پٹودی حلقے سے بی جے پی کی رکن اسمبلی بملا چودھری نے ریواڑی میں پارٹی امیدوار کی ریلی میں یہ اعلان کیا۔
EPAPER
Updated: May 09, 2026, 12:00 PM IST | Pataudi
پٹودی حلقے سے بی جے پی کی رکن اسمبلی بملا چودھری نے ریواڑی میں پارٹی امیدوار کی ریلی میں یہ اعلان کیا۔
ہریانہ میں جاری بلدیاتی انتخابات کی مہم کے دوران ایک نہایت دلچسپ اور انوکھا انتخابی وعدہ سامنے آیا ہے۔ پٹودی حلقے سے بی جے پی کی رکن اسمبلی بملا چودھری نے ریواڑی میں پارٹی امیدوار کی انتخابی ریلی کے دوران ووٹروں سے وعدہ کیا کہ اگر وہ بی جے پی کو ووٹ دیکر کامیاب بناتے ہیں تو علاقے کے کنوارے نوجوانوں کی شادیاں کرانے کی ذمہ داری وہ خود لیں گی۔
قہقہوں اور مذاق کے درمیان دئیے گئے اس بیان نے جنوبی ہریانہ میں برسوں سے جاری صنفی تناسب کے بحران اور نوجوانوں کی شادی نہ ہو پانے کے سنگین مسئلے، یعنی’’بیچلر کرائسز‘‘، پر ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ ٹربیون کی رپورٹ کے مطابق بی جے پی امیدوار ونیتا پپّل کی حمایت میں منعقدہ ریلی میں پٹودی کی ایم ایل اے کا بیان وائرل ہوگیا ہے، جبکہ اسٹیج پر موجود ہریانہ کی وزیر صحت آرتی راؤ نے بھی اس پر چٹکی لی ہے۔ انہوں نے ’’وِدھائیکہ جی نے تو میرج بیورو کھول لیا ہے۔‘‘
یہ معاملہ ریواڑی میونسپل کونسل کی بی جے پی امیدوار ونیتا پپّل کی حمایت میں جمعرات کو منعقدہ ایک انتخابی جلسے کا ہے۔ یہاں ووٹروں سے خطاب کرتے ہوئے بملا چودھری نے کہا کہ ’’آپ بس ہمیں ووٹ دے کر کامیاب بنائیے، ان کنوارے نوجوانوں کے گھر بسانے یعنی ان کی شادیاں کرانے کی پوری ذمہ داری میں لیتی ہوں۔ ‘‘ بعد میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بملا چودھری نے اپنے بیان کا دفاع کیا اور دعویٰ کیا کہ وہ پہلے بھی پلول اور آس پاس کے اضلاع کی لڑکیوں سے کئی کنوارے نوجوانوں کی شادیاں کروا چکی ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: نئی پارٹی، نیا لیڈر، نئی حکومت ، نیا تمل ناڈو
اگرچہ انتخابی ریلی میں اس بیان کو ہلکے پھلکے انداز میں لیا گیا، لیکن اس کے پیچھے جنوبی ہریانہ کی ایک نہایت سنگین سماجی حقیقت پوشیدہ ہے۔ ہریانہ طویل عرصے سے بچیوں کے اسقاطِ حمل اور صنفی امتیاز کے باعث ملک کی بدترین صنفی تناسب والی ریاستوں میں شمار ہوتا رہا ہے۔ ۲۰۱۱ء کی مردم شماری کے اعداد و شمار کے مطابق ریاست میں ہر ایک ہزار مردوں کے مقابلے میں صرف۸۷۹؍ خواتین تھیں، جبکہ بچوں کے صنفی تناسب کی صورتحال اس سے بھی زیادہ تشویشناک تھی، جہاں ہرایک ہزار لڑکوں کے مقابلے میں صرف۸۳۴؍ لڑکیاں تھیں۔ ماہرین کے مطابق اسی عدم توازن کے باعث آج ریواڑی، مہندر گڑھ، جھجھر اور گروگرام کے دیہی علاقوں میں ۳۰؍ اور۴۰؍ سال کی عمر پار کر چکے ہزاروں نوجوانوں کو شادی کیلئے لڑکیاں نہیں مل رہیں، اور خاندانوں کو دوسری ریاستوں سے دلہنیں لانی پڑ رہی ہیں۔
قابل ذکر ہے کہ ہریانہ کی سیاست میں ’شادی‘ اور ’دلہن‘ کا مسئلہ نیا نہیں ہے۔ اس سے قبل۲۰۱۴ء کے انتخابات کے دوران بی جے پی کے سینئر لیڈر او پی دھنکھڑ نے بھی کنوارے نوجوانوں کے لیے بہار سے دلہنیں لانے کی بات کہی تھی، جس پر ملک بھر میں شدید تنازع کھڑا ہوگیا تھا۔ فی الحال ریواڑی میونسپل کونسل انتخابات کےلئے ۱۰؍ مئی کو ووٹنگ ہونی ہے جبکہ نتائج۱۳؍ مئی کو آئیں گے۔