بھیونڈی نظام پور میونسپل کارپوریشن کی خصوصی جنرل باڈی میٹنگ اس وقت ہنگامہ خیز بن گئی جب ۱۱۷۹؍کروڑ روپے کے مجوزہ بجٹ پر بحث کے دوران کارپوریٹروں نے پراپرٹی ٹیکس وصولی، کچرا انتظامیہ اور غیر قانونی تعمیرات کے معاملات پر انتظامیہ کو کٹہرے میں کھڑا کر دیا۔
خصوصی جنرل باڈی میٹنگ کاایک منظر- تصویر:آئی این این
بھیونڈی نظام پور میونسپل کارپوریشن کی خصوصی جنرل باڈی میٹنگ اس وقت ہنگامہ خیز بن گئی جب ۱۱۷۹؍کروڑ روپے کے مجوزہ بجٹ پر بحث کے دوران کارپوریٹروں نے پراپرٹی ٹیکس وصولی، کچرا انتظامیہ اور غیر قانونی تعمیرات کے معاملات پر انتظامیہ کو کٹہرے میں کھڑا کر دیا۔ تقریباً ساڑھے ۶؍ گھنٹے جاری رہنے والے اس اجلاس میں نہ صرف تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا بلکہ کئی اہم انکشافات اور الزامات بھی سامنے آئے۔اس خصوصی اجلاس میں کمشنر انمول ساگر کی جانب سے میئر نارائن چودھری کو بجٹ پیش کیا گیا، جس کے بعد ایوان میں بحث کا سلسلہ شروع ہوا۔
کارپوریٹروں نے یک زبان ہو کر کہا کہ پراپرٹی ٹیکس کی وصولی انتہائی کمزور ہے اور ریکارڈ کی بدانتظامی، ڈپلیکیٹ اندراجات اور کئی جائیدادوں کے اندراج نہ ہونے کے سبب بقایاجات مسلسل بڑھتے جا رہے ہیں، جو میونسپل کارپوریشن کی مالی حالت کیلئے خطرہ بن چکا ہے۔متعدد کارپوریٹروں نے غیر قانونی تعمیرات کے خلاف سخت ترین کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ جرمانے ناکافی ہیں، لہٰذا ۵؍ کے بجائے۵۰؍ گنا جرمانہ عائد کیا جائے تاکہ خلاف ورزیوں پر قابو پایا جا سکے۔ اس کے ساتھ ہی قانونی تعمیرات کیلئے ’ون ونڈو اسکیم‘ نافذ کرنے کی تجویز بھی پیش کی گئی تاکہ شہریوں کو پیچیدہ نظام سے نجات مل سکے۔
فراز بہاؤالدین نے گھریلو ٹیکس کے ساتھ سیوریج اور پانی کے ٹیکس میں اضافی وصولی پر سخت اعتراض کرتے ہوئے اسے عوام پر مالی بوجھ قرار دیا۔ جواب میں ڈپٹی کمشنر بالکرشن شیرساگر نے وضاحت دی کہ جی آئی ایس سروے کے ذریعے متنازع اور ڈپلیکیٹ جائیدادوں کی نشاندہی کی جا رہی ہے جس سے آئندہ دنوں میں آمدنی میں خاطر خواہ اضافہ ممکن ہوگا۔ پوگاؤں علاقے میں صنعتی زون کے ساتھ بڑے پیمانے پر لاجسٹک ہب تیزی سے ترقی کر رہا ہے، تاہم کارپوریٹر سنتوش شیٹی نے الزام عائد کیا کہ جھوپڑا نمبر جاری کرکے غیر قانونی تعمیرات کو فروغ دیا جا رہا ہے۔ اس پر میونسپل کمشنر انمول ساگرنے فوری کارروائی کی ہدایت دیتے ہوئے ڈپٹی کمشنر وکرم دراڑے کو بدھ سے غیر قانونی تعمیرات ہٹانے کی مہم شروع کرنے کا حکم دیا۔
کچرا مینجمنٹ کا مسئلہ بھی بحث کا مرکزی نکتہ رہا۔ انتظامیہ کی جانب سے ۸۵؍ فیصد کچرا اٹھانے کا دعویٰ کیا گیا، تاہم کارپوریٹروں نے اسے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ زمینی حقیقت اس کے برعکس ہے۔ کئی علاقوں میں گھنٹا گاڑیوں کی غیر حاضری اور فرضی جی پی ایس کے ذریعے بل وصول کرنے جیسے الزامات نے نظام کی شفافیت پر سوالیہ نشان لگا دیا۔صفائی عملے کی گھٹتی تعداد پر بھی ایوان میں تشویش کا اظہار کیا گیا۔ جاوید دلوی نے انکشاف کیا کہ پہلے ۲۴۰۰؍ صفائی ملازمین خدمات انجام دے رہے تھے جو اب کم ہو کر۱۵۴۶؍ رہ گئے ہیں، جس سے شہر کی صفائی بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ تمام دستیاب عملے کو فوری طور پر فیلڈ میں تعینات کیا جائے۔
میئر نارائن چودھری نے سخت موقف اختیار کرتے ہوئے اعلان کیا کہ اب ٹھیکیداروں کو ادائیگی صرف اسی صورت میں کی جائے گی جب متعلقہ وارڈ کے کارپوریٹر کام کی تکمیل کی تصدیق کریں گے۔ کمشنر نے بھی غیر حاضر ملازمین کے خلاف کارروائی کا یقین دلایا، جس سے نظم و ضبط قائم کرنے کی کوشش واضح نظر آئی۔اجلاس میں دیگر مالی امور بھی زیر بحث آئے، جن میں ٹورینٹ پاور پر ۰؍ کروڑ روپے کے بقایاجات، موبائل ٹاورز سے ۴۳؍ کروڑ روپے کی وصولی اور شہر میں جدید مذبح قائم کرنے کی ضرورت شامل تھی۔ ان امور پر بھی جلد فیصلے کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔