سیکولر فرنٹ کا پلڑا بھاری۔ بی جے پی نے دعویٰ کیا کہ میئراس کا ہوگا۔پس پردہ جوڑ توڑ کی کوششیں ۔بھیونڈی وکاس اگھاڑی نے فی الحال کسی کی بھی حمایت نہیں کی
EPAPER
Updated: January 23, 2026, 11:50 PM IST | Khalid Abdul Qayyum Ansari | Mumbai
سیکولر فرنٹ کا پلڑا بھاری۔ بی جے پی نے دعویٰ کیا کہ میئراس کا ہوگا۔پس پردہ جوڑ توڑ کی کوششیں ۔بھیونڈی وکاس اگھاڑی نے فی الحال کسی کی بھی حمایت نہیں کی
بھیونڈی نظام پور میونسپل کارپوریشن میں میئر کا عہدہ جنرل زمرہ کیلئے مختص ہوتے ہی شہر کی سیاست میں غیر معمولی ہلچل مچ گئی ہے۔ چونکہ کسی بھی جماعت کو واضح اکثریت حاصل نہیں ہے ، اس لئے میئر کی کرسی کیلئے اس وقت اعدادوشمارکا کھیل، سیاسی وفاداریوں اور پس پردہ ملاقاتوں کا سلسلہ جاری ہے۔ سیاسی حلقوں میں کارپوریٹروں کی خرید و فروخت سے متعلق سرگوشیاں بھی تیز ہو گئی ہیں جس نے اس انتخاب کو مزید سنسنی خیز بنا دیا ہے۔
۹۰؍ رکنی کارپوریشن میں کانگریس ۳۰؍ منتخب کارپوریٹروں کے ساتھ سب سے بڑی پارٹی کے طور پر ابھری ہے۔ این سی پی (شرد پوار ) کے ۱۲؍ اور سماج وادی پارٹی کے۶؍ کارپوریٹر اگر یکجا رہے تو سیکولر فرنٹ کی مجموعی تعداد۴۸؍تک پہنچتی ہے جو اکثریت سے۲؍ سیٹیں زائد ہے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق یہی عددی برتری اس وقت میئر کی دوڑ میں سیکولر فرنٹ کو مضبوط بناتی ہے۔ تاہم وفاداریوں کا امتحان ابھی باقی ہے۔اس پس منظر میں انقلاب سے گفتگو کرتے ہوئے مشرقی حلقہ کے رکن اسمبلی رئیس شیخ نے کہا ہے کہ اس مرتبہ شہر میں سیکولر میئر بنانے جا رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ کانگریس، این سی پی اور سماج وادی پارٹی مل کر سیکولر فرنٹ تشکیل دے رہی ہیں اور تمام کارپوریٹر متحد ہیں۔ رئیس شیخ نے عوام اور وارڈ کی ذمہ دار شخصیات سے اپیل کی کہ وہ اپنے علاقوں کے کارپوریٹروں پر دباؤ ڈالیں تاکہ کوئی بھی کارپوریٹر لالچ یا بہکاوے کا شکار نہ ہو اور سیکولر فرنٹ کی حمایت یقینی بنائے۔
کانگریس کے صدر عبدالرشید طاہر مومن نے پراعتماد انداز میں کہا کہ کارپوریشن میں اقتدار کانگریس کے ہاتھ آئے گا۔ ان کے مطابق تینوں سیکولر جماعتیں باہمی اتفاق سے میئر، ڈپٹی میئر اور دیگر اہم عہدوں کا فیصلہ کریں گی تاکہ کارپوریشن میں مستحکم نظم و نسق قائم کیا جا سکے۔ سبھی کارپوریٹر پوری طرح متحد ہیں ۔
این سی پی کے صدر شعیب خان گڈو نے کہا کہ شہر کے خزانے کو لوٹنے والوں سے دور رکھنا ہی ان کا مقصد ہےاور اسی سوچ کے تحت سیکولر پارٹیاں متحد ہو کر میئر منتخب کریں گی۔ ان کی کو شش ہے کہ کارپوریشن کے اقتدار میں اب نئے لوگوں کو بھی حصے داری ملنی چاہئے۔
سماج وادی پارٹی کے صدر انس انصاری نے واضح کیا کہ سماج وادی پارٹی ہمیشہ فرقہ پرست سیاست کے خلاف رہی ہے اور بھیونڈی میں بھی ان کی کوشش یہی ہے کہ ایک سیکولر میئر منتخب ہو۔
ادھر بھیونڈی وکاس اگھاڑی کے روح رواں اور سابق میئر جاوید دلوی نے انقلاب کو بتایا کہ ان کی پارٹی نے فی الحال کسی بھی سیاسی محاذ کی حمایت کا اعلان نہیں کیا ہے۔ ان کے مطابق وہ حالات کا جائزہ لے رہے ہیں، جو پارٹی میئر بنائے گی، ہم اس کے ساتھ ہوںگے۔
سیاسی حلقوں میں ان کے اس موقف کو فیصلہ کن حیثیت دی جا رہی ہے۔
دوسری جانب مہایوتی کی جانب سے بھی میئر بنانے کے دعوے شدت اختیار کر گئے ہیں۔ رکن اسمبلی مہیش چوگھلے نے واضح طور پر کہا ہے کہ بھیونڈی کا میئر بی جے پی ہی بنائے گی۔ ان کے اس بیان کے بعد مہایوتی کے خیمے میں سرگرمیاں مزید تیز ہو گئی ہیں۔بی جے پی کے کارپوریٹر سنتوش شیٹی نے دعویٰ کیا ہے کہ مہایوتی بھیونڈی میں میئر بنانے کی پوزیشن میں ہے۔ ان کے مطابق بی جے پی کے۲۲، شندے سینا کے۱۲؍ اور ایک آزاد کارپوریٹر سمیت ۳۵؍ منتخب کارپوریٹر ان کے ساتھ ہیں جبکہ دیگر جماعتوں کےلیڈران اور کارپوریٹروں سے مسلسل رابطہ قائم ہے۔
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ مہایوتی کی نظریں ایسے غیر یقینی کارپوریٹروں پر مرکوز ہیں جو کسی بھی قیمت پر اپنی وفاداری تبدیل کرنے کوتیار ہو اور اس لڑائی میں پلڑا جھکا سکتے ہیں۔مجموعی طور پر بھیونڈی میں میئر کی کرسی اب صرف ایک عہدہ نہیں رہی بلکہ یہ سیاسی طاقت، عددی برتری اور وفاداری کے امتحان کی علامت بن چکی ہے۔ آیا میئر سیکولر فرنٹ کا ہوگا یا مہایوتی کا۔اس کا فیصلہ آئندہ دنوں میں شہر کی سیاست کی سمت متعین کرے گا۔