ناری کنٹریکٹر، جن کا پورا نام نریمن جمشیدجی کنٹریکرہے، ۷؍ مارچ۱۹۳۴ءکوپیدا ہوئے۔ وہ شروع سےہی کرکٹ کے دیوانے رہے۔
EPAPER
Updated: March 07, 2026, 9:51 AM IST | New Delhi
ناری کنٹریکٹر، جن کا پورا نام نریمن جمشیدجی کنٹریکرہے، ۷؍ مارچ۱۹۳۴ءکوپیدا ہوئے۔ وہ شروع سےہی کرکٹ کے دیوانے رہے۔
چاہے ملک کے اندر ہویا باہر کسی ملک میں ہندستانی کرکٹ کھلاڑیوں نےہمیشہ اپنی بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیاہے۔ ایک سے بڑھ کر ایک کھلاڑی ٹیم میں آئے، جنہوں نےنہ صرف کرکٹ کے میدان کے۲۲؍گز کے دائرے میں بےشمار ریکارڈقائم کئے بلکہ بے شمار ریکارڈ توڑے بھی ہیں۔ لیکن ریکارڈ بنانےاور توڑتے وقت کھیل کےمیدان میں ایسے ناخوشگوار واقعات بھی پیش آئےہیں جنہوں نےکھلاڑیوں کے کیریئرکو یا تو بےانتہا متاثرکیا یا پھر ان کاکریئر ہی ختم کرکے رکھ دیاہے۔ بہت سےکرکٹ شائقین ہندوستانی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان ناری کنٹریکٹرکےنام سےشایدہی واقف ہوں گےاور کئی افراد نے تو ان کا ذکر تک نہیں سنا ہوگا۔ ناری ہندوستان کے وہ بدقسمت کپتان رہے، جن کا کریئر سنگین چوٹ کی وجہ سے ختم ہو گیا تھا۔
ناری کنٹریکٹر، جن کا پورا نام نریمن جمشیدجی کنٹریکرہے، ۷؍ مارچ۱۹۳۴ءکوپیدا ہوئے۔ وہ شروع سےہی کرکٹ کے دیوانے رہے۔ ہندستانی ٹیم کے علاوہ گجرات اور ریلویز کے لئے بھی انہوں نےمقابلوں میں حصہ لیا۔ وہ بائیں ہاتھ کے اوپننگ بلےباز تھے جن کا بین الاقوامی کریئرشدید چوٹ کی وجہ سےاچانک ختم ہو گیا۔ انہوں نے اپنے فرسٹ کلاس کریئر کا آغاز بہت شاندار طریقے سے کیا جب انہیں گجرات کے کپتان کی جگہ بلایا گیا تھا جو میچ کی صبح زخمی ہو گیاتھا۔ کنٹریکٹرنےہندوستان کو ۶۲۔ ۱۹۶۱ءمیں انگلینڈ کے خلاف سیریز میں فتح دلائی اور اسی سیزن میں ویسٹ انڈیز کی ٹیم کی کپتانی بھی کی جہاں اچانک ایک گیند نے انہیں شدید طور پر زخمی کردیا تھا۔ انہوں نے اپناپہلا ٹیسٹ میچ ۱۹۵۵ءمیں ہندوستان کیلئے کھیلا تھا جو نیوزی لینڈ کے خلاف تھا۔ لیکن وہ ۵۹۔ ۱۹۵۸ء میں ویسٹ انڈیز کے خلاف اپنی ۹۲؍ رنز کی اننگز سے سرخیوں میں آئے۔ اس کےبعدکنٹریکٹر نے۱۹۵۹ءمیں انگلینڈ کے دورے میں بھی اپنی بہترین پرفارمنس دی۔ اس دورے پر ناری کنٹریکٹرنےلارڈز میں اپنی ٹوٹی ہوئی پسلی کے ساتھ بیٹنگ کی اور۸۱؍رنز کی شانداراننگز کھیلی۔ اس کےبعدانہوں نےآسٹریلیا سیریزمیں ۴۳۸؍رن بنائے۔ اس میں ایک سنچری بھی شامل ہے۔ یہ سنچری ان کے کریئر کی پہلی اور واحد سنچری تھی۔
یہ بھی پڑھئے: ایران کی خواتین فٹ بال ٹیم کو وطن واپسی پر خطرہ: آسٹریلیائی حکومت سے اپیل
ہندستان کے لیے۳۱؍ٹیسٹ میچ کھیلنے والے ناری کنٹریکٹر نے ۳۱ء۵۸؍کےاوسط سے۱۶۱۱؍رن بنائے۔ جس میں ان کی ایک شاندار سنچری اور۱۱؍ نصف سنچریاں بھی شامل ہیں۔ ناری نے۱۳۸؍ فرسٹ کلاس میچ بھی کھیلےہیں جس میں انہوں نے ۸۶۱۱؍رن بنائے۔ فرسٹ کلاس میچوں میں انہوں نے۲۲؍سنچریاں بنائیں۔ ۱۹۶۲ءمیں اس چوٹ نےان کا بین الاقوامی کریئرختم کر دیا۔ بعد میں انہوں نے کچھ فرسٹ کلاس میچوں میں حصہ لیا، لیکن ٹیم انڈیا میں واپس نہیں آسکے۔ کنٹریکٹر نے۱۹۵۹ء میں لارڈزمیں انگلینڈکے خلاف پسلیاں ٹوٹنے کے باوجود۸۱؍ رنز بنائے۔ ناری کنٹریکٹر کا نام کرکٹ شائقین کے ذہنوں میں ہمیشہ زندہ رہے گا۔ ناری کنٹریکٹر کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ کرکٹ کی دنیا کا ایک ایسا ہی بدقسمت ستارہ ہیں، جس میں ٹیلنٹ کی کمی نہ ہے اگر ان کو اورموقع ملتا تو یہ ہندستانی کرکٹ میں بڑا نام کرتے لیکن قسمت نے ساتھ نہ دیا۔