Updated: September 02, 2026, 10:04 PM IST
| New York
’رچ ڈیڈ پور ڈیڈ‘کے مصنفرابرٹ کیوساکی نے مالی کامیابی کیلئے قرض کو ایک مؤثر حکمتِ عملی قرار دیا، مگر خود ان پر ۱ء۲؍ارب ڈالر کے قرض کی خبر نے سب کو حیران کردیا ہے۔ جہاں کیوساکی اسے دولت بڑھانے کا ذریعہ بتاتے ہیں، وہیں ان کی سابق اہلیہ نے اس رقم کو ذاتی قرض قرار دینے کے انداز پر سوال اٹھایا ہے۔
رابرٹ کیوساکی اپنی کتاب کے ساتھ ۔ تصویر: آئی این این
مقبولِ عام کتاب ’رچ ڈیڈ پور ڈیڈ‘ کے مصنف رابرٹ کیوساکی پر رئیل اسٹیٹ میں کی گئی بھاری سرمایہ کاری کی وجہ سے ۱ء۲؍ارب ڈالر کا حیران کن قرض چڑھ چکا ہے۔ پرسنل فائنانس اور سیلف ہیلپ کی دنیا میں بے حد مقبول اس کتاب کے ذریعے مالیاتی کامیابی کے راز سکھا کر ۷۹؍سالہ رابرٹ کیوساکی نے بے تحاشا دولت کمائی ہے۔ ۱۹۹۷ءمیں شائع ہونے والی ان کی اس کتاب کی اب تک ۴ء۴؍کروڑ سے زیادہ کاپیاں فروخت ہو چکی ہیں۔ کیوساکی کا کہنا ہے کہ ان کی رئیل اسٹیٹ کی پوری سلطنت اور جائداد دراصل اسی ۱ء۲؍ارب ڈالر کے قرض پر ہی قائم ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ نے مذاکرات مسترد کر دیئے، ہرمز پر ’مکمل کنٹرول‘ کا دعویٰ؛ پاکستان مذاکرات کرانے کیلئے کوشاں
مختلف پوڈکاسٹس اور انٹرویوز میں کیوساکی اس بھاری قرض کا کھلم کھلا اعتراف کرتے ہیں اور اسے امیر بننے کی حکمتِ عملی کا ثبوت بتاتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ دولت مند لوگ مزید آمدنی پیدا کرنے والے اثاثے (Assets) خریدنے کیلئے بینکوں سے قرض لیتے ہیں۔ نیویارک پوسٹ کے مطابق کیوساکی نے ایک پوڈکاسٹ میں بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہاں، ان پر ۱ء۲؍ارب ڈالر کا قرض ہے۔ کیوساکی کے کام کرنے کا طریقہ رہا ہے کہ جیسے ہی ان کے اثاثوں یا جائدادوں کی قیمت بڑھتی ہے، وہ ان کے بدلے بینک سے مزید قرض لے لیتے ہیں۔ اصل جائداد بیچنے کے بجائے اس قرض کی رقم کو وہ ٹیکس فری آمدنی کی طرح استعمال کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ وہ اپنے الگ الگ مالیاتی سودوں کیلئے الگ ایل ایل سی (LLC) کمپنیاں بناتے ہیں تاکہ اگر کوئی ایک سودا نقصان میں بھی چلا جائے تو اس کا اثر دوسرے کاروبار پر نہ پڑے۔
یہ بھی پڑھئے: بھاگوت کی تقریرکے بعد۹۰؍ امریکی سیاستدانوں کا آرایس ایس سے فنڈنگ نہ لینے کا عہد
تاہم، کیوساکی اپنے سننے والوں کو خبردار بھی کرتے ہیں کہ خطرات کو سمجھے بغیر ان کے اس طریقے کی نقل نہ کی جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ ہر شخص کو ان کی دیکھا دیکھی ایسا نہیں کرنا چاہئے، کیونکہ وہ ۱۹۴۷ءسے اس ماڈل کا مطالعہ اور تجربہ کرتےآ رہے ہیں۔ وہ مزید کہتے ہیں کہ قرض کو مالیاتی فائدے کیلئے استعمال کرنے سے پہلے معاشی سمجھ بوجھ ہونا ضروری ہے۔ دوسری طرف، ان کی سابقہ اہلیہ اور کاروباری شراکت دار کم کیوساکی (Kim Kiyosaki) نے اس رقم کو عوامی طور پر پیش کرنے کے انداز پر اعتراض جتایا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: فرانس: مسلم کونسل کی اسکارف پہننے والی خواتین کے خلاف سیاسی بیان بازی کی مذمت
`وینیٹی فیئر سے گفتگو میں کم نے وضاحت کی کہ یہ قرض دراصل دیگر شراکت داروں کے ساتھ مل کر خریدے گئے تقریباً ۱۵۰۰؍اپارٹمنٹ یونٹس سے متعلق ہےاور اس کا کیوساکی کی ذاتی ذمہ داری پر کوئی بوجھ نہیں پڑتا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کے سابق شوہر نے محض لوگوں کی توجہ اپنی جانب مرکوز کرنے کیلئے ۱ء۲؍ارب ڈالر کی رقم کا ذکر کیا تاکہ وہ یہ ثابت کر سکیں کہ قرض بھی ایک بہترین معاشی حکمتِ عملی ہو سکتی ہے۔ وی ایف کے مطابق، اگر کیوساکی کی اپنی بتائی گئی ۳۰؍لاکھ ڈالر کی سالانہ آمدنی کا حساب لگایا جائے تو اس کل قرض میں ان کا حقیقی ذاتی حصہ دراصل ۳؍کروڑ سے ۶؍کرو ڑ (۳۰؍سے ۶۰؍ملین ڈالر) کے درمیان ہوسکتاہے۔