۱۲؍برسوں میں ۶۰۰؍سے زیادہ ہلاکتیں، صرف ۳؍برسوں میں ۷۵؍افرادکی موت ہوئی
EPAPER
Updated: August 29, 2025, 11:13 PM IST | Khalid Abdul Qayyum Ansari | Mumbai
۱۲؍برسوں میں ۶۰۰؍سے زیادہ ہلاکتیں، صرف ۳؍برسوں میں ۷۵؍افرادکی موت ہوئی
بھیونڈی۔واڈا شاہراہ اب محض ایک راستہ نہیں بلکہ آئے دن ہونے والے ایکسیڈنٹ نے اسے ’حادثات کی سڑک‘ میں تبدیل کردیا ہے۔ ہر موڑ اور ہر قدم پر گڈھوں کی شکل میں چھپا خطرہ شہریوں کی جانیں نگل رہا ہے۔ گزشتہ ۱۲؍ برسوں میں اس سڑک نے ۶۰۰؍سے زائد بے قصور زندگیاں چھین لیں، سیکڑوں لوگوں کو معذور کردیا ۔ گزشتہ ۳؍ برسوں میں ۷۵؍ گھروں کے چراغ بجھ گئے۔ کروڑوں روپے کی منظوری اور بلند بانگ دعوؤں کے باوجود عوام آج بھی روزانہ اسی خوف اور بے بسی کے سائے میں سفر کرنے پر مجبور ہیں۔
بدعنوانی اور ناقص مرمت کا سلسلہ
شـرم جیوی سنگھٹن کے ترجمان پرمود پوار نے سخت الزام لگاتے ہوئے کہا کہ ’’ٹھیکیداروں کے سامنے سرکاری نظام بے بس ہے، عوامی جانوں کو کوئی اہمیت نہیں دی جارہی۔‘‘ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ ۱۲؍برسوں سے اس سڑک کی مرمت کیلئے تحریکیں اور احتجاج جاری ہیں، مگر متعلقہ محکمے صرف ٹھیکیداروں کو فائدہ پہنچا کر کروڑوں کا گھوٹالا کررہے ہیں۔بھیونڈی سے واڈا تک کا تقریباً ۴۰؍کلو میٹر طویل راستہ بارش کے دنوں میں کھنڈرات کا منظر پیش کرتا ہے۔ محض عارضی مرمت کرکے خانہ پری کی جاتی ہے، لیکن پہلی ہی بارش کے بعد دوبارہ گڈھے پڑجاتے ہیں اور عوام کو اسی اذیت ناک صورتحال کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
حکومت کی منظوری، مگر کام پھر بھی ادھورا
وزیر اعلیٰ بننے کے بعد موجودہ ڈپٹی سی ایم ایکناتھ شندے نے اس سڑک کا معائنہ کیا تھا۔ اس کے بعد ۸۰۱؍کروڑ روپے اور کنکریٹ پیچ ورک کیلئے۸۰؍ کر وڑ روپے، یوں کُل ۸۸۱؍کروڑ روپے منظور کئے گئے۔ ایگل انفرا اور جیجاؤ کنسٹرکشن کو اس کام کی ذمہ داری سونپی گئی، مگر معیار اور رفتار دونوں انتہائی ناقص ہیں۔ عوامی نمائندوں اور شہری تنظیموں نے الزام لگایا کہ تعمیراتی کمپنیوں کے خلاف کوئی سخت قدم نہ اٹھاکر انتظامیہ عوام کی جانوں سے کھیل رہا ہے۔
عوام جان ہتھیلی پر رکھ کر سفرکر رہے ہیں
بھیونڈی اور واڈا تعلقہ کے دیہی علاقے کے لوگ گنپتی کی مورتیاں بھی اسی راستے سے اپنے گھروں تک لے جاتے ہیں۔ بارش میں بڑے بڑے گڈھوں کی وجہ سے یہ سفر شہریوں کیلئے خطرناک بن گیا ہے۔
پرمود پوار نے کہا کہ جیجاؤ کنسٹرکشن نے اس سڑک پر کروڑوں روپے کا گھوٹالا کیا ہے، اس کے باوجود ضلع انتظامیہ اب تک کمپنی کو بلیک لسٹ کرنے اور اس کے خلاف مقدمہ درج کرنے میں ٹال مٹول کررہا ہے۔
اس خطرناک سڑک پر گڈھوں کے سبب صرف ۲۰؍ منٹ کی دوری طے کرنے میں بھی ڈیڑھ سے ۲؍ گھنٹے لگ جاتے ہیں۔ عام شہریوں کے مطابق روزانہ سفر کرنا گویا اپنی جان ہتھیلی پر رکھنا ہے۔