لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے گزشتہ روز ایوان میں جو تقریر کی اُس کی غیر جانبدار حلقوں میں یقیناً پزیرائی ہوگی۔ یہ تقریر نہ صرف یہ کہ دوٹوک تھی بلکہ اتنی جامع تھی کہ اس کے کسی حصے کو غیر ضروری، تنقید برائے تنقید یا تنقید برائے تنقیص نہیں کہا جاسکتا۔
راہل گاندھی۔ تصویر:آئی این این
لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے گزشتہ روز ایوان میں جو تقریر کی اُس کی غیر جانبدار حلقوں میں یقیناً پزیرائی ہوگی۔ یہ تقریر نہ صرف یہ کہ دوٹوک تھی بلکہ اتنی جامع تھی کہ اس کے کسی حصے کو غیر ضروری، تنقید برائے تنقید یا تنقید برائے تنقیص نہیں کہا جاسکتا۔ بجٹ پر بولنا تھا وہ بجٹ پر بولے۔ نہایت نپا تلا انداز اختیار کرتے ہوئے اُنہوں نے شروعات حکومت کے پیش کردہ اکنامک سروے کے چند نکات کی ستائش سے کی اور یہ بتانے پر مرکوز رہے کہ ہم یہ تو جانتے ہیں کہ دُنیا کس طرف جارہی ہے مگر اُس طرف جانے کیلئے ہمارے پاس جو وسائل ہونے چاہئیں اُن کو ہم اہمیت نہیں دے رہے ہیں۔ اُنہوں نے موجودہ دور میں ڈیٹا کے قیمتی بلکہ بہت زیادہ قیمتی ہونے پر زور دیا اور کہا کہ اُسی ملک کے پاس ڈیٹا سب سے زیادہ ہوگا جس کی آبادی سب سے زیادہ ہے۔ اس اعتبار سے اُنہوں نے چین اور ہندوستان کا حوالہ دیا اور کہا کہ ڈیٹا کے نقطۂ نظر سے ہماری آبادی رحمت ہے (زحمت نہیں) جو ڈیٹا تیار کرتی ہے لہٰذا عالمی نقشے پر ہماری اہمیت بھی زیادہ ہونی چاہئے۔ اس کے بعد اُنہوں نے غذا کی اہمیت پر زور دیا کہ کسی ملک کا غذائی اُمور میں خود کفیل ہونا اس کی طاقت ہے اور ہندوستان غذا کے معاملے میں خود کفیل ہی نہیں بلکہ ہم اپنی ضرورت سے زائد اناج پیدا کرتے ہیں۔ اس طرح اپنے ملک کی مزید چند خوبیوں کا احاطہ کرتے ہوئے اُنہوں نے امریکہ سے ہونے والی ڈیل کو ہدف بنایا اور کہا کہ اگر ہم اپنا ڈیٹا امریکہ کے حوالے کررہے ہیں اور کسی شرط کے بغیر کررہے ہیں اور غذائی اُمور میں بڑی طاقت ہونے کے باوجود امریکہ کے آگے سپر ڈال رہے ہیں تو کتنے بڑے خسارے کا سودا کررہے ہیں یہ اہم سوال ہے۔
راہل نے بجٹ سے نکات نکالے اور اُس کسوٹی پر امریکہ سے ہونے والے معاہدہ کو پرکھنے کی کوشش کی اور یہ نتیجہ نکالا کہ ہماری حکومت نے وطن عزیز کو گویا بیچ دیا ہے۔ ’’بیچ دینا‘‘ الزام ہے مگر راہل نے بتایا کہ بیچ دینا کا معنی کیا ہے اور ہم نے کہاں کہاں خود کو گروی رکھا یا بیچا ہے۔ اُنہوں نے زراعت کا حوالہ دیا۔ تیل خریدنے کی شرطوں کا حوالہ دیا۔ کس سے خریدنا ہے اور کس سے نہیں خریدنا ہے اور اس سلسلے میں ہماری نگرانی کی جائے گی وغیرہ کا حوالہ دیا اور حکومت کو کٹہرے میں کھڑا کیا۔ اُنہوں نے ٹرمپ کے طرز عمل کو ہدف تنقید بناتے ہوئے مودی حکومت سے سوال کیا کہ آخر ہم ٹرمپ کی شرطوں کو کیوں مانتے جارہے ہیں۔
اس تقریر کے دوران صدر نشین جگدمبیکا پال نے چند باتوں پر اُنہیں روکا، پارلیمانی اُمور کے وزیر کرن رجیجو نے بھی بعض باتوں پر اعتراض کیا مگر اس کی وجہ سے کوئی بڑا تعطل پیدا نہیں ہوا۔ حکمراں اتحاد کی جانب سے اتنی مداخلت نہیں ہوئی جتنی کہ راہل کی سابقہ تقریروں میں ہوتی رہی اور جو ایک طرح کا طے شدہ امر بن گیا تھا کہ راہل کی تقریر ہوگی تو مداخلت یقینی ہے۔ اس تقریر سے ایک بار پھر ثابت ہوا کہ راہل سوچتا ہوا ذہن رکھتے ہیں، مطالعہ کرتے ہیں اور نتائج اخذ کرتے ہیں۔ اُن کی ٹیم یقیناً اُنہیں تقریر کا خام مواد فراہم کرتی ہوگی مگر اُس کو تیار شدہ مواد میں تبدیل کرنے کا ہنر راہل میں ہے۔ اُن کے تعلق سے یہ خیال عام تھا کہ وہ اچھے مقرر نہیں ہیں۔ اب بہت اچھے ہوگئے ہیں ایسا نہیں ہے مگر اس میں مواد ہوتا ہے، ٹھوس باتیں ہوتی ہیں اور دلائل ہوتے ہیں۔ اس سے انکار ممکن نہیں۔