ایپسٹین فائلز اور اڈانی کے خلاف درج مقدمات کی وجہ سے ٹرمپ مودی کو بلیک میل کررہے ہیں: الکالامبا۔
الکا لامبا نے پریس کانفرنس میں اس طرح احتجاج کیا۔ تصویر:آئی این این
رسوئی گیس بحران پر کانگریس ،مودی حکومت کو گھیررہی ہے۔ یہ ویڈیو کانگریس کے ایکس ہینڈل سے جاری کیاگیا۔ جس میں کانگریس کی خواتین وِنگ کی صدر الکالامبانظر آرہی ہیں۔ انہوں نے پریس کانفرنس میں لکڑی کے چولہے کے ساتھ سلنڈر کی ارتھی دکھائی اور کہا کہ ’’ہردیپ پوری نےکہا تھا کہ ملک میں ایل پی جی کی کوئی کمی نہیں ہے، ذخائر بھرے ہوئے ہیںلیکن ملک بھر سے خبریں آ رہی ہیں کہ ہر جگہ ایل پی جی سلنڈرکی کمی ہو چکی ہے۔ پورا ملک اس قلت کی لپیٹ میں آ چکا ہے۔جس دن ایل پی جی سلنڈر کی قیمتیں بڑھائی گئی تھیں، اسی دن ہم ہردیپ پوری سے ملنے گئے ، لیکن انہوں نے ملنے سے انکار کر دیا۔ مگر ہم رکے نہیں، ہم نے اپنی آواز بلند کی۔نتیجہ یہ ہوا کہ عوام کی آواز اٹھانے کی وجہ سے ہمارے خلاف ایف آئی آرکی گئی ۔‘‘
رپورٹ کے مطابق ملک میں ایل پی جی بحران پر مہیلا کانگریس نے مرکزی وزیر پٹرولیم ہردیپ سنگھ پوری کے استعفیٰ اور گیس سلنڈر کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کو فوری طور پر واپس لینے کا مطالبہ کیا۔مہیلا کانگریس کی قومی صدر الکا لامبا نے کانگریس کے دفتر میں سلنڈر اور چولہا چڑھا کر علامتی طور پر احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ بدنام زمانہ جنسی مجرم جیفری ایپسٹین اور اڈانی کے خلاف امریکہ میں درج مقدمات سے متعلق فائلوں کا استعمال کرکے وزیر اعظم مودی کو بلیک میل کررہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہی وجہ ہے کہ ہندوستان روس سے سستا تیل خریدنے سے قاصر ہے جس سے ملک میں ایندھن کا بحران پیدا ہو گیا ہے۔ اس دوران انہوں نے مرکزی وزیر پٹرولیم ہردیپ سنگھ پوری کا نام ایپسٹین سے منسلک ہونے کا بھی ذکر کیا۔ ٹرمپ کے پریس سکریٹری کے ایک بیان کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہندوستان نے ٹرمپ کے دباؤ میں روس سے تیل خریدنا بند کر دیا تھا اور اب اسے ایک ماہ کی چھوٹ دی گئی ہے۔