے یہ فوٹیج جمع کرنے کی خاطر ملک بھر میں گارمنٹس مینوفیکچررز سمیت دیگر فیکٹریوں کے ساتھ شراکت داری کر رہا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ۲۰۳۰ء تک ۲۲؍ فیصد ملازمتیں اے آئی سے متاثر ہوںگی
ہندوستانی ملازمین کو کوئی تحفظ نہیں، مسلسل نگرانی کا سامنا
ان میں سے زیادہ تر ملازمین کو مستقل ملازمین کے بجائے آزاد کنٹریکٹرز کے طور پر درجہ بند کیا جاتا ہے، جس کی وجہ سے وہ کم از کم اجرت کے نفاذ، تنخواہ کے ساتھ چھٹی، یا ملازمت سے برطرفی کے معاوضے اور دیگر معیاری تحفظات سے محروم ہو جاتے ہیں۔ ہندوستان کے موجودہ لیبر قوانین، بشمول ’کوڈ آن ویجز‘ (اجرت کا ضابطہ)، پیس ریٹ (کام کے حساب سے ادائیگی) یا ٹاسک بائی ٹاسک ڈجیٹل کام کو منظم کرنے کیلئے نہیں بنائے گئے ہیں۔ ملازمین کام کے دوران شدید نگرانی کا بھی ذکر کرتے ہیں، جہاں ان کے ہر کلک اور کی اسٹروک کو ٹریک کیا جاتا ہے اور کسی بھی وضاحت یا اپیل کے بغیر پلیٹ فارم سے نکالے جانے کا مسلسل خوف رہتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: انسانی مہارتیں مزید اہمیت اختیار کرتی جارہی ہیں، اے آئی ہیئت بدل رہا: رپورٹ
ایک طرف، ہندوستان حکومتی سربراہی میں اے آئی اجلاسوں اور ڈیٹا سینٹرز میں سرمایہ کاری کے ذریعے خود کو ایک عالمی اے آئی مرکز کے طور پر پیش کر رہا ہے، لیکن غیر ملکی اے آئی سسٹمز کو اسمارٹ بنانے والی اس کم اجرت والی افرادی قوت اور ان کے مسائل اور تحفظ کو نظر انداز کیا جارہا ہے۔