• Tue, 20 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

بھیونڈی : بی جے پی اور کونارک وکاس اگھاڑی کے کارکنان کے درمیان شدید تصادم

Updated: January 19, 2026, 11:22 PM IST | Khalid Abdul Qayyum Ansari | Mumbai

سیاسی کارکنوں کے درمیان اتوار کی شب پرتشدد تصادم ہوا تھا جس میں ۵ ؍ ایف آئی آر درج کی گئی ، ۴۴؍افراد گرفتارکئے گئے ہیں

A picture of the clash that took place in the Shivaji Chowk Maharaj Chowk area.
شیواجی چوک مہارج چوک علاقے میں ہونیوالی جھڑپ کے وقت کی تصویر

یہاں سابق میئر ولاس پاٹل اور مغربی حلقہ کے رکن اسمبلی مہیش چوگھلے کے حامیوں کے درمیان اتوار کی شب زبردست تصادم دیکھنے میں آیا، جہاں دونوں جانب سے جم کر مارپیٹ، شدید پتھراؤ اور لاٹھی ڈنڈوں کا بے دریغ استعمال کیا گیا۔ اس پُرتشدد جھڑپ کے نتیجے میں پاش علاقہ کے طور پر مشہور چھترپتی شیواجی مہاراج چوک کچھ دیر کے لیے میدانِ جنگ کا منظر پیش کرتا رہا، جس سے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا اور شہریوں میں شدید بے چینی دیکھی گئی ۔
 یہ کشیدگی وارڈ نمبر ایک میں کونارک وکاس اگھاڑی کے سابق میئر ولاس پاٹل کے پینل کی انتخابی کامیابی اور بی جے پی رکن اسمبلی کے بیٹے کی شکست کے بعد بڑھتی چلی جا رہی تھی۔ شکایت کے مطابق اتوار کی رات تقریباً۹؍ بجے گوکل نگر میں واقع ولاس پاٹل کے بنگلے ’’رتندیپ‘‘ پر پتھراؤ اور حملہ کیا گیا، جس میں کئی افراد زخمی ہو گئے۔ اس واقعے نے پہلے سے موجود سیاسی تناؤ کو مزید بھڑکا دیا۔بنگلے پر حملے کے خلاف ولاس پاٹل کے حامی چھترپتی شیواجی مہاراج چوک پر سڑک پر بیٹھ کر احتجاج کرنے لگے۔
 اسی دوران وہیں سامنے واقع رکن اسمبلی مہیش چوگھلے کے دفتر کے باہر ان کے حامیوں کی بڑی تعداد جمع ہو گئی۔ دونوں فریق آمنے سامنے آ گئے اور دیکھتے ہی دیکھتے شدید پتھراؤ شروع ہو گیا۔ اس دوران سوڈا واٹر کی بوتلیں، بجلی کے بلب اور دیگر اشیاء بھی ایک دوسرے پر پھینکی گئیں، جس میں سابق میئر پرتیبھا پاٹل سمیت متعدد افراد زخمی ہو گئے، جبکہ فساد شکن دستے کا  ایک پولیس اہلکار بھی زخمی ہوا۔صورتحال بے قابو ہونے پر پولیس کو لاٹھی چارج کر کے بھیڑ کو منتشر کرنا پڑا۔ اس کارروائی میں دونوں جانب کے کل۴۴؍ افراد کو گرفتار کر کے عدالت میں پیش کیا گیا۔ پولیس کے مطابق علی الصبح ولاس پاٹل کے بنگلے میں موجود۳۶؍  افراد کو حراست میں لیا گیا، جبکہ رکن اسمبلی مہیش چوگھلے کے حامی۸؍ افراد کو بھی گرفتار کیا گیا ہے۔ واقعے کے بعد علاقے میں پولیس کی بھاری نفری تعینات کر دی گئی۔ان واقعات کے سلسلے میں نظام پور پولیس نے پانچ الگ الگ مقدمات درج کیے ہیں۔ ان میں ولاس پاٹل اور ان کے بیٹے سمیت۱۶؍  افراد کو نامزد کیا گیا ہے، جبکہ۱۰۰؍ سے۱۵۰؍  نامعلوم افراد کو بھی ملزم بنایا گیا ہے۔ 
 مقدمات میں غیر قانونی طور پر بھیڑ جمع کرنے،  پتھراؤ، توڑ پھوڑ، جان سے مارنے کی نیت، امن و امان میں خلل ڈالنے اور سرکاری کام میں رکاوٹ جیسے سنگین الزامات شامل ہیں۔ پولیس کے مطابق مختلف فریقین کی جانب سے ایک دوسرے کے خلاف الگ الگ شکایات درج کرائی گئی ہیں، جن میں بنگلے پر حملہ، اندر گھس کر مارپیٹ، تلوار، ڈنڈے اور اسٹمپ کے استعمال اور بی جے پی دفتر کے سامنے ہنگامہ آرائی جیسے الزامات شامل ہیں۔ تمام معاملات کی تفتیش جاری ہے۔ واقعے کے بعد سیاسی الزام تراشی بھی تیز ہو گئی ہے۔ ولاس پاٹل نے  مہیش چوگھلے اور پولیس انتظامیہ کے کردار پر سوال قائم کیا اور سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے، جبکہ چوگھلے نے  پاٹل اور ان کے حامیوں کے خلاف قانونی کارروائی کی مانگ کی ہے۔
 بھیونڈی بار اسوسی ایشن کے صدر ایڈوکیٹ کرن چنّے کی قیادت میں وکلاء کے ایک وفد نے گوکل نگر میں واقع ولاس پاٹل کی رہائش گاہ کا دورہ کیا۔ وکلاء نے حملے کی سخت مذمت کی اورنظام پور پولیس اسٹیشن کے سینئر پولیس انسپکٹر وشواس ڈگلے کو فوری طور پر معطل کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK