گزشتہ سال یہاں آلودہ پانی پینے سے ۱۳؍ افراد فوت ہو گئے تھے ، عدالت نے خطے میں کئے گئے اقدامات کی رپورٹ طلب کی
EPAPER
Updated: April 24, 2026, 11:57 PM IST | Mumbai
گزشتہ سال یہاں آلودہ پانی پینے سے ۱۳؍ افراد فوت ہو گئے تھے ، عدالت نے خطے میں کئے گئے اقدامات کی رپورٹ طلب کی
ودربھ کے ضلع امراوتی میں واقع میل گھاٹ ایک قبائلی اور پسماندہ علاقہ ہے جہاں بنیادی سہولیات کا فقدان ہے اور پانی کی شدید قلت ہے۔ گزشتہ سال یہاں آلودہ پانی پینے سے ۱۳؍ افراد کی موت واقع ہو گئی تھی۔ اس تعلق سے بامبے ہائی کورٹ میں ایک عرضداشت داخل کی گئی تھی جس کی سماعت کے دوران عدالت نے انتظامیہ پر سخت برہمی کا اظہار کیا اور میل گھاٹ میں کئے جانے والے انتظامات کی رپورٹ پیش کرنےکا حکم دیا ہے۔
یاد رہے امراوتی ضلع کے میل گھاٹ اور اطراف کے قبائلی علاقوں میں غذائی قلت اور طبی سہولیات کے فقدان کے خلاف سماجی رضا کار بنڈو سانے اور ڈاکٹر راجندر بورم نے سینئر وکیل جگل کشور گلڈا کی معرفت بامبے ہائی کورٹ میں ایک عرضداشت داخل کی تھی ۔ ایک روز قبل ہائی کورٹ کی دو رکنی بنچ کے جسٹس رویندر وی گھوگے اور ہیتن ایس وینیگاوکر نے معاملے کی سماعت کی۔ اس دوران وکیل جگل کشور گلڈا نے عدالت کو بتایا کہ گزشتہ سال موسم باراں میں میل گھاٹ میں آلودہ پانی پینےکے سبب ۸۶؍ افراد بیمار ہو گئے تھے جنہیں اسپتال میں داخل کیا گیا تھا۔ علاج کےد وران ان میں سے ۱۳؍ قبائلیوں کے موت ہو گئی تھی۔ وکیل نے مزید کہا کہ ’’موسم گرما کے آغاز کے ساتھ ہی خطے میں کنویں خشک ہوجاتے ہیںجسکی وجہ سے پمپ آپریٹرس بھی پریشان ہوجاتے ہیں ۔ وہیں حکومت نے پمپ آپریٹروں کا ۳۱؍ لاکھ بقایا بھی ادا نہیں کیا ہے جس کی وجہ سے پانی کی فراہمی مزید متاثر ہوتی ہے ۔‘‘ دوسری طرف حکومت کی جانب سے گزشتہ سال آلودہ پانی پینے سے ہو ئی اموات پر صفائی پیش کرتے ہوئے عدالت کو بتایا کہ ’’ اس سلسلہ میں متاثرین کے اہل خانہ کو معاوضہ دیا گیا ہے ۔ تاہم پمپ آپریٹروں کے واجبات کی ادائیگی کے سلسلہ میں حکومت سے احکامات حاصل کرنے کے بعد عدالت کو آگاہ کیا جائے گا ۔‘‘ اس پرکورٹ نے سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’’ ہمیں افسوس اور تشویش ہے کہ غذائی قلت سے ہونے والی اموات کے بعد قبائلیوں کو پانی کی قلت یا آلودہ پانی کے سبب اپنی جان سے ہاتھ دھونا پڑے گا ۔ساتھ ہی یہ بھی افسوسناک بات ہے کہ حکومت آلودہ پانی پینے سے فوت ہونے والوںکے اہل خانہ کو مناسب معاوضہ دینے کا دعویٰ تو کررہی ہے لیکن کتنا معاوضہ دیا گیا ہے اس کی تفصیلات بیان نہیں کی گئی ہے ۔‘‘
عدالتنےمزید کہا کہ ’’ گرمی کے بڑھنے اور مانسون کے قریب آنے کے ساتھ ہی قبائلی علاقوں میں پانی کے مسائل میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے ۔‘‘ تاہم عدالت نے پانی کے مسئلہ کو فوری طو رپر حل کرنے اور قبائلیوں کے لئے صاف و شفاف پانی فراہم کرنے کو یقینی بنانے کی ہدایت دی ۔نیز دو رکنی بنچ نے میل گھاٹ کے دھرنی، چکھل دھرا اور چورنی و دیگر علاقوںمیں غذائی سمیت کے سبب بچوں کی ہونے والی اموات پر قابو پانے ، اسپتالوں میں طبی انتظامات کو بہتر بنانے ، عدالت کے احکامات کی تکمیل کرنے اور مسائل کو حل کرنے کیلئے کئے گئے اقدامات اوروہاں موجود مسائل پر تیار کی جانے والی رپورٹ عدالت کے روبرو پیش کرنے کا حکم دیا۔ اس معاملے کی اگلی سماعت ۲۹؍ اپریل کو ہوگی۔