بھیونڈی:مرمت کیلئے راجیو گاندھی فلائی اوور بند ہونے سے ٹریفک کا مسئلہ سنگین

Updated: October 23, 2021, 8:25 AM IST | Khalid Abdul Qayyum Ansari | Mumbai

منٹوں کے سفرکو گھنٹوں لگ رہے ہیں،ٹریفک کے عذاب سے پریشان افراد متبادل اور مختصر راستوں کا استعمال کررہے ہیں ، دور کا راستہ اختیار کرنے پر بھی مجبور، مرمت کا کام جنگی پیمانے پر کرنے کی شہری انتظامیہ سے درخواست

Vehicles are seen stuck in traffic in Bhiwandi.Picture:Inquilab
بھیونڈی میں گاڑیاں ٹریفک میں پھنسی نظر آرہی ہیں۔ (تصویر: انقلاب)

بھیونڈی:خستہ حال راجیو گاندھی فلائی اوور کی مرمت کیلئے ۲؍ماہ سے زائد عرصے کیلئے اسے بند کرنے کردیاگیا ہےجس کے سبب ٹریفک کا نظام بری طرح متا ثر ہوا ہے۔اتنےطویل عرصے کیلئے فلائی اوور بند کردینے کے سبب اس سڑک سے گزرنے والے شہریوں کو شدید ذہنی و جسمانی مشقت برداشت کرنی پڑرہی ہے۔واضح رہےکہ راجیو گاندھی فلائی اوورسے گاڑیوں کی آمدورفت پر پابندی کے باعث دن بھرونجار پٹی ناکہ سے باغ فردوس ،وہاں سے ایس ٹی اسٹینڈ،زکات ناکہ اور راجیو گاندھی چوک  سے کلیان روڈتک ٹریفک کااژدہام رہتا ہے۔اس کی وجہ سے اطراف کی سڑکوں پر موٹر گاڑیوں کے بے پناہ رش سے شہریوں کا چلناپھرنا دوبھر ہوگیا ہے۔عالم یہ ہے کہ ۱۰؍منٹ کا راستہ عبور کرنے کیلئے ایک ایک گھنٹہ لگ جاتا ہےجس کے سبب شہریوں کو شدید دشواریوں کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ٹریفک کے اژدہام کو دیکھتے ہوئے مقامی افراد نے متبادل اور مختصر راستوں کا انتخاب شروع کردیا ہےجس کے تحت رکشا ،موٹر سائیکل اور چھوٹی سواریوں نے باغ فردوس مسجد سے ہوتے ہوئے نظام پورہ اور وہاں سے کوٹر گیٹ مسجد ،جبکہ ٹرک اورمال برداربڑی گاڑیاں کھنڈوپاڑہ ،نائیگاؤں روڈ اور شانتی نگرسے ہوتے ہوئے زکات ناکہ تک کا سفر کررہی ہیں۔شہری اس بھیانک ٹریفک میں پھنسنے کے بجائے دور کا راستہ اختیار کرنے  پر بھی مجبور ہوگئے ہیں۔ایسا سوچنے والوں کی کثیر تعداد ہونے کے سبب  ان راستوں پر بھی ٹریفک کا نظام متاثر ہورہا ہے۔
 رکشا ڈرائیور منور انصاری نے بتایا کہ ’’عام طورپر درگاہ دیوان شاہ سے ونجار پٹی تک کا سفر۱۵؍منٹ یا اس سے کچھ زائد وقت میں طے کیا جاتا ہے لیکن جب سے راجیو گاندھی فلائی اوور مرمت کیلئے بند ہوا ہے ، ٹریفک کے سبب ۱۵؍منٹ کا یہ سفر ایک سے ڈیڑھ گھنٹوں میں  ہو رہا ہے جس سے مسافروں اور  گاڑی والوں کوشدید دشواریوں کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔بالخصوص دوپہر ۱۲؍ بجے سے ڈیڑھ بجے تک تو چلنا پھر دوبھر ہوجاتا ہے جس کے سبب دوپہر میں وہ رکشا کھڑا کردیتے ہیں۔‘‘ روشن باغ میں رہنے والے عادل انصاری کے مطابق ٹریفک کے اژدہام کے سبب انہوں نے دھانکر ناکہ سے ونجار پٹی یا ایس ٹی ڈپوتک  متبادل راستوں سے ہوکر جاتے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ اس طرح  انہیں ٹریفک کے عذاب سے تو نجات مل جاتی ہے لیکن پیٹرول کافی جل جاتا ہےجس کا اثرا ن کی جیب پر پڑرہا ہے۔
 شمع نگر کے سماجی کارکن خرم اقبال انصاری نے بتایا کہ ۱۳؍برس میں کسی فلائی اوور کا یوں خستہ حال ہوجانا اپنے آپ میں ایک ریکارڈ ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب ۲۰۱۳ء میں ہی اس وقت کے سٹی انجینئر شان علی سید کے خط کے جواب میںفلائی اوور کی تعمیر کرنے والی کنسلٹنگ انجینئر،’ ایم ایس پھسکے اینڈ اسوسی ایٹس‘نے میونسپل کارپوریشن کو متنبہ کیا تھا کہ فلائی اوور پر پانی کی موجودگی اس کی مضبوطی کیلئے انتہائی مضر ہےتو اس اطلاع کے بعد ہر سال موسم باراں سے قبل شہری انتظامیہ روزانہ رات کو فلائی اوور بند کرکے اس کی مرمت کروادیتا تواتنے قلیل عرصے  میں فلائی اوور اس قدر خستہ حال نہیں ہوتا۔انہوں نے انتظامیہ سے درخواست کی کہ شہریوں کی پریشانی کو دیکھتے ہوئے مرمت کا کام جنگی پیمانے پر کیا جائے تاکہ شہریوں کو جلد سے جلد ٹریفک کے عذاب سے نجات مل سکے۔
 ارشاد احمد عبدالرشید خان نے بتایا کہ انتظامیہ کو چاہئے تھا کہ فلائی اوور بند کرنے سے قبل ونجار پٹی ناکہ سے راجیو گاندھی چوک تک غیرقانونی قبضوں اور رکشا،کار ،موٹر سائیکل اور دیگر مال بردار گاڑیوں کی غیرقانونی پارکنک کو مکمل طور پر سختی سے بند کردیا جاتا۔ٹریفک کو روانی سے چلانے کیلئے جگہ جگہ ٹریفک اہلکار تعینات کئے جانے چاہئے۔ انہوں  نےمزید کہا کہ ٹریفک قوانین پر عمل نہ کرنے والوں پر سخت کارروائی سے ٹریفک کا نظام درست ہوسکتا ہے۔ درگاہ روڈ کے سماجی کارکن ارشاداحمد 


جواد احمد (جے ڈی) عوامی املاک کو یوں برباد ہوتا دیکھ کر سخت رنجیدہ ہیں۔انہوں نے کہا کہ اگر ہم کسی بھی وجہ سے شہر میں کوئی نئی چیز نہیں بنا سکتے تو کم از کم یہ تو کرہی سکتے ہیں کہ اپنے اثاثوں کی حفاظت کریں۔
 یاد رہے کہ راجیو گاندھی فلائی اوور کی خستہ حالی کے سبب تنقیدوں کا سامنا کرنے  والی میونسپل کارپوریشن نے اس کی مرمت کیلئے ۱۱؍ اکتوبر۲۰۲۱ء سے  ۳۱؍ جنوری۲۰۲۲ء  تک اسے بند کرنے کردیا ہےجس کے سبب باغ فردوس مسجد سے دھامنکر ناکہ،انجور پھاٹا،نئی بستی اورکلیان کی  طرف جانے والی گاڑیوں کو راجیو گاندھی فلائی اوور سے گزرنے پر پابندی عائد کردی گئی ہے۔ان مقامات پر جانے والوں کو فلائی اوور کے نیچے سے ہوکرگزرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔اسی طرح  کلیان کی جانب سے آنے والی گاڑیوں کواگر باغ فردوس مسجد ہوکر آگے  کی جانب جاناہے تو انہیں بالا صاحب ٹھاکرے فلائی اوور کے بجائے نیچے سے گزر کر اپنی منزل تک پہنچنا ہوگاجس کے سبب سڑکوں پرٹریفک کا بوجھ بڑھ گیا ہے۔فلائی اوور کے نصف حصے کے استعمال کی اجازت صرف ان شہریوں کو دی گئی ہے جو دھامنکر سے کلیان کی جانب جانا چاہتے ہیں۔اسی طرح کلیان سے آنے والوں کووہ  ڈرائیور جنہیں دھامنکر ناکہ جانا ہو، انہیں  بالا صاحب ٹھاکرے فلائی اوور سے ہوتے ہوئے راجیو گاندھی فلائی سے دھامنکر ناکہ تک جانے کی اجازت دی گئی ہے۔

bhiwandi Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK