بھیونڈی:بجلی کے نرخوں میں سبسیڈی کیلئے ۲؍اکتوبرتک رجسٹریشن لازمی

Updated: September 25, 2021, 8:21 AM IST | Khalid Abdul Qayyum Ansari | Mumbai

۲۷؍ہارس پاور سے کم بجلی استعمال کرنے والے پاور لوم مالکان کا بجلی کے نرخ میں مراعات کیلئے آن اور آف لائن رجسٹریشن منسوخ کرنے کا مطالبہ

Failure to apply may result in loss of electricity subsidy to the bunkers.Picture:Inquilab
درخواست نہ دینےپر بنکروں کو بجلی میں دی جانے والی سبسیڈی سے محروم ہونا پڑسکتا ہے۔ تصویر انقلاب

: ۲۷؍ ہارس پاور سے کم بجلی استعمال کرنے والے پاور لوم مالکان کو بجلی کی نرخوں  میں سبسیڈی دی جاتی ہے۔اس سبسیڈی کوپانے کیلئے حکومت نے ۲؍اکتوبر سے پہلے آن لائن درخواست دینے کی اپیل کی ہے اوردرخواست داخل نہ کرنے والے بنکروں کو بجلی سبسیڈی سے محروم کرنے کاانتباہ دیا ہے۔واضح  رہےکہ ۲۰۱۸ء میں بی جے پی- شیوسینا کی حکومت نے بجلی کی سبسیڈی حاصل کرنے کیلئے آن لائن  درخواست دینے کی شرط نافذ کی تھی۔اس آن لائن درخواست میں اس قدر پیچیدگیاں تھیں کہ اس نے بنکروں کی نیند اُڑادی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ درخواست میں نام ،جگہ مالک،میٹر کنکشن میں یکسانیت کے ساتھ ہی برسوں پرانے کئی دستاویز طلب کئے گئے تھے جس کی حصولیابی بنکروں کیلئے ناممکن تھی۔بنکروں کی ناراضگی اور سیاسی لیڈران کے احتجاج کو دیکھتے ہوئے اس وقت کی بی جے پی حکومت نے اسے الیکشن تک سرد خانے  میں ڈال دیا تھا ۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ اس وقت بھی مغربی حلقہ میں بی جے پی کے رکن اسمبلی مہیش چوگلے تھے۔بنکروں کا کہنا ہے کہ اگر اس وقت وہ اس جی آر کو منسوخ کرنے کی سنجیدہ کوشش کرتے اور بی جے پی کے اعلیٰ لیڈران سے اچھے مراسم ہونے کے سبب اگر وہ اپنے حلقہ انتخاب کے اس اہم مسئلے کو بہتر انداز میں پیش کرتے تو بہت ممکن تھا کہ یہ جی آر اس وقت ہی رد کردیاجاتا۔
 بنکروں کو رکن پارلیمان کپل پاٹل سے بھی شکوہ ہے کہ وہ بی جے پی کے طاقتور لیڈر ہونے کے باوجودانہوں نے  بنکروں کے اس مسئلے کو حل کرنے میں دلچسپی نہیں دکھائی۔ حکومت تبدیل ہونے کے بعد نئی حکومت نے رجسٹریشن کیلئے  آف لائن درخواست بھی قبول کرنا منظور کرلیا ہےلیکن اس سے بھی بنکروں کے مسائل جوں کی توں برقرار  ہیں۔
 پاور لوم مالکان کے مسائل کو دیکھتے ہوئے مشرقی حلقہ کے رکن اسمبلی رئیس قاسم شیخ نے ریاستی وزیر برائے ٹیکسٹائل اسلم شیخ کو میمورنڈم دےکر ۲۷؍ہارس پاور سے کم بجلی استعمال کرنے والے بنکروں کو بجلی کے نرخوں میں دی جانے والی سرکاری مراعات کیلئے درکار آن لائن  اور آف لائن اندراج کے عمل کو منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا۔انہوں نے یہ بھی کہا  ہے کہ بھیونڈی کو ہندوستان کا مانچسٹر کہا جاتا ہے  ۔یہاں چھوٹے چھوٹے شیڈس میں ایک یا کئی افراد مل کر پاور لوم چلا کر اپنے اہل خانہ کی کفالت کرتے ہیں۔ان کیلئے آن لائن یا آف لائن رجسٹریشن کا عمل تقریبا ناممکن ہے اس لئے اس جی آر کو منسوخ کردیا جائے۔   
 سابق رکن اسمبلی عبدالرشید طاہر مومن نے ریاستی سرکار کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ اس سے پہلے جب بھی پاور لوم مالکان کوسبسیڈی یاکوئی دوسری سہولت ملتی تھی تو وہ سیدھا بجلی کے  بل میں ایڈجسٹ ہوکر بنکروں کو مل جاتی تھی لیکن بی جے پی کی اس غریب مخالف سرکار نے پہلی مرتبہ سبسیڈی حاصل کرنے کیلئے آن لائن ایپلیکیشن دینے کی شرط عائد کردی تھی جو بنکروں کیلئے کسی سردرد سے کم نہیں ہے۔ انہوں نےیہ بھی  کہا کہ پارچہ بافی کیلئے مشہور اس شہر کے باشندوں کااصل ذریعۂ معاش پاور لوم ہے۔پاور لوم کو بجلی کے نرخوں میں سرکار کی جانب سے دی جانے والی مراعات حاصل کرنے کیلئے آن لائن یا آف لائن رجسٹریشن کیلئے درکار شرائط و ضوابط کافی دشوار ہے۔لہٰذا حکومت رجسٹریشن کے عمل کو منسوخ کرے۔

bhiwandi Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK