• Thu, 08 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

خواتین اور ڈجیٹل دنیا: ایک ذمہ دارانہ اور باشعور سفر

Updated: January 06, 2026, 4:23 PM IST | Nikhat Anjum Nazimuddin | Mumbai

ڈجیٹل دُنیا نے خواتین کو بہترین پلیٹ فارم فراہم کیا ہے۔ عورت اگر حیا، وقار اور خودداری کے ساتھ ڈجیٹل دنیا میں قدم رکھے تو وہ نہ صرف خود محفوظ رہ سکتی ہے بلکہ دوسروں کے لئے بھی مثال بن سکتی ہے۔ اصل کامیابی یہی ہے کہ جدید ذرائع کو انسانیت اور اخلاق کے تابع رکھا جائے نہ کہ خود کو ان کا اسیر بنا لیا جائے۔

If women are provided with knowledge, protection, awareness, and confidence, the digital world can become a flight for them, not a prison. Picture: INN
اگر عورت کو علم، تحفظ، شعور اور اعتماد فراہم کیا جائے تو ڈجیٹل دنیا اس کیلئے قید نہیں بلکہ پرواز بن سکتی ہے۔ تصویر: آئی این این
ڈجیٹل دنیا اب صرف ایک سہولت نہ ہو کر ایک مکمل طرزِ زندگی بن چکی ہے۔ موبائل فونز، انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا نے فاصلے سمیٹ دیئے ہیں اور دیگر افراد کے ساتھ ہی ساتھ خواتین کے لئے بھی دنیا کو ایک اسکرین تک محدود کر دیا ہے۔ وہ خواتین جو کبھی صرف گھر اور قریبی معاشرتی دائرے تک محدود سمجھی جاتی تھیں آج ڈجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے عالمی سطح پر اپنی موجودگی درج کرا رہی ہیں۔ یہ تبدیلی بلاشبہ ترقی کی علامت ہے لیکن اس ترقی کے ساتھ کچھ فکری، اخلاقی اور سماجی سوالات بھی جڑے ہوئے ہیں جن پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔ یقیناً ڈجیٹل دنیا نے خواتین کو مافی الضمیر کے اظہار کی ایک ایسی طاقت دی ہے جو ماضی میں بہت کم میسر تھی۔ وہ اب اپنے خیالات، تجربات، احساسات اور مسائل کو کسی رکاوٹ کے بغیر دنیا کے سامنے رکھ سکتی ہیں۔ اپنی کہانی خود بیان کرسکتی ہیں، اپنے دکھ سکھ خود سنا سکتی ہیں اور اپنے وجود کو خود معنی دے سکتی ہیں۔ یہ آزادی بہت سی خواتین کیلئے حوصلے اور خود اعتمادی کا ذریعہ بنی ہے۔ تعلیم، تربیت، سماجی شعور، گھریلو مسائل، خواتین کے حقوق اور خود آگہی جیسے موضوعات پر عورت کی آواز پہلے سے زیادہ واضح اور مضبوط ہو کر سامنے آئی ہے۔ ڈجیٹل پلیٹ فارمز نے عورت کو یہ احساس دلایا ہے کہ وہ تنہا نہیں، اسی کی طرح احساسات رکھنے والی اور بھی بیشمار خواتین موجود ہیں۔ وہیں آن لائن تعلیم نے بھی اس سفر کو مزید آسان بنا دیا ہے۔ وہ لڑکیاں جو معاشی کمزوری، سماجی پابندیوں یا جغرافیائی مسائل کے باعث تعلیمی اداروں تک نہیں پہنچ پاتی تھیں آج ڈجیٹل دنیا کے ذریعے علم حاصل کر رہی ہیں۔ ڈجیٹل تعلیم نے ان کیلئے اس حقیقت کو ثابت کر دیا ہے کہ علم کسی مخصوص جگہ یا وقت کا محتاج نہیں۔ یہ علم نہ صرف ان کی سوچ کو وسعت دیتا ہے بلکہ انہیں خود اعتمادی اور خود انحصاری کی طرف بھی لے جاتا ہے۔
ایک تعلیم یافتہ خاتون اپنی زندگی کو بہتر بنانے کیساتھ پورے معاشرہ کی فکری بنیاد کو مضبوط کرتی ہے۔ ڈجیٹل دنیا نے خواتین کے لئے معاشی اعتبار سےبھی نئی راہیں کھولی ہیں۔ بہت سی خواتین اپنے گھروں میں رہتے ہوئے اپنی صلاحیتوں، ہنر اور علم کو روزگار میں تبدیل کر رہی ہیں۔ فری لانسنگ، آن لائن تدریس، کنٹینٹ رائٹنگ، گرافک ڈیزائنگ، مارکیٹنگ اور ڈجیٹل کاروبار جیسے کئی شعبوں میں خواتین کی شمولیت بڑھتی جا رہی ہے۔ یہ پیش رفت محض مالی فائدے کیلئے نہیں ہے بلکہ اس عمل سے خواتین میں فیصلہ سازی کی صلاحیت، خود اعتمادی اور فکری وسعت بھی پروان چڑھی ہے۔ جب کوئی عورت اپنے پیروں پر کھڑی ہوتی ہے تو وہ انفرادی ترقی کے ساتھ خاندان اور معاشرہ کے لئے ایک مضبوط ستون بن جاتی ہے۔
تاہم، ڈجیٹل دنیا کی یہ روشن تصویر مکمل نہیں۔ اس دنیا کا ایک تاریک پہلو بھی ہے جس کا سامنا بھی خواتین کو کرنا پڑتا ہے۔ سوشل میڈیا پر ایکٹیو اور موجود رہنا خواتین کیلئے اکثر ہراسانی اور ذہنی اذیت کا سبب بن جاتا ہے۔ نازیبا پیغامات، جعلی اکاؤنٹس، تصاویر کا غلط استعمال اور مسلسل تنقید ان کی ذہنی صحت پر گہرے اثرات چھوڑتی ہے۔ صنف نازک کیلئے یہ سیکھنا ضروری ہے کہ ڈجیٹل دنیا میں اپنی موجودگی کو کیسے محفوظ، باوقار اور بامقصد رکھا جائے؟ ڈجیٹل آزادی کا مطلب بے لگام رویہ نہیں بلکہ ذمہ داری اور احتیاط ہے۔ یہ ذمہ داری صرف عورت پر نہیں بلکہ پورے معاشرے پر عائد ہوتی ہے۔ خاندان، تعلیمی ادارے اور میڈیا اگر مل کر ڈجیٹل تربیت کو فروغ دیں تو بہت سے مسائل پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ خواتین میں اس شعور کو فروغ دیا جائے کہ وہ اپنی حدود کو پہچانیں، اپنی پرائیویسی کی حفاظت کریں اور غیر ضروری نمائش سے خود کو محفوظ رکھیں۔ اسی طرح ہراساں کرنے والے افراد کیلئے بھی یہ سمجھ لینا بے حد ضروری ہے کہ کسی خاتون کی ڈجیٹل موجودگی اس کے کردار پر سوال اٹھانے کا جواز نہیں بلکہ اس کی صلاحیتوں کو سراہنے کا موقع ہے۔
ڈجیٹل دنیا میں خواتین کی شمولیت کا ایک اخلاقی اور سماجی پہلو بھی ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ جدید ٹیکنالوجی کا استعمال ترقی کی علامت ہے لیکن اقدار اور اخلاقیات کے بغیر یہ ترقی کھوکھلی ہو جاتی ہے۔ عورت اگر حیا، وقار اور خودداری کے ساتھ ڈجیٹل دنیا میں قدم رکھے تو وہ نہ صرف خود محفوظ رہ سکتی ہے بلکہ دوسروں کیلئے بھی مثال بن سکتی ہے۔ اصل کامیابی یہی ہے کہ جدید ذرائع کو انسانیت اور اخلاق کے تابع رکھا جائے نہ کہ خود کو ان کا اسیر بنا لیا جائے۔ آج بہت سی خواتین ڈجیٹل دنیا میں مثبت کردار ادا کرکے یہ ثابت کر رہی ہیں کہ یہ دنیا عورت کیلئے صرف آزمائش نہیں بلکہ ایک موقع بھی ہے۔ وہ علم بانٹ رہی ہیں، شعور پھیلا رہی ہیں، دوسروں کیلئے روزگار کے راستے ہموار کر رہی ہیں اور یہ پیغام دے رہی ہیں کہ اگر سمت درست ہو تو کوئی ڈجیٹل پلیٹ فارم عورت کو کمزور نہیں بناتا۔ یہ خواتین آنے والی نسلوں کیلئے امید اور حوصلے کی علامت ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK