مغربی ایشیا کے بحران کے دوران ایل پی جی کی قلت کو دیکھتے ہوئے حکومت نے پی این جی کنکشن رکھنے والے صارفین کو ایل پی جی سلنڈر رکھنے اور ری فل کروانے سے روک دیا ہے۔
EPAPER
Updated: March 15, 2026, 7:38 PM IST | Mumbai
مغربی ایشیا کے بحران کے دوران ایل پی جی کی قلت کو دیکھتے ہوئے حکومت نے پی این جی کنکشن رکھنے والے صارفین کو ایل پی جی سلنڈر رکھنے اور ری فل کروانے سے روک دیا ہے۔
مغربی ایشیا میں بڑھتے ہوئے تناؤ کی وجہ سے ہندوستان میں ایل پی سی کی سپلائی متاثر ہو رہی ہے۔ اسی صورتحال کے پیش نظر مرکزی حکومت نے ایک اہم فیصلہ کیا ہے۔ حکومت نے ۱۴؍ مارچ کو جاری نوٹیفکیشن میں کہا ہے کہ جن گھریلو صارفین کے پاس پائپڈ نیچرل گیس (پی این جی ) کا کنکشن ہے، وہ اب ایل پی جی سلنڈر نہ رکھ سکیں گے اور نہ ہی اس کا ری فل لے سکیں گے۔
پیٹرولیم اور نیچرل گیس وزارت نے واضح کیا ہے کہ جن لوگوں کے پاس پہلے سے پی این جی کنکشن کے ساتھ ایل پی جی کنکشن بھی ہے، انہیں اپنا ایل پی جی کنکشن فوری طور پر سرینڈر کرنا ہوگا۔ اس کے ساتھ ہی ایسے صارفین سرکاری تیل کمپنیوں یا ان کے ڈسٹریبیوٹرز سےایل پی جی سلنڈر کی نئی بکنگ یا ری فل نہیں کر سکیں گے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ ایل پی جی کی محدود دستیابی کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے تاکہ وہ گھر جن میں صرف ایل پی جی پر ہی کھانا پکانے کا انتظام ہے، انہیں ترجیح دی جا سکے۔
درحقیقت، مغربی ایشیا میں جاری تناؤ کی وجہ سے عالمی توانائی کی سپلائی متاثر ہوئی ہے۔ امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ ایران کے تصادم کے درمیان ایران نے ہرمز کی گزرگاہ کو بند کر دیا ہے۔ یہ سمندری راستہ دنیا کے سب سے اہم توانائی ٹرانسپورٹ راستوں میں سے ایک مانا جاتا ہے۔ اسی راستے سے بڑی مقدار میں تیل اور گیس مختلف ممالک تک پہنچتی ہے۔
ہندوستان کے لیے یہ صورتحال اس لیے بھی چیلنجنگ ہے کیونکہ ملک کے کل ایل پی جی درآمدات کا تقریباً ۹۰؍ فیصد حصہ مغربی ایشیائی ممالک سے آتا ہے۔ ہرمز کی تنگ گزرگاہ بند ہونے کی وجہ سے وہاں سے آنے والی ایل پی جی کی سپلائی ہندوستان تک نہیں پہنچ پا رہی، جس سے دستیابی پر دباؤ بڑھ گیا ہے۔
صورتحال کو سنبھالنے کے لیے حکومت نے ملک کی ریفائنری کمپنیوں کو ایل پی جی کی پیداوار بڑھانے کی ہدایت دی ہے۔ اس کے بعد کمپنیوں نے پیداوار میں تقریباً ۳۰؍ فیصد اضافہ کیا ہے۔ تاہم گھریلو طلب بہت زیادہ ہونے کی وجہ سے یہ اقدام مکمل کمی کو پورا نہیں کر پا رہا۔
یہ بھی پڑھئے:کیا ہے ’آسکر‘ کا اصل نام؟ فاتحین ٹرافی فروخت نہیں کر سکتے
حکومت نے دستیاب ایل پی جی کو ترجیحی بنیاد پر گھریلو صارفین کے لیے محفوظ رکھنے کا فیصلہ بھی کیا ہے۔ اسی وجہ سے ہوٹل، ریسٹورینٹ اور دیگر تجارتی و صنعتی صارفین کو ملنے والی ایل پی جی کی سپلائی محدود کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ ایل پی جی سلنڈر کی بکنگ کے قواعد میں بھی تبدیلی کی گئی ہے۔ شہری علاقوں میں ایک سلنڈر کی ڈیلیوری کے بعد اگلی بکنگ کے لیے انتظار کی مدت ۲۱؍دن سے بڑھا کر ۲۵؍ دن کر دی گئی ہے، جبکہ دیہی علاقوں میں یہ مدت ۴۵؍ دن مقرر کی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھئے:میدویدیف نے الکاراز کو ہرا دیا: فائنل میں سنر سے ٹکراؤ
حکومت کا ماننا ہے کہ ان اقدامات سے ایل پی جی کی دستیابی کو متوازن رکھنے میں مدد ملے گی اور ان صارفین کو سہولت ملے گی جن کے پاس کھانا پکانے کے لیے کوئی متبادل ایندھن دستیاب نہیں ہے۔ ساتھ ہی یہ اقدام سپلائی کے بحران کے دوران وسائل کے بہتر انتظام کی سمت میں بھی اہم سمجھا جا رہا ہے۔