اساتذہ کی تنظیم کا ثانوی اور اعلیٰ ثانوی درجات میں بھی ٹی ای ٹی لازمی قرار دینے پر سوال، کم از کم نمبروں میں نرمی کا مطالبہ کیا۔
ٹی ای ٹی ۔ تصویر:آئی این این
ریاست میں ٹی ای ٹی سے متعلق عدالتی فیصلے کے بعد دی گئی دو سالہ مہلت کے دوران ترقیاتی عمل میں سینئریٹی کو نظرانداز کئے جانے پر اساتذہ میں تشویش پائی جارہی ہے۔ مہاراشٹر راجیہ شکشن کرانتی سنگٹھن نے الزام عائد کیا ہے کہ بعض مقامات پر خالی ہونے والے عہدوں پر سینئر اساتذہ کو نظرانداز کر کے جونیئر مگر ٹی ای ٹی کامیاب اساتذہ کو ترقی دی جا رہی ہے جو مہاراشٹر نجی اسکول ملازمین قواعد۱۹۸۱ء (ضمیمہ ایف) کے منافی ہے۔تنظیم کے ریاستی صدر سدھیر گھاگس نے ریاستی وزیر تعلیم دادا بھسے اور محکمۂ اسکولی تعلیم کے پرنسپل سیکریٹری رنجیت سنگھ دیول کو پیش کردہ میمورنڈم میں کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق ٹی ای ٹی امتحان کیلئے ۲؍ سال کی مہلت دی گئی ہے تاکہ ایسے اساتذہ جو اب تک امتحان میں کامیاب نہیں ہو سکے ہیں، انہیں مناسب موقع مل سکے۔ تاہم اس عبوری مدت میں ترقی کے معاملات میں سینئریٹی کو نظرانداز کرنا نہ صرف قواعد کی خلاف ورزی ہے بلکہ برسوں سے خدمات انجام دینے والے اساتذہ کے ساتھ ناانصافی بھی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ قواعد۱۹۸۱ء کے ضمیمہ ’ایف‘ کے مطابق سینئریٹی کا معیار مسلسل خدمات کی تاریخ ہے اور برسوں سے ترقی اسی بنیاد پر دی جاتی رہی ہے۔
تنظیم نے مطالبہ کیا ہے کہ دو سالہ مہلت کے دوران سینئر اساتذہ کے حقِ ترقی کو برقرار رکھا جائے اور اگر ضروری ہو تو ترقی کو ٹی ای ٹی کامیابی کی شرط سے مشروط کیا جائےمگر سینئریٹی کو نظرانداز نہ کیا جائے۔بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ حقِ تعلیم قانون (آر ٹی ای) صرف۶؍ تا ۱۴؍ سال کی عمر یعنی جماعت اوّل تا ہشتم تک محدود ہے، اس کے باوجود بعض تعلیمی افسران ثانوی اور اعلیٰ ثانوی اسکولوں میں بھی ترقی کیلئے ٹی ای ٹی کو لازمی قرار دے رہے ہیں جس سے ابہام کی صورت حال پیدا ہو رہی ہے۔ تنظیم کے مطابق آر ٹی ای کا اطلاق ثانوی اور اعلیٰ ثانوی درجات پر نہیں ہوتا، اس لئے اس سلسلے میں حکومت کی جانب سے واضح اور تحریری ہدایت جاری کی جانی چاہئے تاکہ کنفیوژن کا خاتمہ ہو سکے۔تنظیم نے ٹی ای ٹی میں کامیابی کیلئے مقررہ کم از کم نمبروں میں نرمی کی بھی تجویز پیش کی ہے۔ موجودہ ضابطے کے مطابق عام زمرے کے امیدواروں کیلئے ۱۵۰؍ میں سے ۹۰؍ (۶۰؍فیصد) اور محفوظ زمرے کیلئے ۸۳ (۵۵؍فیصد) نمبر لازمی ہیں جبکہ تنظیم نے دونوں زمروں کیلئے یکساں طور پر۴۰؍ فیصد یعنی۶۰؍ نمبر طے کرنے کی سفارش کی ہے۔
یاد رہے کہ آر ٹی ای کے نفاذ کے بعد فروری۲۰۱۳ء سے ٹی ای ٹی کو لازمی قرار دیا گیا تھا جبکہ اس تاریخ سے قبل تقرر پانے والے اساتذہ کو متعلقہ شُدھی پتر کے تحت استثنا ءدیا گیا تھا۔