سماج وادی پارٹی کی پریس کانفرنس،جمہوری شفافیت متاثر ہونے کا الزام۔
پریس کانفرنس کے دوران دائیں سے ریاض اعظمی، انس انصاری ، صوبائی نائب صدر اجے یادو، سی پی آئی کے وجے کامبلے۔ تصویر: آئی این این
بھیونڈی میونسپل کارپوریشن انتخابات کے دوران نامزدگی واپس لینے کے عمل پر سنگین سوالات کھڑے ہو گئے ہیں۔ سماج وادی پارٹی کے صوبائی نائب صدر اور بھیونڈی انتخابی انچارج اجے یادو نے ایک پریس کانفرنس منعقد کرکے میڈیا سے کہا کہ نامزدگی واپسی کے مرحلے میں بڑے پیمانے پر بدعنوانی ہو رہی ہے، جس سے جمہوری عمل متاثر ہو رہا ہے۔اجے یادو نے کہا کہ مختلف حلقوں میں بی جے پی کے امیدواروں کا بغیر مقابلہ منتخب ہونا تشویشناک ہے اور یہ انتخابی عمل کی شفافیت پر سوال کھڑا کرتا ہے۔ انہوں نے پوچھا کہ اگر انتخابات آزاد اور منصفانہ ہیں تو پھر ہر جگہ حکمراں جماعت کے امیدوار ہی بلا مقابلہ کیوں کامیاب ہو رہے ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ اپوزیشن جماعتوں کے امیدواروں پر دباؤ ڈال کر انہیں نامزدگی واپس لینے پر مجبور کیا جا رہا ہے جو جمہوریت کے بنیادی اصولوں کے خلاف ہے۔ ایسے ہتھکنڈوں سے عوام کے حقِ انتخاب کو محدود کیا جا رہا ہے۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ الیکشن کمیشن اس پورے معاملے کا سنجیدگی سے نوٹس لے اور نامزدگی واپسی کے عمل کی جانچ کرے تاکہ انتخابی نظام پر عوام کا اعتماد برقرار رہ سکے۔
سماج وادی سی پی آئی اتحاد کا اعلان
اجے یادو نے کمیونسٹ پارٹی (سی پی آئی) کے ساتھ انتخابی اتحاد کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ وارڈ نمبر ۱۵؍ میں سی پی آئی ایک نشست پر جبکہ دیگر نشستوں پر سماج وادی پارٹی کے امیدوار مقابلہ کریں گے۔ اور سی پی آئی ہر سیٹ پر سماج وادی پارٹی کی مدد کرے گی۔