بی پی ایس سی -ٹی آر ای ۴؍کا معاملہ، امتحان کا مطالبہ کرنے والے امیدواروں کو پولیس نےسڑک پر دوڑا دوڑا کر پیٹا، مظاہرین بی پی ایس سی دفتر جارہے تھے، کئی طلبہ زخمی، ناراض امیدواروں نے بھرتی کا امتحان نوٹیفکیشن فوری جاری کرنے اور امتحان جلد منعقد کرانے کا مطالبہ۔
پٹنہ پولیس نے مظاہرین پر اندھا دھند لاٹھیاں برسائیں اور دوڑادوڑاکر پیٹا۔ تصویر:آئی این این
بی پی ایس سی ٹی آر ای ۴؍کے تحت اساتذہ کی تقرری کے لیے نوٹیفکیشن جاری کرنے کے لیے جمعہ کو پٹنہ کی سڑکوں پر احتجاج کرنے والے سیکڑوں امیدواروں پر پولیس نےجم کر لاٹھیاں برسائیں ۔ طلبہ کو دوڑادوڑاکر پیٹا۔ پولیس نے انہیں ڈاک بنگلہ چوک کی جانب مارچ کرنے سے روکنے کے لیے طاقت کا استعمال کیا، جس میں کئی طلبہ زخمی ہوگئے۔ طلبہ کے اس مارچ کی وجہ سے گاندھی میدان اور اس کے آس پاس گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئی تھیں اور جام کےحالات پیداہوگئے تھے۔ جام سے نجات کے لیے ٹریفک پولیس تعینات کی گئی۔
طلبہ تنظیم کے لیڈر دلیپ کمار کی قیادت میں ٹی آرای۔ ۴؍کے امیدواروں نے تقریباً ۱۰؍بجے پٹنہ کالج سے مارچ شروع کیا تھا۔ شیڈول کےمطابق وہ بی پی ایس سی دفتر تک مارچ کرنا چاہتے تھے۔ لیکن جب وہ جے پی گولمبر تک پہنچے تو پولیس نے بیریکیڈنگ لگا کر روک دیا۔ جب طلبہ نے رکاوٹیں توڑنے کی کوشش کی تو پولیس نے ان پرلاٹھی چارج کردیا، جس میں کئی طلبہ و طالبات زخمی ہوگئے۔
ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق بھگدڑ کے دوران پولیس اہلکاروں نے خاتون امیدواروں بھی نہیں بخشا۔ الزام ہے کہ پولیس اہلکاروں نے انہیں پیروں تلے روند ا۔ امیدواروں نے کہا، ’’ہم آنے والے وقت کے اساتذہ ہیں، لیکن یہ لوگ ہمیں غنڈے سمجھ کر مار رہے ہیں۔ ‘‘ لاٹھی چارج کے بعد سڑکوں پر امیدواروں کی چپلیں بکھری ہوئی نظر آئیں۔ ایک امیدوار کے کپڑے سینے تک خون سے لت پت تھے۔ لاٹھی چارج کے بعد کئی امیدواروں نے سڑک پر بیٹھ کر نعرے بازی شروع کر دی۔ بارش کے باوجود امیدوار سڑک پر ڈٹے رہے۔
یہ بھی پڑھئے: لکھیم پور کھیری کیس میں گواہوں کی پیشی نہ ہونے پریوگی سرکار کی سرزنش
تقریباً۷؍ گھنٹے بعد پولیس نے جے پی گولمبر سے تمام امیدواروں کو زبردستی ہٹا دیا۔ مارچ میں شامل امیدواروں نے کہا کہ پولیس نے مستقبل کے استاد کو مجرم کی طرح مارا پیٹا، جس میں کئی طلبہ کے سر پر شدید چوٹیں آئیں۔ طلبہ کا دعویٰ ہے کہ آنسو گیس یا واٹر کینن کا استعمال کیے بغیران پر لاٹھی چارج کیا گیا۔
دلیپ کمار نے بی پی ایس سی ٹی آرای۔ ۴؍ کے تعلق سے یہ الزام لگایا کہ کمیشن مسلسل جھوٹ بول رہا ہےاور وہ ۱۳؍لاکھ سےزائد امیدواروں کو گمراہ کررہاہے۔ ٹی آرای۔ ۴؍ کے نوٹیفکیشن کے لیے بار بار نئی تاریخ کا اعلان کیا جا رہا ہےاور باربار یہ کہا جارہاہے کہ اساتذہ کی تقرری کے لیے حکومت کی جانب سےبی پی ایس سی کو ۲۰۲۴ءمیں ہی تفصیلات بھیجی جاچکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ امتحان کنٹرولر نے حالیہ دنوں اس بات کی یقین دہانی کرائی تھی کہ ۱۹؍ اپریل کو اس کانوٹیفکیشن جاری کردیاجائے گااور ۲۵؍یا ۲۶؍ اپریل سے اس کیلئے فارم بھرنے کا عمل بھی شروع ہوجائےگا۔ لیکن اب تک ٹی آرای۔ ۴؍ کانوٹیفکیشن جاری نہیں کیا گیا، جس کے بعد ہمیں سڑکوں پر اترنا پڑا۔ قابل ذکر ہے کہ ٹی آرای۔ ۴ ؍کے تحت ریاست کے محکمہ تعلیم، محکمہ فلاح و بہبود برائے پسماندہ اور انتہائی پسماندہ طبقات، محکمہ فلاح و بہبود برائے درج فہرست ذات و قبائل اور محکمہ اقلیتی فلاح میں ۴۶۸۸۲؍اساتذہ کی تقرری ہونے والی ہے۔ طلبہ اس کےنوٹیفکیشن جاری کرنے اور امتحان جلد منعقد کرانے کا مسلسل مطالبہ کررہے ہیں۔