تپ دق کے خاتمہ کیلئے منعقدہ تربیتی ورکشاپ سے ماہر ڈاکٹروں کا خطاب ،نجی ڈاکٹروں کو ذمہ داریاںیاد دلائی گئیں۔
شہر میں ٹی بی کا علاج کرنے والے متعدد ڈاکٹر ورکشاپ میں شریک رہے۔ تصویر:آئی این این
نیشنل ٹیوبرکیولوسس ایلیمنیشن پروگرام (این ٹی ای پی) کے تحت منعقدہ ایک تربیتی ورکشاپ میں ماہرین صحت نے اس امر پر زور دیا کہ ملک سے تپِ دق (ٹی بی) کے مکمل خاتمے کے لیے نجی طبی شعبے کی فعال اور ذمہ دارانہ شمولیت انتہائی ضروری ہے ۔ ورکشاپ کا مرکزی محور نجی ڈاکٹروں کے کردار، ذمہ داریوں اور سرکاری نظام صحت کے ساتھ مؤثر اشتراک کو فروغ دینا تھا۔ورکشاپ کے دوران شرکاء کو ہدایت دی گئی کہ ٹی بی نوٹیفکیشن کا لازمی اندراج یقینی بنایا جائے، کیونکہ بروقت اور درست رپورٹنگ بیماری کی نگرانی اور کنٹرول کیلئے بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔
ماہرین نے ملٹی ڈرگ ریزسٹنٹ ٹی بی (ایم ڈی آر ٹی بی) کی بروقت تشخیص اور معیاری علاج کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ تاخیر کی صورت میں مرض کے پھیلاؤ کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔اس کے علاوہ کانٹیکٹ ٹریسنگ کے مؤثر نفاذ، نکشے متر یوجنا کے تحت سماجی و عوامی تعاون کے فروغ اور پریزمپٹیو ٹی بی کیس کی بروقت شناخت کے عملی پہلوؤں پر تفصیلی رہنمائی فراہم کی گئی ۔ مقررین نے واضح کیا کہ ٹی بی کے خاتمے کا قومی ہدف اسی صورت ممکن ہے جب سرکاری اور نجی شعبہ صحت باہمی اعتماد، معلومات کے تبادلے اور مربوط حکمت عملی کے تحت مشترکہ طور پر کام کریں۔ورکشاپ کے اختتام پر اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ اجتماعی کوششوں اور پیشہ ورانہ ذمہ داری کے ذریعے ٹی بی کے خاتمے کے ہدف کو یقینی بنایا جائے گا۔