جگہ جگہ پولیس پر حملے،۶۰۰؍ گرفتار، حکومت پر شدید دباؤ، صدر نے موٹر سائیکل سوار کی موت کی جانچ کا حکم دیا۔
EPAPER
Updated: August 30, 2025, 1:07 PM IST | Agency | Jakarta
جگہ جگہ پولیس پر حملے،۶۰۰؍ گرفتار، حکومت پر شدید دباؤ، صدر نے موٹر سائیکل سوار کی موت کی جانچ کا حکم دیا۔
ایک موٹر سائیکل سوار ڈلیوری بوائے کی پولیس وین سے ٹکر کے بعد موت نے انڈونیشیا کے دارالحکومت جکارتہ میں حالات کو بے قابو کردیا ہے۔ پورے شہر میں پولیس پر جگہ جگہ حملے ہور ہے ہیں ۔ ۶۰۰؍ افراد کو گرفتار کیا جاچکاہے تاہم حکومت پر شدید دباؤ ہے جس کے پیش نظر صدر نے موٹر سائیکل سوار کی موت کی جانچ کا حکم دے دیا ہے۔ مظاہروں کی وجہ سے پولیس اصلاحات کے مطالبات نے زور پکڑ لیا ہے۔ یہ واقعہ صدر پرابوو سبیانتو کی تقریباً ایک سال پرانی حکومت کیلئے پہلا بڑا امتحان قرار دیا جا رہا ہے۔
تفصیلات کے مطابق متوفی موٹر سائیکل سوار ڈلیوری بوائے تھاجسے جمعرات کو پارلیمنٹ کے قریب پُرتشدد جھڑپوں کے دوران پولیس کی گاڑی نے ٹکر مار دی تھی ۔ پولیس مظاہرین کو منتشر کرنے کی کوشش کر رہی تھی جو ارکانِ پارلیمان کی تنخواہوں اور تعلیمی فنڈنگ سمیت مختلف مسائل پر احتجاج کر رہے تھے۔جمعہ کی دوپہر کے احتجاج کی وجہ سے دارالحکومت کے کئی اسکولوں نے طلبہ کو وقت سے پہلے چھٹی دے دی جبکہ بینکوں اور کاروباری اداروں نے ملازمین کو گھروں سے کام کرنے کی ہدایت دی۔ مقامی میڈیا کی ویڈیوز میں دکھایا گیا ہےکہ فوج کو بھی بعض علاقوں میں تعینات کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے:روس نے یوکرین کا سب سے بڑا بحری جہاز تباہ کردیا، دیگر حملوں میں ۲۱؍ ہلاک
پرتشدد مظاہروں کے درمیان رنگ برنگی جیکٹوں میں ملبوس طلبہ اور زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد پارلیمنٹ اور پولیس ہیڈکوارٹرس کے سامنے اکٹھا ہوئے۔ انہوں نے گیٹ پر پتھر برسائے اور ’’قاتل! قاتل!‘‘ کا نعرہ بلند کیا۔ اپنی مخصوص سبز جیکٹوں میں ڈرائیور بھی اس احتجاج کا حصہ تھے جنہوں نے جاوا جزیرے کے شہروں بنڈونگ اور سورابایا نیز سولا ویسی کے گورونٹالو میں بھی احتجاج کیا۔ پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے ۶؍ سو سے زائد مظاہرین کو گرفتار کیا ہے۔ احتجاج میں شامل افراد ان کی رہائی کا بھی مطالبہ کررہے ہیں۔ صدر نے حالات پر قابو پانے کیلئے عوام سے تحمل کی اپیل کی ہے اور جانچ کا حکم دے دیا ہے۔