بھیونڈی:خستہ حال راجیو گاندھی فلائی اوور کو شہری انتظامیہ نےمرمت کیلئے بندکردیا

Updated: October 16, 2021, 12:04 AM IST | Khalid Abdul Qayyum Ansari | bhiwandi

ٹریفک ڈپارٹمنٹ کے مطابق یہ پل آئندہ سال ۳۱؍ جنوری تک بند رہے گا۔ گاڑی والوں کو متبادل راستہ اختیار کرنے کی ہدایت ۔ محکمہ ٹریفک کے قوانین پر عمل کرنے کی بھی درخواست ۔ فلائی اوور کی دیکھ ریکھ کے معاملے میں شہری انتظامیہ پر لاپروائی کا الزام

Rajiv Gandhi Flyover which has been closed for repairs.Picture:Inquilab
راجیوگاندھی فلائی اوور جسے مرمت کیلئے بند کردیا گیا ہے۔ تصویر انقلاب

راجیو گاندھی فلائی اوور کی خستہ حالی کے سبب تنقیدوں کی زد پر رہنے والی بھیونڈی میونسپل کارپوریشن نے بالآخر اس کی مرمت کیلئے اسے ۲؍ماہ سے زائد عرصے کیلئے بندکردیا ہے۔اس دوران شہر میں بھاری گاڑیوں، ٹرکوں، ٹیمپو اور مال بردار  بڑی گاڑیوں کا داخلہ ممنوع کرکے انہیں متبادل راستہ دے دیا گیا ہےنیز راجیو گاندھی فلائی اوور سے منسلک کلیان روڈ پر نوتعمیر شدہ  بالا صاحب ٹھاکرے فلائی اوورسے شہر میں داخل ہونے والوں کیلئے بھی گائیڈ لائن جاری کی گئی ہے۔محکمہ ٹریفک نے شہریوں اور ڈرائیوروں سے اپیل کی ہے کہ وہ محکمہ ٹریفک کی جانب سے جاری کردہ قوانین پر عمل کریں۔ تھانے سٹی ٹریفک ڈپارٹمنٹ کے ڈی سی پی بالا صاحب پاٹل کے مطابق یہ پابندی ۳۱؍ جنوری۲۰۲۲ء  تک برقرار رہے گی۔
 تفصیلات کے مطابق باغ فردوس مسجد سے دھامنکر ناکہ،انجور پھاٹا، نئی بستی اورکلیان کی جانب جانے والی گاڑیوں کے راجیو گاندھی فلائی اوور سے گزرنے پر پابندی عائد کردی گئی ہے۔ان مقامات پر جانے والوں کو فلائی اوور کے نیچے سے ہوکرگزرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔اسی طرح  کلیان کی جانب سے آنے والی گاڑیوں کواگر باغ فردوس مسجد ہوکر آگے کی جانب جاناہے تو انہیں بالا صاحب ٹھاکرے فلائی اوور کا استعمال ممنوع قرار دیا گیا ہے لیکن اگر انہیں دھامنکر ناکہ کی جانب جانا ہے تو  بالا صاحب ٹھاکرے فلائی اوور سے ہوتے ہوئے راجیو گاندھی فلائی اورسے دھامنکر ناکہ تک جانے کی اجازت ہے۔
ٍ فلائی اوور کی مرمت کے دوران ونجار پٹی ناکہ سے دھامنکر ناکہ تک گاڑیوں کی رفتار سست ہو سکتی ہے۔ اس صورت میں ٹریفک جام سے بچنے کیلئے دیوجی نگر سے ندی ناکہ تک سڑک کے دونوں جانب ہر قسم کی گاڑیوں کی پارکنگ ممنوع (نو پارکنگ زون) قرار دیا گیا ہے۔ ٹریفک ڈپارٹمنٹ کے ڈی سی پی بالا صاحب پاٹل کے مطابق یہ پابندی ۱۱؍ اکتوبر۲۰۲۱ء سے نافذ کی گئی ہے اور ۳۱؍ جنوری ۲۰۲۲ء  تک جاری رہے گی۔ نوٹیفکیشن کے تحت پولیس، فائر بریگیڈ، ایمبولنس، راشن ،سبزی، ڈیزل، پیٹرول، گیس، پانی، دودھ، ادویات کی نقل و حمل میں استعمال ہونے والی گاڑیاں، منی اسکول بسیں اور تمام سرکاری نیم سرکاری اور دیگر ضروری خدمات میں شامل گاڑیاں اس پابندی سے مستثنیٰ ہیں۔
 واضح رہے کہ کلیان ناکہ سے ونجار پٹی ناکہ تک ٹریفک کی سنگین صورتحال کے پیش نظر بھیونڈی نظام پورشہرمیونسپل کارپوریشن نے رامیشور مندر سے لے کر باغ فردوس مسجد تک تقریبا سواکلومیٹر طویل راجیو گاندھی فلائی اوور تعمیر کیاتھا۔میسرس جے کمار اینڈ کمپنی کے ذریعے ۲۰۰۳ء سے۲۰۰۶ء تک ،۳؍ برس میں اسے  تعمیر کیا گیا۔ اس کاتخمینہ ۱۴؍کروڑ ۹۴؍لاکھ ۵۵؍ ہزار ۳۲۱؍ روپے تھا جوفلائی اوور مکمل ہوتے ہوتے  ۷؍ کروڑ روپوں  کے اضافے کے ساتھ اس کی مجموعی لاگت ۲۱؍ کروڑ ۹۷؍ لاکھ ۶۲؍ ہزار ۶۸؍ روپے تک پہنچ گئی۔ اس فلائی کاافتتاح ۳۰؍ اپریل ۲۰۰۶ء کواس وقت کے وزیراعلیٰ آنجہانی ولاس راؤ دیشمکھ نے کیا تھا۔ بتایا جاتا ہے کہ مذکورہ فلائی اوور بننے کے بعد سے ہی میونسپل کارپوریشن نے اس کی دیکھ بھال میں مجرمانہ حد تک لاپروائی کی جس کے نتیجے میں فلائی اوورمحض ۱۳؍برس میں ہی  خستہ حال ہوگیا ۔اس کی سڑک کئی جگہوں پر اُکھڑگئی تھیںجس سے سلیب نظر آنے لگا تھا۔کئی جگہوں پرسلاخیں بھی نظر آنے لگی تھیں لیکن شہری انتظامیہ نے شہر کے اس اثاثے پر کوئی خاص توجہ نہیں دی جس سے سڑک مخدوش ہونے اور دراڑیں آنے کی خبریں موصول ہونے لگی تھیں۔حد تو یہ ہے کہ موسم باراںمیں  یہاں بڑے بڑے گڑھوںمیں پانی بھرا رہتاتھاجو اندر ہی 

 

اندر اس کو کمزور کررہا تھا۔  شہری اور سماجی تنظیمیں بار بار یہ کہہ رہیں تھیں کہ گڑھوں اورمخدوش حصوں میں پانی گھسنے سے سلیب مزید خستہ ہوگا اور اس سے بریج مزید کمزور ہوجائے گالیکن شہری انتظامیہ نے مبینہ طورپر بے حسی کا مظاہرہ کیا جس سے لوگ ناراض ہیں۔
  حیرت کی بات یہ ہے کہ شہری انتظامیہ نے فلائی اوور پر پانی کی موجودگی کو کوئی اہمیت اس وقت بھی نہیں دی جب  ۲۰۱۳ء میں اس وقت کے سٹی انجینئر مرحوم شان علی سید نے۱۷؍اگست ۲۰۱۳ء کوفلائی اوور بنانے والی کمپنی کو خط لکھ کرراجیو گاندھی فلائی اوور کے خطرناک حد تک ہلنے  اور اس کے اندر سے کچھ آوازیںآنے سے متعلق  اطلاع دے کر تشویش کااظہار کیا تھا،جس کے بعد متعلقہ کمپنی کی ’ایم ایس پھسکے اینڈ اسوسی ایٹس‘کے انجینئروں کی ایک ٹیم نے اس کی جانچ کے بعد ۲۸؍اگست ۲۰۱۳ء کوسٹی انجینئر کے شبہات کو بے بنیاد بتا کر فلائی اوور کو شہریوں کیلئے بالکل محفوظ بتایا تھالیکن اسی خط میں ’ایم ایس پھسکے اینڈ اسوسی ایٹس‘ نے کارپوریشن انتظامیہ کو متنبہ کرتے ہوئے لکھا تھا کہ فلائی اوور کی مضبوطی کیلئے ضروری ہے کہ ہرسال مانسون سے قبل اس کے ڈرینج لائن کو صاف رکھا جائے۔ کنسلٹنگ انجینئرس کے اس واضح پیغام کوبھی میونسپل انتظامیہ نے بالکل نظرانداز کردیا تھا۔

bhiwandi Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK