• Wed, 16 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

سنبھل کےمسلم ٹیچر کو بڑی راحت،ہائی کورٹ نےمعطلی کے حکم پر روک لگائی

Updated: September 16, 2026, 11:02 AM IST | Hamidullah Siddiqui | Lucknow

انہیں اسکول میں دعائیہ نظم ’لب پہ آتی ہے‘پڑھوانے اور اسلامی لباس پہننے کی ترغیب دینے کا الزام لگاکرمعطل کردیا گیا تھا، محکمہ جاتی انکوائری جلد مکمل کرنے کی ہدایت۔

They have suffered a major blow due to this Allahabad High Court verdict, which upheld the suspension of Mohammad Anzar. Photo: INN
الہ آباد ہائی کورٹ کے اس فیصلے سے انہیں بڑا جھٹکا لگا ہے جو محمد انظر کی معطلی کو جائز ٹھہرارہے تھے۔ تصویر: آئی این این

 الٰہ آباد ہائی کورٹ نےاسکول میں طلبہ سےدعائیہ نظم پڑھوانے اور اسلامی ڈریس پہننے کی ترغیب دینے کاالزام میں معطل کئےگئے ٹیچر محمد انظر احمد کو بڑی راحت دیتے ہوئے ان کی معطلی کے حکم پر روک لگا دی ہے، ساتھ ہی محکمہ جاتی انکوائری جلد مکمل کرنے کی ہدایت دی ہے۔ جسٹس منجو رانی چوہان کی بنچ نے کہا کہ انکوائری کو جلد از جلد اور ۱۵؍ دن کے اندر مکمل کیا جائے۔ عدالت نے یہ بھی حکم دیا کہ انکوائری مکمل ہونے تک استاد کی معطلی کا حکم مؤخر رہے گا اور اس کا حتمی فیصلہ انکوائری کے نتیجے پر منحصر ہوگا۔

یہ بھی پڑھئے:بہار میں سیلاب سے بڑی آبادی متاثر، اپوزیشن نے راحت کی مانگ کی

عدالت میں ٹیچر محمد انظر احمد کی جانب سے دائر رٹ عرضی پر سماعت ہوئی تھی۔ عرضی میں ضلع بنیادی تعلیم افسر سنبھل کی جانب سے ۱۰؍ مئی ۲۰۲۶ء کو جاری کئے گئے معطلی کے حکم کو چیلنج کیا گیا تھا۔الزام تھا کہ جس مدت کے دوران عرضی گزار اسکول میں انچارج ہیڈ ماسٹر کے طور پر خدمات انجام دے رہے تھے، اس دوران طلبہ علامہ اقبال کی مشہور نظم’ لب پہ آتی ہے دعا بن کے تمنا میری‘ پڑھتےتھے اور اسلامی لباس پہنتے تھے۔ استاد کی جانب سے عدالت کو بتایا گیا کہ جس مدت سےمتعلق یہ الزامات ہیں، اس دوران وہ منظور شدہ طبی رخصت پر تھے اور اس طرح کی سرگرمیاں ان کی موجودگی یا مدتِ کار میں نہیں ہوئیں۔ یہ بھی دلیل دی گئی کہ جب طلبہ مبینہ طورایسا کر رہے تھے، اس وقت استاد خود وہاں موجود نہیں تھے۔عرضی گزار ٹیچر کے وکلاء بھاویش سنگھ، محمد نوشاد صدیقی اور سید اقبال احمدنے مزید کہا کہ اگر انہیں متعلقہ مدت میں انچارج ہیڈ ماسٹر بھی مان لیا جائے تو بھی عائد الزامات اتنی بڑی سزا یا کارروائی کا جواز نہیں بنتے۔

یہ بھی پڑھئے:اسرائیلی وزیر ثقافت کا ’نازا‘ کے فلم سازوں کی شہریت منسوخ کرنے کی دھمکی

دوسری جانب ریاستی حکومت کے وکیل ناگیندر کمار پانڈے نے عدالت کو بتایا کہ سرکاری ریکارڈ کے مطابق عرضی گزار ان مواقع پر موجود تھے جب طلبہ مبینہ طور پر اسلامی دعا پڑھ رہے تھا اورمخصوص لباس پہن رہے تھے۔اس کے جواب میں استاد کے وکیل نے عدالت کی توجہ ان دستاویزات کی طرف دلائی جن کے مطابق متعلقہ مدت میں استاد اسپتال میں داخل تھے۔ تاہم عدالت نے اس مرحلے پر الزامات کی میرٹ پر کوئی حتمی رائے دینے سے انکار کردیا۔عدالت نے کہا کہ استاد اپنی وضاحت اور اپنے حق میں موجود دستاویزات کو محکمہ جاتی انکوائری کے دوران دفاع کے طور پر پیش کر سکتے ہیں۔

عدالت نے واضح کیا کہ محکمہ جاتی انکوائری کے دوران عرضی گزار کو اپنی بے گناہی ثابت کرنے کا مناسب موقع دیا جائے گا۔عدالت نے اس کے ساتھ ہی رٹ عرضی نمٹاتے ہوئے ہدایت دی کہ استاد کے خلاف شروع کی گئی محکمہ جاتی انکوائری قانون کے مطابق جلد از جلد اپنے منطقی انجام تک پہنچائی جائے اور۱۵؍ دن کے اندر مکمل کی جائے۔عدالت نے حکم دیا کہ انکوائری مکمل ہونے تک استاد کے خلاف جاری معطلی کا حکم مؤخر رہے گا اور اس کا حتمی فیصلہ محکمہ جاتی انکوائری کے نتیجے کے مطابق ہوگا۔ عدالت نے متعلقہ حکام کو یہ بھی ہدایت دی کہ انکوائری سے متعلق تمام ضروری دستاویزات استاد کو تین دن کے اندر فراہم کی جائیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK