بھیونڈی: اے پی جے عبدالکلام فلائی اوور کی حالت بھی خستہ

Updated: January 22, 2022, 8:01 AM IST | Khalid Abdul Qayyum Ansari | Mumbai

۶؍ سال قبل ہی اس پل کا افتتاح ہوا تھا۔ شہری انتظامیہ پراس تعلق سے توجہ نہ دینے کا الزام

Pits are being filled with tar on Dr. PJ Abdul Kalam flyover.Picture:Inquilab
ڈاکٹراے پی جے عبدالکلام فلائی اوور پر گڑھوں کو تارکول سے بھرا جارہا ہے۔ (تصویر: انقلاب)

یہاں میونسپل انتظامیہ کی مبینہ لاپروائی اور غفلت کے سبب  ونجار پٹی ناکہ پر تعمیر کیا گیا ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام فلائی اووربھی  راجیو گاندھی فلائی اوور کی طرح  خستہ حال ہوچکا ہے لیکن  شہری انتظامیہ کڑوروں روپوں کی لاگت سے تعمیر ہونے والے اس فلائی اوورکی زبو حالی پرآنکھیں بند کئے ہوئے ہے۔ حالانکہ ان دنوں فلائی اوور کے گڑھوں کو تارکول سے بھرنے کی کوشش کی جاری ہے لیکن ماہرین کے مطابق یہ پیچ ورک چند دنوں میں ہی ٹوٹ کر ایک مرتبہ پھر گڑھوں  میں تبدیل ہوجائے گا۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ  اس فلائی اوور کے افتتاح کو محض ۶؍برس ہی ہوئے ہیں۔
 بتایا جاتا ہے کہ ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام فلائی اوور پربھی  راجیو گاندھی فلائی اوور کی طرح  پانی کی نکاسی کا نظام ناقص ہونے کے سبب موسم باراں میں اس پر  پانی جمع رہتا تھا۔ اس سے  اس پل کی مضبوطی کو نقصان پہنچتا ہے۔شہریوں کو تشویش ہے کہ گڑھوں اورمخدوش حصوں میں پانی گھسنے سے سلیب مزید خستہ ہوگا اوراس سے بریج مزید کمزور ہوجائے گا۔حیرت کی بات یہ ہے کہ راجیو گاندھی فلائی اوور کی بدحالی کو دیکھنے کے بعد بھی شہری انتظامیہ نے کوئی سبق نہیں لیا۔ وہ اس سے اس قدر بے پرواہ ہے کہ فلائی اوور پر جمع پانی کی نکاسی کیلئے اقدامات کرنے کو بھی تیار نہیں ہے۔ اگر بریج سے پانی کی نکاسی کیلئے لگائے گئے پائپ کو ہر برس صاف کروادیا جائے اور فلائی اوور کی ہر سال بارش کے بعد اچھے سے مرمت کرائی جائے تو فلائی اوور اتنا خستہ نہیں ہوگا ۔
  پل کی خستہ حالی  کے معاملے پرمتعدد مرتبہ   آواز اُٹھنے کے بعد شہری انتظامیہ نے فلائی اوور کے گڑھوں کو بھرنے کا کام شروع کیا ہے۔میئر پرتبھا ولاس پاٹل کے شوہر سابق میئر ولاس پاٹل نے خود اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ تارکول سے گڑھوں کو بھرنے کا کوئی فائدہ نہیں ہے ۔ اس کے بعد بھی وہ فلائی اوور پر اپنی نگرانی میں پیوندکاری کا کام کروارہے ہیں۔اس پیوندکاری کے دوران ہی جب ذرائع ابلاغ کے نمائندوں نے ان سے گفتگو کی تو انہوں نے کیمرے پر خود تسلیم کیا کہ اس فلائی اوور کی وی جی ٹی آئی سے آڈٹ اور پھر اس کی راجیو گاندی فلائی اوور کی طرز پر کنکریٹ سے   مرمت کی ضرورت ہے۔
 حیرت کی بات یہ ہے کہ فلائی اوور کی تعمیر کے ۶؍برس کے بعد ہی کروڑوں روپوں کی لاگت سے تیار کردہ پل اگر خستہ حالی کا شکار ہوجائے تو اسے تعمیر  کرنے والے ٹھیکیداروں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جاتی ہے ۔اسی لئے شہریوں نے اس میں بڑے پیمانے  بدعنوانی کے سنگین الزامات عائد کئے ہیں۔
 ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام فلائی اوورکو اس وقت کے رکن اسمبلی عبدالرشید طاہر مومن کے مطالبے پر اس وقت کے وزیر اعلیٰ اشوک چوان نے منظوری دی تھی اور ان کے ہی دور میں اس کی تعمیر کا کام شروع ہوگیاتھا۔یہ  باغ فردوس سے شروع ہوکر ندی ناکہ تک جاتا ہے۔’پروجیکٹ ٹوڈے‘کی ویب سائٹ پر اپ لوڈ معلومات کے مطابق ’’ایم ایم آر ڈی اے کے ذریعہ بنایا گیا یہ فلائی اوور  ۷۹۵؍میٹر طویل ہے۔بعد میں اس شیواجی چوک اور ناسک  جانے کیلئے راستہ  بنادیا گیا جو بالترتیب ۳۸۰؍میٹر اور ۳۲۰؍میٹر طویل ہے۔ ۹؍اگست ۲۰۱۱ء کو جب اس کا ٹینڈر نکالا گیا تھا تواس کا تخمینہ۳۱ء۶؍ ؍کروڑ روپے تھا جو مکمل ہوتے    تقریبا۶۲؍کروڑروپوں تک پہنچ گیا۔ اس  فلائی اوور کا افتتاح ۲۵؍نومبر۲۰۱۵ء کو اس وقت کے وزیر اعلیٰ دیویندر فرنویس نے کیا تھا۔

bhiwandi Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK