اقلیتوں کیلئے کوئی اعلان نہیں ،زراعت، صنعت، تعلیم اور صحت کے شعبوں پر زور، سرمایہ کاری، روزگار اور سماجی بہبود پر خصوصی توجہ ۔ چوتھی ممبئی بنانے ، کسانوں کی قرض معافی اورلاڈلی بہن اسکیم جاری رکھنے کا اعلان
EPAPER
Updated: March 06, 2026, 11:28 PM IST | Iqbal Ansari | Mumbai
اقلیتوں کیلئے کوئی اعلان نہیں ،زراعت، صنعت، تعلیم اور صحت کے شعبوں پر زور، سرمایہ کاری، روزگار اور سماجی بہبود پر خصوصی توجہ ۔ چوتھی ممبئی بنانے ، کسانوں کی قرض معافی اورلاڈلی بہن اسکیم جاری رکھنے کا اعلان
ریاستی حکومت نے مالی سال ۲۷-۲۰۲۶ء کیلئے ۷؍کر وڑ ۶۹؍ ہزار ۴۶۷؍ کروڑ روپے کا اپنا جامع ریاستی بجٹ پیش کیا ہے جس میں زراعت، تعلیم، صحت، دیہی ترقی، بنیادی ڈھانچے، انسانی ترقی، ثقافت، نوجوانوں، میڈیا، ماحولیاتی تحفظ اور سماجی بہبود سمیت ہر شعبے کیلئے مفصل منصوبے اور رقوم مختص کرنے کا دعویٰ کیاگیا ہے ۔ اس بجٹ میں اقلیتی طبقے کو نظر انداز کیا گیاہے اور ان کے لئے کوئی نیا اعلان نہیں کیا گیا۔ وزیر اعلیٰ و وزیر خزانہ دیویندر فرنویس نے اپنی تقریباً ایک گھنٹہ ۲۲؍ منٹ کی بجٹ تقریر میں واضح کیا کہ ریاست کو۲۰۴۷ءتک ایک خوشحال، صنعتی اور زرعی طور پر مضبوط مہاراشٹر بنانے کیلئے ایک طویل مدتی روڈ میپ تیار کیا گیا ہے۔ اس حکمت عملی کے تحت آمدنی میں اضافہ، سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی، روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنا اور کسانوں، مزدوروں، خواتین، نوجوانوں، اقلیتوں اور پسماندہ طبقات کی فلاح و بہبود کو مرکزی حیثیت دی گئی ہے۔
وزیر اعلیٰ نے ۳۶؍ تا ۳۷؍ صفحات پر لکھی ہے اپنی تقریر میں ایک لفظ بھی مائناریٹی کانہیں لکھا اور نہ ہی مختصرا بجٹ میں اس کا ذکر ہے ۔ اس بارے میں پریس کانفرنس میں جب چیخ چیخ کر وزیر اعلیٰ نے سوال کیا گیا تو انہوں نے یقین دلایاکہ اقلیتوں کو بھی فنڈ دیاگیا ہے۔ وزیر اعلیٰ کے بقول ریاستی بجٹ۲۰۲۶ء میں مختلف سرکاری محکموں کیلئے بڑے پیمانے پر فنڈس مختص کئے گئے ہیں اور مجموعی آمدنی میں اضافے کا ہدف بھی مقرر کیا گیا ہے۔ حکومت نے۳۰؍ ستمبر۲۰۲۵ء تک سرکاری خزانے کی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد بجٹ تیار کیا جس میں تقریباً ۲؍ ہزار کروڑ روپے کے آمدنی خسارے کو مدنظر رکھا گیا۔ اس پس منظر میں مالی نظم و ضبط کو مضبوط بنانے، غیر ضروری اخراجات کم کرنے اور سرمایہ جاتی اخراجات میں اضافہ کرنے کی حکمت عملی اپنائی گئی ہے۔ حکومت نے اس بات پر بھی زور دیا کہ محصولات کی وصولی بہتر بنانے، قرضوں کے بوجھ کو متوازن رکھنے اور مالیاتی انتظام کو مضبوط بنانے کیلئے مختلف اصلاحات نافذ کی جائیں گی۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ مالی سال ۲۷-۲۰۲۶ءکے دوران ریاستی خزانے کو مضبوط بنانے کیلئے ایک خصوصی مالیاتی اسکیم نافذ کی جائے گی۔ اس اسکیم کے تحت چار قسطوں میں ریاستی خزانے کی مدد کیلئے مالی وسائل فراہم کئے جائیں گے۔ حکومت کے مطابق مختلف سرکاری محکموں کے منصوبوں کیلئے علاحدہ مالیاتی انتظامات کئے گئے ہیں اور۵؍ مئی تک خصوصی امداد جاری کرنے کا بھی منصوبہ ہے۔ اس کے ساتھ ہی ریاست بھر میں ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل کیلئے یکم جنوری سے۳۱؍ دسمبر۲۰۲۶ء تک کا ایک جامع ترقیاتی کیلنڈر تیار کیا گیا ہے۔ اس روڈ میپ کے تحت ہر ضلع میں ترجیحی بنیادوں پر ترقیاتی اسکیمیں نافذ کی جائیں گی تاکہ ریاست کے تمام علاقوں میں متوازن ترقی کو یقینی بنایا جا سکے۔
پرانی گاڑی رکھنے پر پیسے لگیں گے اور اسے بھنگار میں بیچنا منافع بخش ہوگا
بجٹ میں آلودگی پر قابو پانے کیلئے بعض پرانی نجی گاڑیوں پر ماحولیاتی ٹیکس بڑھانے کی تجویز بھی دی گئی ہے۔ اپنی بجٹ تقریر میں وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ان اقدامات کا مقصد ایندھن سے بھرپور اور آلودگی پھیلانے والی گاڑیوں کے استعمال کو روکنا، ریاست میں ہوا کے معیار کو بہتر بنانا اور پرانی گاڑیوں کی تبدیلی کو تیز کرنا ہے۔انہوں نے کہا کہ بھارت اسٹیج۴؍ اور اس سے اوپر کے اخراج کے معیار کے ساتھ پرانی گاڑیوں کو ختم کرکے نئی گاڑی خریدنے پر۱۶؍ فیصد موٹر وہیکل ٹیکس رعایت دی جائے گی۔بی ایس تھرڈ کے اخراج کے معیار اور اس سے نیچے کی گاڑیوں کو بھنگار میں بیچ کر نئی گاڑی خریدنے پر۳۰؍ فیصد رعایت دی جائے گی۔ مزید برآں حکومت نے بجٹ میں پرانی نان ٹرانسپورٹ(نجی) گاڑیوں پر ماحولیاتی ٹیکس بڑھانے کی تجویز پیش کی ہے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ بی ایس ۴؍ کے اخراج کے معیار اور اس سے نیچے کی نجی گاڑیاں زیادہ فضائی آلودگی خارج کرتی ہیں۔ اس لئے ایسی گاڑیوں پر ماحولیاتی ٹیکس کو دوگنا کرنے کی تجویز ہے۔
کسانوں اور خواتین کیلئے بڑے اعلانات
بجٹ میں کسانوں کیلئے قرض معافی کی اسکیم کا بھی اعلان کیاگیا ہے ، یہ بتاتے ہوئے کہ۳۰؍ ستمبر۲۰۲۵ء تک ۲؍ لاکھ تک کے قرضے معاف کئے جائیں گے، وزیراعلیٰ فرنویس نے کہا کہ ’پنئے شلوک اہلیا دیوی ہولکر شیتکاری قرض معافی یوجنا‘ کے تحت مہاراشٹر کے مقروض کسانوں کو راحت فراہم کی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ جو کسان اپنے قرضوں کی باقاعدگی سے ادائیگی کر رہے ہیں، انہیں ریاستی حکومت کی طرف سے۵۰؍ہزار روپے کی انسنٹیود یا جائےگا ۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ خواتین کیلئے لاڈلی بہن اسکیم جاری رہے گی اور اس کیلئے مناسب فنڈز فراہم کئے جائیں گے۔
اجیت پوار کی یادگار بنانے اوران کے نام سے ایوارڈ
بجٹ پیش کرنے کے دوران وزیراعلیٰ دیویندرفرنویس آنجہانی اجیت پوار کو یاد کرتے ہوئے جذباتی ہوگئے۔انہوں نے اجیت پوار کی یادگار بنانے اور ان کے نام سے ’ گتیمان ناگری سیوا پرسکار‘ دینے کا بھی اعلان کیا۔
ریاستی آمدنی بڑھانےکیلئے اسٹامپ ڈیوٹی، رجسٹریشن، جی ایس ٹی، ایکسائز اور موٹر وہیکل ٹیکس کی وصولی میں بہتری لانے کے اقدامات کئے جائیں گے۔ اس مقصد کیلئے ڈیجیٹل نگرانی کا نظام متعارف کرایا جائے گا تاکہ محصولات کے نظام میں موجود ممکنہ لیکیج کو روکا جا سکے۔ ریاست میں روزگار کے مواقع بڑھانے کیلئے بجٹ میں صنعتی ترقی پر خصوصی توجہ دی گئی ہے۔ چھوٹے، درمیانے اور بڑے صنعتی یونٹس کی حوصلہ افزائی کیلئے سرمایہ کار دوست پالیسی، سنگل ونڈو سسٹم اور صنعتی کوریڈور کے قیام کا اعلان کیا گیا ہے۔
حکومت نے۲۰۴۷ءتک ریاستی صنعتی پیداوار اور مجموعی ریاستی گھریلو پیداوار (جی ڈی پی) کو دوگنا کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ اس مقصد کیلئے نئے صنعتی کلسٹر، ایکسپورٹ پروموشن زون، اسٹارٹ اپ انکیوبیشن سینٹر اور ٹیکنالوجی اپ گریڈیشن فنڈ متعارف کروانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ریاست میں سیاحت، ہاسپٹلٹی، فلم، میڈیا اور آئی ٹی / آئی ٹی ای ایس شعبوں میں سرمایہ کاری بڑھانے کیلئے خصوصی مراعات فراہم کی جائیں گی۔ ان مراعات میں ٹیکس میں چھوٹ، بنیادی ڈھانچے کی سہولتیں، زمینوں کی الاٹمنٹ اور تیز رفتار منظوری کے نظام شامل ہوں گے۔ بجٹ دستاویز کے مطابق مہاراشٹر کو مینوفیکچرنگ اور سروس سیکٹر دونوں میں ملک کی سرکردہ ریاست بنانے کیلئے ۹۴۹۶۸؍ کروڑ روپے کے مختلف ترقیاتی منصوبوں کا خاکہ بھی پیش کیا گیا ہے۔
چوتھی ممبئی بنانے اور دیگراہم اعلانات
ریاستی بجٹ میں کئی اہم اعلانات کئے گئے ہیں جس میں ’چوتھی ممبئی‘ بنانا بھی شامل ہے جو وادھون (دہانو) کے قریب بنائی جائے گی۔ اسی طرح ۲۰؍ لاکھ جھوپڑپٹیوں کی بازآبادکاری اور۱۰؍ لاکھ سستے مکانات کی تعمیر کے منصوبے بھی ہیں۔ ممبئی اور پونے شہروں کیلئے زیر زمین سرنگوں، ایک ہزار ۲۰۰؍ کلومیٹر میٹرو نیٹ ورک اور۶؍ہزار کلومیٹر ایکسپریس وے پروجیکٹ پر خصوصی زور دیا گیا ہے۔ ناگپور میں نئی فلم سٹی بھی بنائی جائے گی۔اسی طرح اٹل سیتو سے جوڑ کر ۲۰۰؍ اسکوائر کلو میٹر کے احاطے میں تیسری ممبئی بنائی جائے گی ۔