Updated: September 02, 2026, 10:02 PM IST
| London
لندن: لندن کے میئر سر صادق خان کو ایک ۲۴؍ سال پرانی نسان مائیکرا کا ٹیکس ادا نہ کرنے کے معاملے میں عدالت نے جرمانہ عائد کردیا، تاہم صادق خان نے گاڑی کی ملکیت سے انکار کرتے ہوئے اسے فراڈ قرار دیا ہے۔ سرکاری ریکارڈ میں گاڑی ان کے نام پر درج تھی، جبکہ DVLA کی جانب سے بھیجے گئے قانونی نوٹس مبینہ طور پر غلط پتے پر پہنچنے کے باعث انہیں مقدمے کی بروقت اطلاع بھی نہیں مل سکی۔
میئر صادق خان۔ تصویر: آئی این این
لندن کے میئر سر صادق خان کو ایک ۲۴؍ سال پرانی گاڑی کا ٹیکس ادا نہ کرنے کے معاملے میں عدالت نے قصوروار قرار دیتے ہوئے جرمانہ عائد کیا، تاہم میئر کا کہنا ہے کہ وہ اس گاڑی کے مالک نہیں اور انہیں ایک فراڈ کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ برطانوی میڈیا کے مطابق معاملہ ایک نیلے رنگ کی نسان مائیکرا سے متعلق ہے، جو ۲۰۰۲ء میں رجسٹر ہوئی تھی۔ رپورٹس کے مطابق گاڑی کا سالانہ ٹیکس ستمبر ۲۰۲۵ء میں ختم ہوگیا تھا۔ ڈرائیور اینڈ وہیکل لائسنسنگ ایجنسی (DVLA) کے سرکاری ریکارڈ میں صادق خان کا نام اور تاریخِ پیدائش اس گاڑی کے ساتھ درج تھی۔ گاڑی کو ۲۴؍ جنوری کو بغیر ٹیکس کے پائے جانے کے بعد DVLA نے کارروائی شروع کی۔ جنوری میں گاڑی کے مالک کی شناخت کی تصدیق کیلئے خط بھیجا گیا، لیکن اس کا جواب نہ ملنے پر معاملہ عدالت تک پہنچ گیا۔
یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ نے مذاکرات مسترد کر دیئے، ہرمز پر ’مکمل کنٹرول‘ کا دعویٰ؛ پاکستان مذاکرات کرانے کیلئے کوشاں
صادق خان کے دفتر نے اس الزام کی سختی سے تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ مذکورہ گاڑی نہ میئر کی ملکیت ہے اور نہ ہی ٹرانسپورٹ فار لندن (TfL) کی۔ میئر کے ترجمان نے کہا کہ یہ ایک فراڈ ہے اور صادق خان اس معاملے میں متاثرہ شخص ہیں۔ ترجمان کے مطابق اس سے پہلے بھی کچھ افراد نے غلط طور پر صادق خان کے نام سے گاڑیاں منسلک کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس معاملے میں ایک غیر معمولی انتظامی غلطی بھی سامنے آئی۔ عدالت میں پیش کیے گئے ریکارڈ کے مطابق DVLA کی جانب سے صادق خان کو بھیجے گئے خطوط ان کے متعلقہ سرکاری پتے کے بجائے مشہور شیف گورڈن ریمزی کے مشرقی لندن میں واقع ریسٹورنٹ کے پتے پر بھیج دئیے گئے۔ ریسٹورنٹ اور TfL کے دفاتر الگ عمارتوں میں، لیکن ایک دوسرے کے قریب واقع ہیں۔ اس وجہ سے میئر کو کارروائی کا بروقت علم نہ ہونے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: امریکہ: ۷۵؍ ممالک کے تارک وطن ویزا بحال، عدالت نے ٹرمپ انتظامیہ کی پابندی ختم کی
یہ مقدمہ برطانیہ کے Single Justice Procedure کے تحت نجی سماعت میں نمٹایا گیا، جس میں صادق خان کی غیر موجودگی میں فیصلہ سنایا گیا۔ عدالت نے انہیں ۲۲۰؍ پاؤنڈ جرمانہ، ۸۵؍ پاؤنڈ عدالتی اخراجات اور ۸۴ء۳۵؍ پاؤنڈ واجب الادا گاڑی ٹیکس ادا کرنے کا حکم دیا، یعنی مجموعی رقم ۸۴ء۳۴۰؍ پاؤنڈ بنتی ہے۔ اب DVLA اس معاملے کے حالات کا جائزہ لے رہی ہے اور مقدمہ دوبارہ کھولنے کا امکان بھی زیرِ غور ہے۔ صادق خان کو اپنی بے گناہی ثابت کرنے کیلئے عدالت سے سزا ختم کرانے کی درخواست دینا پڑ سکتی ہے۔ یہ معاملہ اس لیے بھی توجہ کا مرکز بنا ہے کہ صادق خان نے لندن میں الٹرا لو ایمیشن زون (ULEZ) کو پورے لندن تک وسعت دی تھی، جس کے بعد انہیں بعض موٹرسائیکل مالکان اور سیاسی مخالفین کی جانب سے شدید احتجاج کا سامنا کرنا پڑا۔ بعض افراد نے احتجاجاً گاڑیاں میئر کے نام پر رجسٹر کرنے کی بات بھی کہی تھی۔