’جین زی‘ تحریک سے مشہور ہونے والے بلیندرشاہ کی قیادت والی پارٹی بھاری اکثریت کی طرف گامزن۔ حزب اختلاف چند سیٹوں کیلئے جدوجہد کر رہی ہے۔
EPAPER
Updated: March 07, 2026, 9:34 AM IST | Kathmandu
’جین زی‘ تحریک سے مشہور ہونے والے بلیندرشاہ کی قیادت والی پارٹی بھاری اکثریت کی طرف گامزن۔ حزب اختلاف چند سیٹوں کیلئے جدوجہد کر رہی ہے۔
سابق نائب وزیر اعظم روی لامیچھانے اور ’جین زی ‘تحریک سے مشہور ہونے والے بلیندر شاہ (بالین) کی قیادت والی ’راشٹریہ سوتنتر پارٹی (آر ایس پی)‘ نیپال میں بھاری اکثریت کی طرف گامزن نظرآ رہی ہے۔ نیپال الیکشن کمیشن کی ویب سائٹ کے مطابق جن۱۶۵؍ سیٹوں پر انتخابات ہوئے جن میں سے اب تک ۱۵۰؍ پارلیمانی حلقوں کے نتائج اور رجحانات سامنے آچکے ہیں۔ ان میں سے آر ایس پی۱۰۶؍ سیٹوں پر آگے ہے اور اس نے ۲؍ سیٹیں جیتی ہیں۔ نیپالی کانگریس پارٹی ۹؍ سیٹوں پر آگے ہے اور اسے ۲؍ سیٹوں پر کامیابی ملی ہے۔ نیپال کی کمیونسٹ پارٹی (یونیفائیڈ مارکسسٹ-لیننسٹ) ۱۰؍سیٹوں پر آگے ہے جبکہ کمیونسٹ پارٹی آف نیپال ۷؍سیٹوں پر آگے ہے اور ایک سیٹ جیتی ہے۔
آر ایس پی لیڈر بالین سابق وزیر اعظم کے پی شرما اولی کے خلاف مقابلہ میں جھپا-۵؍سیٹ جیتتے دکھائی دے رہے ہیں۔ وہ سی پی این-یو ایم ایل کے چیئرمین اولی پر تقریباً ۶؍ہزار ووٹوں کی برتری برقرار رکھے ہیں۔ شام ۶؍ بجے تک بالینکو ۱۰؍ ہزار ۱۹۰؍ ووٹ ملے تھے جبکہ اولی کو۴؍ ہزار ۸۷؍ ووٹ ملے تھے۔ بالین نے جنوری ۲۰۲۶ءمیں کھٹمنڈو کے میئر کے عہدے سے استعفیٰ دے کر اولی کے خلاف مہم شروع کی تھی۔ نیپال میں انتخابات میں حصہ لینے والے کسی بھی شخص کو اپنے عہدے سے استعفیٰ دینا ہوتا ہے اوروہ کوئی بھی دو نشستوں سے انتخاب نہیں لڑ سکتا۔ آر ایس پی لیڈر روی لامیچھانے چتوان-۲؍ سے ۱۰؍ہزار ووٹوں کی بڑی برتری کے ساتھ جیت کے قریب ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: خیبر شکن میزائلوں سے تل ابیب لرز اُٹھا
دریں اثنا، نیپالی کانگریس کے رہنما گگن تھاپا اس وقت سرلاہی-۴؍ میں دوسرے نمبر پر ہیں جہاں آر ایس پی امیدوار امریش کمار سنگھ نے ابتدائی برتری حاصل کی ہے۔ سابق وزیر اعظم اور نیپالی کمیونسٹ پارٹی کے رہنما مادھو کمار نیپال روتہٹ-ایک سیٹ سے پانچویں نمبر پر کھسک گئے ہیں یہاں بھی آر ایس پی پہلے نمبر پر ہے۔
قابل ذکر ہے کہ ستمبر میں ’جین زی‘ تحریک کے بعد پارلیمنٹ کے ایوان زیریں کے اراکین کے انتخاب کیلئے جمعرات کو ووٹنگ ہوئی تھی۔ نیپال کے ایوان نمائندگان کی کل۲۷۵؍ نشستیں ہیں لیکن براہ راست انتخابات صرف ۱۶۵؍ کیلئے ہوتے ہیں۔ براہ راست انتخابات ’فرسٹ پاسٹ دی پوسٹ‘کے نظام پر مبنی ہوتے ہیں۔ ان۱۶۵؍ حلقوں میں سب سے زیادہ ووٹ لینے والا امیدوار جیت جاتا ہے۔ اگلی۱۱۰؍ سیٹوں کا انتخاب متناسب نمائندگی کے ذریعے کیا جاتا ہے جہاں یہ۱۱۰؍سیٹیں پارٹی کے ووٹوں کی کل فیصد کے تناسب سے تقسیم ہوتی ہیں۔
نیپال میں حکومت بنانے کیلئے کسی بھی پارٹی یا اتحاد کو ۱۳۸؍ سیٹوں (۲۷۵؍میں سے نصف) کی ضرورت ہوتی ہے۔