• Fri, 06 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

’’الیکشن کمیشن کو فی الحال سیاسی جماعتوں کا رجسٹریشن منسوخ کرنے کا اختیار نہیں ہے‘‘

Updated: February 06, 2026, 12:02 PM IST | Hamidullah Saeed | New Delhi

الہ آباد ہائی کورٹ کی لکھنؤ بنچ نے ذات پر مبنی سیاسی ریلیوں پر پابندی عائد کرنے اور سیاسی جماعتوں کا رجسٹریشن منسوخ کرنے سے متعلق ۲۰۱۳ء میں داخل مفادعامہ کی عرضی خارج کر دیا ہے۔ یہ عرضی موتی لال یادو ایڈوکیٹ کی جانب سے دائر کی گئی تھی۔ ہائی کورٹ کی اس وضاحت سے ریاست کی یوگی حکومت کو بڑا جھٹکا لگا ہے۔

Election Commission Gyanesh Kumar.Photo:INN
الیکشن کمیشن گیانیش کمار۔ تصویر:آئی این این

الہ آباد ہائی کورٹ کی لکھنؤ بنچ نے ذات پر مبنی سیاسی ریلیوں پر پابندی عائد کرنے اور سیاسی جماعتوں کا رجسٹریشن منسوخ کرنے سے متعلق ۲۰۱۳ء میں داخل مفادعامہ کی عرضی خارج کر دیا ہے۔ یہ عرضی موتی لال یادو ایڈوکیٹ کی جانب سے دائر کی گئی تھی۔ ہائی کورٹ کی اس وضاحت سے ریاست کی یوگی حکومت کو بڑا جھٹکا لگا ہے۔
جسٹس راجن رائے اور جسٹس اودھیش کمار چودھری پر مشتمل دو رکنی بنچ نے واضح کیا کہ انتخابی کمیشن کو موجودہ قانون کے تحت سیاسی جماعتوں کا رجسٹریشن منسوخ کرنے یا ذات پر مبنی ریلیوں پر مکمل پابندی لگانے کا اختیار حاصل نہیں ہے۔ عدالت نے کہا کہ اس نوعیت کے معاملات میں پہلے سے ہی قانونی دفعات اور سرکاری احکامات موجود ہیں، ضرورت صرف ان پر مؤثر عمل درآمد کی ہے۔ عدالت نے کہا کہ الیکشن کمیشن کا کردار انتخابی عمل کے آغاز کے بعد فعال ہوتا ہے اور انتخابات کے دوران ’ماڈل کوڈ آف کنڈکٹ ‘نافذ رہتا ہے، جو ایسی سرگرمیوں پر پابندی لگاتا ہے جو ذات، مذہب یا برادری کی بنیاد پر نفرت یا تقسیم کو بڑھاوا دیتی ہوں۔ خلاف ورزی کی صورت میں الیکشن سمبل (ریزرویشن اینڈ الاٹمنٹ) آرڈر ۱۹۶۸ء کے پیرا (۱۶؍اے )کے تحت کارروائی ممکن ہے، جس میں کسی سیاسی جماعت کی منظوری معطل یا واپس لی جا سکتی ہے۔

یہ بھی پڑھئے:جوہو:فلمساز روہت شیٹی کی رہائش گاہ پر فائرنگ معاملے میں ایک اور ملزم گرفتار

غیر انتخابی مدت کے حوالے سے عدالت نے اتر پردیش حکومت کے ۲۱؍ستمبر۲۰۲۵ء کے جاری کردہ حکومتی حکم نامے کا حوالہ دیا، جس میں سیاسی مقاصد کیلئے ذات پر مبنی ریلیوں کو’عوامی نظم اور قومی یکجہتی‘ کے خلاف قرار دیتے ہوئے ان پر مکمل پابندی عائد کی گئی ہے۔سیاسی جماعتوں کا رجسٹریشن منسوخ کرنے کے مطالبے پر عدالت نے سپریم کورٹ کے فیصلے ’انڈین نیشنل کانگریس بنام انسٹی ٹیوٹ آف سوشل ویلفیئر (۲۰۰۲ء)‘ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پارلیمنٹ نے جان بوجھ کر الیکشن کمیشن کو اس بنیاد پر جماعتوں کا رجسٹریشن منسوخ کرنے کا اختیار نہیں دیا ہے، سوائے چند مخصوص حالات کے، جیسے دھوکہ دہی یا آئین سے وفاداری ترک کرنا۔

یہ بھی پڑھئے: آر سی بی چیمپئن: دہلی کیپیٹلز کو شکست دے کر ڈبلیو پی ایل کا تاج سر پر سجا لیا


عدالت نے امیدواروں کی نااہلی کے سوال پر بھی وضاحت کی کہ صرف الزامات کی بنیاد پر کسی شخص کو انتخاب لڑنے سے روکنے کا کوئی مکمل قانونی التزام نہیں ہے۔ عوامی نمائندگی ایکٹ  ۱۹۵۱ء کی دفعہ ۱۲۳؍(۳) کے تحت ذات یا مذہب کی بنیاد پر ووٹ مانگنا بدعنوان انتخابی عمل میںشمار ہوتا ہے، مگر نااہلی تبھی ممکن ہے جب جرم ثابت ہو۔عرضی کومستردکرتے ہوئے عدالت نے آئین کے آرٹیکل ۵۱؍اے (ای) کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ذات پات اور تقسیم کی سیاست کا مستقل حل قوانین سے زیادہ تعلیم، خاندانی اقدار اور سماجی تربیت میں پوشیدہ ہے۔ عدالت کے مطابق ’ہر مسئلے کو صرف قانون کے ذریعے کنٹرول نہیں کیا جا سکتا، اس کے لئے سماجی اور اخلاقی اصلاح بھی ضروری ہے‘۔عدالت نے یہ بھی کہا کہ اگر موجودہ قوانین یا ۲۱؍ ستمبر۲۰۲۵ء کے حکومتی حکم نامے پر عمل درآمد نہ ہو تو عرضی گزار مناسب شواہد کے ساتھ دوبارہ عدالت سے رجوع کر سکتا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK