بھیونڈی کا راجیو گاندھی فلائی اوور گڑھوں میں تبدیل

Updated: July 24, 2021, 9:37 AM IST | khalid abdul Qayyum | Mumbai

کارپوریشن کی مجرمانہ لاپرواہی کے سبب فلائی اوور کی حالت خستہ، جگہ جگہ گڑھوں کی وجہ سےموٹر سائیکل سوار حادثات کا شکار ہوتے ہیں

Many motorcyclists have lost their lives in accidents due to potholes on Rajiv Gandhi flyover.Picture:Inquilab
راجیو گاندھی فلائی اوور پر گڑھوں کی وجہ سے کئی موٹرسائیکل سوار حادثہ کا شکارہوکر جان گنوا چکے ہیں۔ تصویر انقلاب

شدید بارش ،کارپوریشن کی مجرمانہ لاپرواہی اور بدعنوانی کے سبب راجیو گاندھی فلائی اوورخستہ حالی کا شکار ہے۔اس پر سیکڑوں جان لیوا گڑھے ہیںجن میں الجھ کر روزانہ درجنوںموٹر سائیکل سوار حادثات کا شکار ہورہے ہیں۔تاہم انتظامیہ بے حس بنا ہوا ہے۔مزے کی بات یہ ہے کہ فلائی اوور کے گڑھوں کا پیچ ورک جولائی کے پہلے ہفتے میں ہی کیا گیا تھالیکن ناقص اشیاء کے استعمال ہونے کے سبب وہاں اب بھی گڑھوں کی ’فصل‘ لہلہا رہی ہے۔
 حیرت کی بات یہ ہے مذکورہ  فلائی اوور اپنے تعمیر کے ۱۳؍ برسوں میں ہی خستہ حال ہوگیا تھاجس کے سبب ۲۴؍جولائی ۲۰۱۹ء کو اس کے اوپر سے بڑی گاڑیوں کا داخلہ ممنوع کردیا گیا۔صرف موٹر سائیکل اور چھوٹی گاڑیاں ہی اس فلائی اوور سے گزر رہی ہیں۔ اس کے باوجود فلائی اوور پر گڑھوں کی بھرمار ہے جس سے گزرنا انتہائی دشوار ہے۔ گڑھے اس حد تک خطرناک ہیں کہ کسی بھی وقت کوئی ناخوشگوار حادثہ پیش آسکتا ہے۔
 واضح رہےکہ کلیان ناکہ سے ونجار پٹی ناکہ تک ٹریفک کی سنگین صورتحال کے پیش نظر بھیونڈی نظام پورشہرمیونسپل کارپوریشن نے رامیشور مندر سے  لے کر باغ فردوس مسجد تک تقریباً  سواکلومیٹر طویل راجیو گاندھی فلائی اوور تعمیر کیاتھا۔میسرس جئے کمار اینڈ کمپنی کے ذریعہ ۲۰۰۳ء سے  لے کر۲۰۰۶ء تک ۳؍ برسوں میں تعمیر کیا گیا۔ 
 بتایا جاتا ہے کہ مذکورہ فلائی اوور بننے کے بعد سے ہی میونسپل کارپوریشن نے اس کی دیکھ بھال میں مجرمانہ حد تک لاپرواہی کی ، جس کے نتیجے میں فلائی اوورمحض ۱۳؍برسوں میں ہی اس قدر خستہ حال ہوگیا ہے کہ اس پرکئی جگہ پر سڑکیں اُکھڑگئی تھیںجس سے سلیب نظر آنے لگا تھا۔کئی جگہوں پرسلاخیں بھی نظر آنے لگی تھیں لیکن انتظامیہ نے شہر کے اس اثاثے پر کوئی خاص توجہ نہیں دی۔جس سے سڑک مخدوش ہونے اور دراڑیں آنے کی خبریں موصول ہونے لگی تھیں۔حد تو یہ ہے موسم باراںمیں  یہاںسڑکوں کے بڑے بڑے گڑھوںمیں پانی بھرا رہتاتھاجو اندر ہی اندر اس کو کمزور کر رہا تھا۔شہری اور سماجی تنظیمیں بار بار یہ کہہ رہیں تھیں کہ گڑھوں اورمخدوش حصوں میں پانی گھسنے سے سلیب مزید خستہ ہوگا اوراس سے بریج مزید کمزور ہوجائے گالیکن انتظامیہ بے حس بنا ریا۔
 بالآخر شہریوں اور سماجی تنظیموں کا خدشہ ۵؍ستمبر۲۰۱۸ء اس وقت سچ ثابت ہوا جب راجیو گاندھی فلائی اوور کا وہ حصہ ٹوٹ کرنیچے گرگیا جہاں مسلسل کئی برسوں سے بارش کا پانی جمع رہتا تھا۔ فلائی اوورکاملبہ گرنے کے بعداس کی مرمت کیلئے ۲۰؍دنوں کیلئے بند کردیا گیا تھا۔ ٹریفک کیلئے بند کرکے اس کے اسٹریکچر آڈٹ کا کام وی جے ٹی آئی کو سونپا گیا تھا۔ وی جے ٹی آئی کے انجینئرز کی رپورٹ آنے تک انتظامیہ نے گنیش اتسواور محرم جیسے تہواروں کے موقع پریشان شہریوں کوراحت پہنچانے کے مقصد سے۲۱؍ستمبر کو عجلت میں اس فلائی اوور کی عارضی مرمت کے بعداسے ٹرافک کیلئے کھول دیاگیاتھا۔تاہم وی جے ٹی آئی نے اپنی فائنل رپورٹ میں راجیو گاندھی فلائی اوور کو خستہ حال قرار دیکر پورے فلائی اوور کی مرمت کا مشورہ دیا ہے۔جس کے بعد انتظامیہ نے ۲۴؍جون ۲۰۱۹ء کو اس پر سے  بڑی گاڑیوں کے گزرنے پر پابندی عائد کردی۔جو اب تک جاری ہے۔میونسپل انتظامیہ کے مطابق بارش سے قبل نصف فلائی اوور کی مرمت کی گئی ہے۔بقیہ حصے کی مرمت بارش کے بعد دوبارہ شروع کی جائے گی۔

bhiwandi Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK