Inquilab Logo Happiest Places to Work

بھیونڈی : انجور پھاٹا، مانکولی، کشیلی اور کھارباؤ کے ٹریفک جام پر سخت ناراضگی

Updated: August 04, 2026, 12:45 PM IST | khalid Abdul Qayyum Ansari | Bhiwandi

ڈی سی پی) ٹریفک( کو میمورنڈم پیش کرکے بڑی گاڑیوں کے غیرقانونی داخلے اور مبینہ وصولی کی غیرجانبدارانہ جانچ کا مطالبہ کیا گیا۔

Corporator Vineeta Sunil Bhagat presenting a memorandum to DCP (Traffic) Pankaj Sharasath. Photo: INN
کارپوریٹر ونیتا سنیل بھگت ڈی سی پی (ٹریفک) پنکج شرساٹھ کو میمورنڈم پیش کرتے ہوئے۔ تصویر: آئی این این

یہاں شہر و مضافاتی علاقوں میں روزانہ لگنے والے ٹریفک جام نے شہریوں کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ خصوصاً انجور پھاٹا، مانکولی، کشیلی اور کھارباؤ کے علاقوں میں گھنٹوں تک رہنے والے جام سے طلبہ، ملازمت پیشہ افراد، مریضوں اور عام شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ اس صورتحال پر سخت تشویش ظاہر کرتے ہوئے کارپوریٹر ونیتا سنیل بھگت نے ڈپٹی کمشنر آف پولیس (ٹریفک) پنکج شرساٹھ سے ملاقات کرکے انہیں میمورنڈم پیش کیا ، جس میں بھاری(بڑی) گاڑیوں کے داخلے پر عائد پابندی پر سختی سے عمل درآمد کرانے اور مبینہ بے ضابطگیوں کی اعلیٰ سطحی جانچ کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: تھانے :غیرقانونی پوسٹرز اور بینرزکیخلاف کارروائی

میمورنڈم میں کہا گیا ہے کہ صبح ۸؍ بجے سے رات ۸؍بجے تک بھاری گاڑیوں کے داخلے پر پابندی نافذ ہونے کے باوجود متعلقہ شاہراہوں پر کھلے عام اس کی خلاف ورزی کی جا رہی ہے۔ الزام ہے کہ بعض ٹریفک اہلکار ان گاڑیوں سے فی گاڑی ۲؍ رسیدوں کی مد میں مجموعی طور پر ۶۰۰؍ روپے وصول کرکے انہیں شہر میں داخل ہونے کی اجازت دیتے ہیں۔ بعد ازاں انہی رسیدوں کی جانچ کے نام پر مختلف چوراہوں پر گاڑیوں کو روکنے سے ٹریفک کی روانی مزید متاثر ہوتی ہے اور کئی کئی گھنٹے طویل جام لگ جاتا ہے، جس کا خمیازہ قانون کی پابندی کرنے والے شہریوں کو بھگتنا پڑتا ہے۔

کارپوریٹر نے مطالبہ کیا ہے کہ اس پورے معاملے کی غیرجانبدارانہ اور شفاف تحقیقات کرائی جائے، اگر کسی افسر یا اہلکار کا کردار مشتبہ ثابت ہو تو اس کے خلاف سخت محکمہ جاتی اور قانونی کارروائی کی جائے۔ اس کے ساتھ ہی پابندی کے اوقات میں کسی بھی بھاری گاڑی کو شہر میں داخل نہ ہونے دیا جائے، اہم چوراہوں پر مؤثر ٹریفک مینجمنٹ نافذ کی جائے اور انجور پھاٹا، مانکولی، کشیلی اور کھارباؤ کے مستقل ٹریفک بحران کے حل کے لئے فوری اور ٹھوس اقدامات کئے جائیں۔ونیتا سنیل بھگت نے خبردار کیا کہ اگر شہریوں کو ٹریفک جام سے راحت دلانے کیلئے جلد مؤثر کارروائی نہیں کی گئی تو عوامی مفاد میں جمہوری طریقے سے احتجاجی تحریک شروع کی جائے گی جس کی تمام تر ذمہ داری متعلقہ انتظامیہ پر عائد ہوگی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK