Inquilab Logo Happiest Places to Work

کرنل صوفیہ قریشی کے معاملے میں عدالت برہم

Updated: May 09, 2026, 12:00 PM IST | New Delhi

متنازع بیان پر سپریم کورٹ نے وزیر وجے شاہ کے خلاف مقدمہ کی منظوری میں  تاخیر اور ٹال مٹول پر مدھیہ پردیش حکومت پر سخت تبصرہ کیا۔

Colonel Sofia Qureshi. Photo: INN
کرنل صوفیہ قریشی۔ تصویر: آئی این این

سپریم کورٹ نے کرنل صوفیہ قریشی کے خلاف قابل اعتراض تبصرہ کرنے پر مدھیہ پردیش کے وزیر وجے شاہ کے خلاف مقدمہ کی منظوری میں  تاخیر پر سخت ناراضگی کا اظہار کیا۔ جمعہ کو اس معاملہ میں سماعت کے دوران سالیسٹر جنرل آف انڈیا تشار مہتا نےاس کیلئے مزید مہلت کی درخواست کرتے ہوئے وجے شاہ کے تبصروں  پرصفائی پیش کرنے کی کوشش کی، لیکن عدالت نے اس کو مستر کردیا۔ سالیسٹر جنرل نے کہا کہ شاید وزیر نےکرنل صوفیہ کی تعریف کرنے کا ارادہ کیا تھا، لیکن بات کچھ اور کہہ دی کیونکہ وہ پیغام کو ٹھیک سے بیان نہیں کر سکے۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ وزیر کے بیانات کا دفاع نہیں کر رہےہیں، لیکن یہ ان کا ذاتی نظریہ ہے، یہ مدھیہ پردیش حکومت کا موقف نہیں۔ اس پر چیف جسٹس آف انڈیا سوریہ کانت اور جسٹس جوائے مالیہ باغچی پر مشتمل بنچ نے پوچھا کہ کیا ریاست نے منظوری پر فیصلہ کرنے کی ہدایت کی تعمیل کی؟لیکن تشارمہتا نے اس کا جواب نفی میں  دیا۔ 

یہ بھی پڑھئے: شوبھندو مغربی بنگال کے نئےوزیراعلیٰ

قابل ذکر ہے کہ بنچ وجے شاہ کی طرف سے دائر درخواست کی سماعت کر رہی تھی جس میں مئی ۲۰۲۵ء میں  مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کی طرف سے ان کے تبصروں پر ایف آئی آر درج کرنے کے لیے منظور کردہ از خود نوٹس کو چیلنج کیا گیا تھا، جس میں وزیر نے پر کرنل قریشی کو دہشت گردوں کی بہن قرار دیاتھا۔ سپریم کورٹ نے گزشتہ سال ان کی گرفتاری پر روک لگاتے ہوئے معاملے کی تحقیقات کے لیے خصوصی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی تھی۔ ایس آئی ٹی کی جانب سے حتمی رپورٹ پیش کرنے کے بعد، عدالت نے ریاست سے کہا تھاکہ وہ منظوری دے کہ وزیر کے خلاف بی این ایس کی دفعہ ۱۹۶؍ تحت کی کارروائی کیلئے مقدمہ چلایا جائے یا نہیں۔ تشار مہتا کے بیان پر چیف جسٹس نے کہا کہ یہ انتہائی بدقسمتی کی بات ہےاور پھر انہیں  غلطی کا احساس بھی نہیں۔ تشار مہتا نےپھر سے وجے شاہ کا دفاع کرنے کی کوشش کرتے ہوئے کہا کہممکنہ طور پر وہ اس خاتون کی تعریف کرنا چاہتے تھےلیکن وہ اپنی بات ٹھیک سے بیان نہیں کرسکے لیکن چیف جسٹس نے اس سے اتفاق نہیں کیا۔ انہوں   نےکہا کہ سیاسی لوگ بہت سوچھ سمجھ کر بولتےہیں، اگر ان کی زبان پھسلتی تو وہ فوری طورپر معافی مانگ لیتے۔ وزیر کے دیگر متنازع بیانات کے حوالے سے ایس آئی ٹی کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے جسٹس باغچی نے کہا کہ ’’اس آدمی کو اس طرح کے بیانات دینے کی عادت ہے‘‘۔ اس پر وجے شاہ کے وکیل ایڈوکیٹ منیندر سنگھ نےکہا کہ وزیر نے بیانات کے لیے عوامی طور پر معافی مانگی ہے۔ سی جے آئی نے کہا کہ یہ مخلصانہ معافی نہیں ہے۔ عدالت نے اس بات کا نوٹس لیا کہ آپ نے یہ کیا۔ خط لکھنا معافی نہیں ہے۔ یہ صرف فرضی دفاع ہے۔ آپ کو ہاتھ جوڑ کر معافی مانگنی چاہئے تھی۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK