مملکت کےشہر خمیس مشیط پرحوثی جنگجوؤں کے حملے، ۱۳؍ شہری زخمی، طائف اور جدہ سمیت۶؍ شہروں میں الرٹ جاری کیا گیا اور خطرہ ٹلنے کےبعد واپس بھی لے لیا گیا۔
EPAPER
Updated: September 16, 2026, 2:03 PM IST | Agency | Sanaa
مملکت کےشہر خمیس مشیط پرحوثی جنگجوؤں کے حملے، ۱۳؍ شہری زخمی، طائف اور جدہ سمیت۶؍ شہروں میں الرٹ جاری کیا گیا اور خطرہ ٹلنے کےبعد واپس بھی لے لیا گیا۔
حوثیوں اورسعودی عرب کے درمیان گزشتہ کئی دنوںسے جاری کشیدگی اس وقت اور بھی شدید ہوگئی جب منگل کو حوثیوں کی جانب سے جنوبی سعودی عرب کے شہر خمیس مشیط میں ایک فوجی فضائی اڈے پر درجنوں میزائل اور ڈرون داغے گئے۔ ان حملوں میں طیاروں کے ہینگرز، راڈار نظام، رن وے اور گولہ بارود کے ذخائر کو نشانہ بنایا گیا۔رائٹرز کے مطابق حوثیوں کا کہنا ہے کہ یہ حملے یمن میں سعودی فضائی حملوں کے جواب میں کئے گئے۔ سعودی حکام نے خمیس مشیط اور جنوبی علاقے کے ۳؍ دیگر شہروں کیلئے الرٹ جاری کیا ہے۔ یمن میں سعودی قیادت میں قائم اتحاد کے مطابق حوثیوں کے حملوں میں۱۳؍ شہری زخمی ہوئے۔سعودی عرب کے محکمۂ شہری دفاع نے ینبع، العلا، جدہ، طائف، ابہا اور جازان میں ممکنہ خطرے کے پیشِ نظر مختصر ایمرجنسی الرٹ جاری کئے تاہم چند منٹ بعد تمام الرٹ واپس لے لیے گئے۔سعودی شہری دفاع نے صورتِ حال معمول پر آنے اور خطرہ ختم ہونے کا اعلان بھی کر دیا۔ سعودی سول ڈیفنس نے بتایا کہ یہ انتباہ ہنگامی حالات کیلئے قومی ابتدائی انتباہی پلیٹ فارم کے ذریعے جاری کیے گئے تھے۔ شہریوں سے کہا گیا کہ وہ پُرسکون رہیں اور فوری طور پر قریبی محفوظ مقام، ترجیحاً کسی عمارت یا کھڑکیوں سے دور اندرونی کمرے میں چلے جائیں اور خطرہ ٹلنے تک وہیں رہیں۔
یہ بھی پڑھئے:اے آئی میں ہم سب کو مارنے کی صلاحیت ہے: سابق ڈیپ مائنڈ محقق بلال چغتائی
سعودی اور یمنی فضائی افواج کی بمباری
حوثیوں کی کارروائیوں کے جواب میں سعودی اور یمنی فضائی افواج نے حوثیوں کے ٹھکانوں پر بمباری تیز کر دی ہے جن میں بحیرہ احمر کی تاریخی بندرگاہ مخا کے اطراف کے علاقے بھی شامل ہیں۔ تاہم بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ یمنی حکومت کے حکام کے مطابق حوثیوں نے بحیرہ احمر کے ساتھ ملک کے تقریباً پورے مغربی ساحل پر موثر کنٹرول برقرار رکھا ہوا ہے۔ایک یمنی عہدیدار نے کہاکہ ’’حوثیوں پر شدید دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔ وہ اس کے جواب میں سعودی عرب پر مزید دباؤ بڑھا رہے ہیں اور میزائل اور ڈرون حملوں کی اپنی مہم میں اضافہ کر رہے ہیں۔‘‘ منگل کو ایک حوثی عہدیدار نے بتایا کہ سعودی جنگی طیاروں نے یمن میں حملے کئے جن میں۲؍ بچوں سمیت ۳؍ افراد کی موت ہوگئی جبکہ ’ہیومن رائٹس واچ‘ نے حوثیوں پر تجارتی جہازوں پر حملوں کے ذریعے ممکنہ جنگی جرائم کے ارتکاب کا الزام عائد کیا۔
خبر رساں ادارہ ایسوسی ایٹڈ پریس حوثی عہدیدار کے اس دعوے کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں کر سکا۔ عہدیدار نے یہ نہیں بتایا کہ سعودی جنگی طیاروں نے کن مقامات کو نشانہ بنایا۔
یہ بھی پڑھئے:وردھا: احتجاج میں شامل ہونے پر لوگوں کے گھروں پر رات کو نوٹس چسپاں
شہریوں کی زندگی کو خطرہ
یمن میں دوبارہ شروع ہونے والی لڑائی شہریوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈال رہی ہے اور بحیرۂ احمر سے گزرنے والے جہازوں کیلئے بھی خطرہ بن رہی ہے ۔ یہ راستہ اس وقت سے اور بھی اہم ہو گیا ہے جب سے امریکہ کی ایران کے خلاف جنگ کے نتیجے میں آبنائے ہرمز میں نقل و حمل متاثر ہوئی ہے۔
یمن کے جنوب مغرب میں سعودی فضائی حملوں میں۳؍ افراد کی موت کے بارے میں حوثیوں کے زیرانتظام وزارتِ صحت کے ترجمان انیس الاصبحی نے منگل کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ میں بتایا کہ یمن کے صوبہ تعز میں سعودی فضائی حملوں میں ۲؍بچوں سمیت ۳؍ افراد ہلاک ہو گئے۔الاصبحی نے مزید بتایا کہ ان حملوں میں ۲؍ دیگر افراد زخمی بھی ہوئے۔کشیدگی میں یہ اضافہ ایسے وقت ہوا ہے جب حوثیوں نے جنوبی بحیرہ احمر میں واقع اسٹرٹیجک اہمیت کے حامل جزائر ’گریٹر حنیش‘ اور ’لیسر حنیش‘ پر قبضہ کر لیا ہے۔
سعودی عرب کا سخت ردعمل کا انتباہ
سعودی عرب نے منگل کو خبردار کیا کہ وہ حوثیوں کی کارروائیوں پر ’سخت‘ردعمل ظاہر کرے گا۔ حوثی سعودی حمایت یافتہ سرکاری افواج کے ساتھ دوبارہ لڑائی میں مصروف ہیں۔ یہ لڑائی جولائی میں اس وقت شدت اختیار کر گئی تھی جب اس گروپ نے ریاض کے خلاف بحری ناکہ بندی کا اعلان کیا اور بحیرہ احمر میں سعودی جہازوں کو نشانہ بنانا شروع کیا۔یہ گروپ گزشتہ ہفتے یمن کے ساحل بحیرہ احمر اور آبنائے باب المندب پر قبضہ کرچکاہے۔