Updated: September 02, 2026, 10:02 PM IST
| Patna
بہار حکومت نے نیپال کے سیلاب کےبعد نا معلوم مچھلیاں کھانے کے خلاف انتباہ جاری کیا ہے، ہدایت میں کہا گیا ہے کہ سیلاب کے دوران یہ مچھلیاں گندے نالوں، مردہ جانوروں اور دیگر آلودگیوں سے متاثر ہو سکتی ہیں، جس سے ان میں بیکٹیریا اور وائرس پیدا ہو سکتے ہیں۔
بہار حکومت نے عوام کو ہدایت جاری کی ہے کہ وہ نیپال سے آنے والے سیلابی پانیوں کے ساتھ پہنچنے والی نامعلوم اور غیرمعمولی مچھلیاں کھانے سے گریز کریں۔ ڈیری، فشریز اور اینیمل ریسورسز ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے جاری کردہ اس مشورے میں کہا گیا ہے کہ سیلاب کے دوران یہ مچھلیاں گندے نالوں، مردہ جانوروں اور دیگر آلودگیوں کے ساتھ مل سکتی ہیں، جس سے ان میں بیکٹیریا اور وائرس پیدا ہو سکتے ہیں۔ واضح رہے کہ یہ انتباہ اس وقت سامنے آیا ہے جب نیپال میں تباہ کن سیلاب کے باعث۱۰۰۰؍ سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور وہاں کے قصبوں اور دیہاتوں میں بڑے پیمانے پر تباہی پھیلی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: اگست میں نا مناسب بارش کے سبب کئی اضلاع میں خشک سالی کا خدشہ
محکمے کے مطابق اطلاعات ہیں کہ نیپال کے سیلابی پانی کے ساتھ کچھ نامعلوم اور عجیب قسم کی مچھلیاں بہار کے مختلف علاقوں تک پہنچی ہیں، اور ان مچھلیوں کو کھانے کے بعد کچھ افراد بیمار بھی ہوئے ہیں۔ بعد ازاں حکومت نے شہریوں کو ہدایت دی ہے کہ وہ ایسی غیرمعروف یا غیرمعمولی مچھلیاں نہ کھائیں اور نہ ہی بازاروں میں سیلاب کے پانی سے پکڑی گئی مچھلیوں کی خرید و فروخت کریں۔ مشورے میں واضح کیا گیا، ’’متعلقہ محکمے سے شناخت اور تصدیق کے بغیر، کسی بھی نامعلوم مچھلی کو کھانے کے قابل نہ سمجھیں۔‘‘محکمے نے لوگوں سے کہا کہ اگر ایسی مچھلیاں ملیں تو مقامی افسران کو مطلع کریں اور افواہوں پر توجہ نہ دیں۔ مزید برآں، اگر کسی کو ان مچھلیوں کو کھانے کے بعد قے، دست، پیٹ میں درد، چکر، سانس لینے میں دشواری یا دیگر غیرمعمولی علامات محسوس ہوں تو فوری طور پر قریبی ہیلتھ سینٹر یا اسپتال سے طبی مشورہ لینا چاہیے۔محکمے نے زور دے کر کہا: "افواہوں پر توجہ نہ دیں اور اپنی حفاظت کو مدنظر رکھتے ہوئے نامعلوم مچھلیوں کے استعمال سے مکمل طور پر پرہیز کریں۔‘‘