• Wed, 16 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

بجنور: سرکاری ٹیچر نوشاد احمد کا اسکول کے باہر قتل، ملزم نے خودسپردگی کی

Updated: September 16, 2026, 3:34 PM IST | Bijnor

پولیس کے مطابق نوجوان نے اسکول سے نکلنے کے بعد نوشاد احمد کو گولی ماری، اسپتال لے جاتے ہوئے موت؛ پولیس کے مطابق قتل کی اصل وجہ ابھی واضح نہیں، جائیداد کے تنازع کا پہلو بھی زیرِ تفتیش۔

Naushad Ahmed. Photo: X
استاد نوشاد احمد۔ تصویر: ایکس

اترپردیش کے بجنور ضلع کے نجیب آباد میں سرکاری اسکول کے استاد نوشاد احمد کو منگل کے روز اسکول سے گھر جاتے وقت گولی مار کر قتل کردیا گیا۔ حملہ آور نے اسکول سے تقریباً ۱۵۰؍ میٹر دور ان پر فائرنگ کی۔ شدید زخمی حالت میں استاد کو پہلے نجیب آباد کے ایک نجی اسپتال لے جایا گیا، جہاں سے حالت نازک ہونے پر جولی گرانٹ، اتراکھنڈ کے اسپتال کے لیے ریفر کیا گیا، تاہم علاج کے دوران ان کی موت ہوگئی۔ واردات کے کچھ ہی دیر بعد ملزم گورو راٹھی خود نجیب آباد تھانے پہنچا اور پولیس کے سامنے سرینڈر کردیا۔ 

یہ بھی پڑھئے: لاتور: مشہور تعلیمی ادارے کے بانی سنجیو سونونے نے گولی مار کرخودکشی کرلی

نوشاد احمد نجیب آباد کے پورشوتّم پور پرائمری اسکول میں تعینات تھے اور راحت پور خورد میں رہتے تھے۔ منگل کو تقریباً ۲؍ بجے اسکول کی چھٹی کے بعد وہ گھر کے لیے نکلے۔ پولیس اور مقامی رپورٹس کے مطابق حملہ آور پہلے سے موٹر سائیکل کے ساتھ راستے میں موجود تھا۔ اسکول سے کچھ فاصلے پر پہنچنے کے بعد اس نے نوشاد پر فائرنگ کردی۔ بعض رپورٹس میں گولیاں سینے میں لگنے کی بات کہی گئی ہے، جبکہ دیگر میں پیٹ میں گولی لگنے کا ذکر ہے؛ پولیس کی جانب سے زخموں کی حتمی تفصیل جاری نہیں کی گئی ہے۔ گولی لگنے کے بعد نوشاد دوبارہ اسکول کی طرف آئے۔ وہاں موجود خاتون استاد ترونا چورسیا نے انہیں زخمی حالت میں دیکھا اور فوری طور پر ایک ای رکشا روکا۔ انہیں نجیب آباد کے اسپتال پہنچایا گیا، جہاں ابتدائی علاج کے بعد ڈاکٹروں نے جولی گرانٹ کے ہمالیائی اسپتال کے لیے ریفر کردیا۔ بعد میں ان کی موت ہوگئی۔ 
واردات کے بعد ملزم کے خود تھانے پہنچنے سے پولیس نے اسے فوری طور پر حراست میں لے لیا۔ ایک رپورٹ کے مطابق وہ 2 دیسی پستول اور ۶؍ کارتوس لے کر تھانے پہنچا تھا۔ پولیس اب اس سے پوچھ گچھ کررہی ہے اور یہ جاننے کی کوشش کی جارہی ہے کہ حملہ پہلے سے منصوبہ بند تھا یا کسی تنازع کے نتیجے میں کیا گیا۔ پولیس نے جائے واردات سے شواہد جمع کرنے کے ساتھ قریبی سی سی ٹی وی فوٹیج کی بھی جانچ شروع کردی ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: سنبھل کےمسلم ٹیچر کو بڑی راحت،ہائی کورٹ نےمعطلی کے حکم پر روک لگائی

قتل کے محرک کے بارے میں ابھی مختلف باتیں سامنے آرہی ہیں۔ پولیس افسران نے واضح کیا ہے کہ قتل کی وجہ ابھی سامنے نہیں آئی ہے اور ملزم سے پوچھ گچھ جاری ہے۔ نوشاد کے تدریسی کام کے ساتھ جائیداد کی خرید و فروخت سے وابستہ ہونے کی اطلاعات کے باعث پولیس پراپرٹی یا مالی لین دین کے تنازع کے امکان کو بھی جانچ رہی ہے۔ تاہم اس پہلو کی بھی ابھی تصدیق نہیں ہوئی ہے۔ اسی دوران بعض مقامی رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ملزم نے پولیس کے سامنے نوشاد پر ’’لو جہاد‘‘ سے متعلق الزام لگایا۔ تاہم یہ ملزم کا مبینہ بیان ہے، پولیس کی جانب سے قتل کی تصدیق شدہ وجہ نہیں۔ پولیس نے فی الحال کسی ایک محرک کو حتمی قرار نہیں دیا ہے اور تمام پہلوؤں سے تفتیش جاری رکھنے کی بات کہی ہے۔ بجنور کے ایس پی کے کے بشنوئی کے مطابق ملزم نے سرینڈر کردیا ہے اور اس سے پوچھ گچھ کی جارہی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ قتل کی اصل وجہ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی واضح ہوگی۔ نوشاد کی ہلاکت کے بعد اسکول کے اساتذہ اور طلبہ میں بھی غم کی کیفیت ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK