کولہاپور سے ۶۵؍کلومیٹر جنوب میں واقع یہ قلعہ مراٹھا سلطنت کا ایک اہم فوجی مرکز رہا ہے،۳؍ہزار فٹ کی بلندی سےشاندار مناظر دیکھے جاسکتے ہیں۔
بھودر گڑھ قلعہ کا اندرونی منظر۔ تصویر:آئی این این
مہاراشٹر کو قلعوں کی سرزمین کہا جاتا ہے اور بھودرگڑھ ایسا ہی ایک قلعہ ہے جس کے نام پر کولہاپور ضلع کی پوری تحصیل کا نام رکھا گیا ہے۔کولہاپور سے ۶۵؍کلومیٹر جنوب میں گرگوٹی روڈ پر واقع یہ قلعہ مراٹھاسلطنت کا ایک اہم فوجی مرکز رہا ہے۔۳؍ہزار ۸۹؍فٹ کی بلندی پر قائم یہ قلعہ سہیادری پہاڑی سلسلے کے شاندار مناظر پیش کرتا ہے اور تاریخی اہمیت کے اعتبار سے ایک اہم مقام ہے۔قلعے کا کل رقبہ ۱۸۰؍ ایکڑ ہے اور اس کی فصیلوں کی لمبائی تقریباً۵؍کلومیٹر ہے۔ یہ دکن میں دوسرا سب سے بڑا قلعہ تسلیم کیا جاتا ہے۔
تاریخی پس منظر
بھودرگڑھ قلعہ بارہویں صدی میں شِلاہار خاندان کے بادشاہ بھوج دوئم نےتعمیر کروایا تھا۔ یہ ایک عظیم الشان عمودی چٹان پر قائم ہے اور اس کی لمبائی ۸۰۰؍میٹر اور چوڑائی ۷۰۰؍میٹر ہے۔
شِلاہار دور کے بعد یہ قلعہ کئی برس تک عادل شاہی سلطنت کے زیرتسلط رہا۔۱۶۶۷ءمیںمراٹھوں نے اسے فتح کیا اور چھترپتی شیواجی مہاراج نے اسے ایک اہم فوجی مرکز کے طور پر تعمیر نو کروایا۔ تاہم عادل شاہ نے اسے دوبارہ قبضے میں لے لیا اور پھر۱۶۷۲ءمیں مراٹھوں نے اسے واپس حاصل کر لیا۔چھترپتی شیواجی مہاراج نے ۱۶۷۷ءمیں خود اس قلعے کا دورہ کیا اور اسے بحال کروایا۔ بعد میں راجارام مہاراج نے گِنگی سے واپسی پر اس قلعے میں قیام کیا۔ اٹھارہویں صدی کے آخر میں پرشورام بھاؤ پٹوردھن نے قلعے پر قبضہ کر لیا اور دس سال بعد کاروَیر کے چھترپتی نے اسے واپس حاصل کیا۔
۱۸۴۴ءمیں کولہاپور میں انگریزوں کے خلاف بغاوت کے دوران بھودرگڑھ ایک نمایاں مرکزبنا۔جنرل ڈیلاموتی نے اس پر حملہ کیا اور ۱۳؍اکتوبر ۱۸۴۴ءکو انگریزی فوج نے مکمل طور پر قلعے پر قبضہ کر لیا۔ بغاوتوں کو روکنے کیلئے انگریزوں نےفصیلوں کو توڑ دیا۔
قلعے کی ساخت اور آثار
قلعے کی دیواریں پتھر،لیٹرائٹ چٹان، چونے اور تراشے ہوئےپتھر سے تعمیر کی گئی ہیں۔ بعض بیرونی دیواریں جامنی رنگ کے پتھروں سے دوبارہ تعمیر کی گئی ہیں۔ قلعے کے ۲؍ داخلی دروازے ہیں۔قلعے میں کئی دلچسپ آثار موجود ہیں۔
دودھ ساگر جھیل
قلعے کی سب سے منفرد اور حیران کن کشش دودھ ساگر جھیل ہے جو اپنے دودھیا سفید رنگ کےپانی کے لیے مشہور ہے۔ سیاحوں کے مطابق یہ جھیل قلعے کا اصل خزانہ ہے۔ باہر سے قلعہ ایک عام پہاڑی قلعہ نظر آتا ہے لیکن اندر پہنچنے پر اس جھیل کا منظر دیکھ کر دل خوش ہو جاتا ہے۔ یہاں کشتی رانی کی سہولت بھی موجود ہے۔
ٹریکنگ کا تجربہ
بھودرگڑھ قلعے تک ٹریک معتدل آسان ہے اور ابتدائی سطح کے ٹریکرز اور فطرت سے محبت کرنے والوں کے لیے موزوں ہے۔ راستہ اچھی طرح نشان زد ہے اور سرسبز پہاڑی علاقے سے گزرتا ہے۔چوٹی تک پہنچنے میں تقریباً ۳۰؍ سے ۴۵؍منٹ لگتے ہیں۔ یہاں پیراگلائیڈنگ کی سہولت بھی موجود ہے۔
قلعے کے قریب رادھانگری وائلڈ لائف سینکچوری واقع ہے جو اپنےگھنے جنگلات اور جنگلی حیات کیلئےمشہور ہے۔ کولہاپور شہر میں مہالکشمی مندر، شاہی محل اور کولہاپور میوزیم بھی دیدنی مقامات ہیں۔
یہاں کیسے پہنچیں؟
ریل کےذریعہ :یہاں کاقریب ترین ریلوے اسٹیشن کولہاپور ہے جوقلعے سے تقریباً ۶۴؍کلومیٹر دور ہے۔ وہاں سے سڑکی راستےگرگوٹی ہوتے ہوئے قلعے تک پہنچا جا سکتا ہے۔
بس کےذریعہ :ایم ایس آر ٹی سی بس سے گرگوٹی پہنچیں، پھر جیپ یا۶؍سیٹرسےپال گاؤں جائیں جو۵؍کلومیٹر دور ہے، اور وہاں سے پیٹھ شیواپور بیس ویلج تک ۳۰؍منٹ کا سفر ہے۔
سڑک کےراستے : کولہاپور سے قلعے تک سڑک سے جانے میں تقریباً پونے دو گھنٹے لگتے ہیں۔ کولہاپور گرگوٹی روڈ سے سفر کریں۔