بہار :مہا گٹھ بندھن نے انتخابی منشور جاری کیا ،۱۰؍ لاکھ ملازمتوں کا وعدہ

Updated: October 18, 2020, 8:32 AM IST | Asfar Faridi | Patna

مہاگٹھ بندھن کے لیڈروں نے ’کلش‘ رکھنے کے بعد اپناانتخابی منشور جاری کیا،آرجے ڈی لیڈر اوروزیر اعلیٰ کے عہدے کے امیدوار تیجسوی یادو نے کہا کہ ’’ نوراتری کے موقع پر کلش نصب کیا جاتاہے اور کلش نصب کرتے وقت ’سنکلپ‘ لیا جاتاہے، پہلی کابینہ میٹنگ میں ۱۰؍ لاکھ نوکریاں دینے کاوعدہ ، آئینی حقوق کے تحفظ کا بھی عہد،بہار کے عوام کو اقتصادی طور پر مضبوط بنانے کا بھی وعدہ

Mahagatbandhan - PIC : PTI
مہا گٹھ بندھن کے لیڈران تیجسوی یادو ،رندیپ سرجیوالا اور دیگراتحاد کا انتخابی منشور جاری کرتے ہوئے۔(تصویر: پی ٹی آئی

آج بے حد خاص دن ہے۔ نوراتری کا تیوہار شروع ہورہا ہے۔ اس موقع پر ہم کلش نصب کرتے ہیں ۔جب کلش نصب کیا جاتا ہے تو لوگ  سنکلپ لیتے ہیں۔ہم لوگوں نے کلش نصب کیا ہے اور سنکلپ لیاہے۔ہمیں بے حد خوشی ہےکہ آج کےدن کو ہم لوگوں نے آپ کے سامنے سنکلپ کو جاری کرنے کے لیے منتخب کیا   ہے۔‘‘ان خیالات کا اظہار مہاگٹھ بندھن کی طرف سے وزیر اعلیٰ کے عہدے کے امیدوار تیجسوی یادو نے  یہاں ایک ہوٹل میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔ یہ پریس کانفرنس صبح ۹؍ بجے مہاگٹھ بندھن کی طرف سے بلائی گئی تھی لیکن تاخیر سے شروع ہوئی۔ تیجسوی یادو نے اس سے خطاب کرتے ہوئےکہا کہ ہم بہاری ہیں، ہم جو کہتے ہیں وہ کرتے ہیں۔ ہم نے پہلے بھی آپ سب کو بتایا ہےکہ اگر ہماری سرکار بنتی ہے، بہار کے عوام ہمیں موقع دیتے ہیں تو کابینہ کی پہلی میٹنگ میں پہلا دستخط ریاست کے ۱۰؍ لاکھ نوجوانوں کو نوکری دینے کے لئے کریں گے۔ انتخابی منشور جسے ’سنکلپ بدلاؤ کا‘  نام دیا گیا ہے ،میں کہا گیا ہے کہ این ڈی اے حکومت میں جن ساڑھے چار لاکھ منظور شدہ اسامیوں پر تقرریاں نہیں کی گئی ہیں ، ان پر بحالی کا سلسلہ شروع کرنے کے ساتھ ہی ساڑھے پانچ لاکھ مستقل نوکریوں کے مواقع پیداکیے جائیں گے۔ 
  واضح رہے کہ مہاگٹھ بندھن میں آرجے ڈی سب سے بڑی پارٹی ہے اور اس کے انتخابی منشور کو آرجے ڈی کی پالیسی میں بنیادی تبدیلی کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔ واضح  رہے کہ  لالو پرسادکا سماجی انصاف اور سماج میں وقار کے ساتھ رہنے پر زورہوتا تھا جبکہ تیجسوی یادو عام لوگوں کو اقتصادی اعتبار سے مضبوط بنانے کی بات کررہے ہیں۔ مہاگٹھ بندھن کی طرف سے وزیر اعلیٰ کے عہدے کے امیدوار نے کہا کہ عوام نے خدمت کا موقع دیا تو مسابقتی امتحانات کے لیےفارم مفت ملیں گے اور امیدواروں کے لیے اپنے آبائی ضلع سے امتحان مراکز تک کا سفر فری ہوگا۔ مہاگٹھ بندھن نے معاہدے پر بحال  کئے گئے ٹیچروں کو بھی بڑی راحت دینے کی بات کہی ہے۔
  انتخابی منشور میں کہا گیا ہے کہ کانٹریکٹ سسٹم ختم کرکے ٹھیکے پر رکھے گئے ٹیچروں کی نوکری مستقل کی جائے گی اور مساوی کام کے لیے مساوی تنخواہ کا اصول نافذ کیا جائے گا۔ اسی طرح جیویکا دیدیوں کی ملازمت مستقل کرنے کا وعدہ کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ان کی تنخواہوں میں اضافہ کیا جائے گا۔ قابل ذکر ہے کہ امسال اگست کے اواخر اور ستمبر کے اوائل میں جیویکا دیدیوں نے بڑے پیمانے پر احتجاج کیا تھا۔ مہاگٹھ بندھن نے دیہی علاقوں میں صحت خدمات کو بہتر بنانے کا وعدہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسمارٹ گرام یوجنا کے تحت ہر پنچایت میں ایک ڈاکٹر اور تربیت یافتہ نرس کے ساتھ کلینک کھولے جائیں گے۔
  اپنے ۲۵؍ نکاتی منشور کےسلسلے میں مہاگٹھ بندھن نے عوام سے کہا ہے کہ ’یہ سچ ہونے والا ہے۔‘ آرجے ڈی ، کانگریس اور بایاں محاذ پر مشتمل مہاگٹھ بندھن نے اپنے منشور میں کہاکہ ’خطرے میں پڑے ہوئے سبھی آئینی حقوق کے تحفظ کے لیے نئی حکومت پابند عہد رہے گی۔ ہم مانتے ہیں کہ عوامی تحریکوں اور تنقیدوں سے حکومت کمزور نہیں بلکہ مضبوط ہوتی ہے۔ تحریکوں سے مذاکرات کرنے کے لیے حکومت پابند عہدرہے گی۔ بہار میں کسی بھی تحریک کار یا بے قصور شہری کو جعلی کیس لگا کر پریشان نہیں کیا جائے گا۔ ملک میں ایسے غیرمنصفانہ مقدمات اور گرفتاریوں کے خلاف بہار اسمبلی میں تجویز منظور کی جائے گی۔ 

انتخابی منشور کے اہم وعدے 

 nمسابقتی امتحانات کے لیے درخواست فارم کی فیس  معاف ہوگی  ، ساتھ ہی  امتحان مراکز تک آنےجانےکا سفرمفت ہو گی ۔
 nاساتذہ کو مساوی کام کے لیے مساوی تنخواہ ملے گی،جیویکادیدیوںکی نوکری مستقل ہوگی اور تنخواہ میں اضافہ کیا جائے گا۔تھانے اور دفاتر سے بدعنوانیوں کوختم کرنا پہلی ترجیح ، ۲۰۰۵ء سے پہلے والی پنشن اسکیم نافذ ہوگی ،بجلی سستی ہوگی۔
 nبیوروکریسی سیاسی مداخلت سے آزاد ہوگی، کسی بھی احتجاج کرنے والے کے خلاف جعلی مقدمات درج نہیں ہوں گے۔ نقل مکانی روکنے کیلئے  امدادی مراکز کھولے جائیں گے۔ نئے زرعی قوانین کو منسوخ کیا جائے گا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK