اراکین پارلیمان کی تنخواہ میں تخفیف سے متعلق بل لوک سبھا میں منظور

Updated: September 17, 2020, 7:30 AM IST | Agency | New Delhi

اپوزیشن نے بھی اتفاق ظاہر کیا لیکن ایم پی فنڈ کو فوری طور پر بحال کرنے کا مطالبہ کیامگر مودی سرکار اپنے فیصلے پر بضد رہی

Prahlad Joshi - Pic : INN
پرہلاد جوشی ۔ تصویر : آئی این این

ایم پی فنڈ ۲؍سال کیلئے ملتوی کرنے کے مرکزی حکومت کے فیصلے کی  اپوزیشن  ممبران  کی طرف سے  شدید مخالفت کے درمیان لوک سبھا نے کورونا وبا سے لڑنے کیلئے فنڈ جمع کرنےکی خاطر اراکین پارلیمنٹ کی تنخواہوں میں۳۰؍فیصد کی کمی کرنے والا’پارلیمنٹ ممبر تنخواہ، الاؤنس اور پنشن(ترمیمی)بل۲۰۲۰‘ کو صوتی ووٹوں سے منظوری دیدی ۔
 کانگریس سمیت حزب اختلاف کے تمام ممبران نے تنخواہوں میں کمی سے متعلق بل کی حمایت کی لیکن اسی کے ساتھ یہ بھی کہا کہ حکومت کو  ایم پی  فنڈ کو فوری طور پر بحال کرنا چاہئے۔ان کاکہنا تھا کہ ایم پی  فنڈ عوام کا پیسہ  ہے اور اس فنڈ کااستعمال کورونا وائرس سے نمٹنے کیلئے  پارلیمانی حلقوں میں ضروری رہنما اصولوں کے ساتھ کیا جاسکتاہے۔ اراکین کا کہنا تھا کہ حکومت کو اس فنڈ کو ملتوی کرنے کا فیصلہ واپس لینا چاہئے۔
 پارلیمانی امور کے وزیر پرہلاد جوشی نے کہا کہ یہ وقت کورونا سے جنگ کا ہے اور اس وقت ہرسطح پرحکومت کو اس وبا سے لڑنے کیلئے رقم کی ضرورت ہے۔   انہوں نے کہا کہ ایم پی  فنڈ کو ملتوی کرنے کا فیصلہ عارضی ہے، حالات بہتر ہوتے ہی اسے بحال کردیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ کورونا کے سبب لوگوں کے سامنے روزی روٹی کا بحران پیداہوا ہے اور حکومت لوگوں کو کھانا اور ضروری سہولیات مہیا کرانے کیلئے ہر ممکن اقدام کررہی ہے۔انہوں نے کہا کہ اس کیلئے نومبر تک غریبوں کو مفت راشن دینے کا فیصلہ کیا گیاہے۔
 پرہلاد جوشی نے کہا کہ وزیراعظم مودی نے اپنے تمام وزراءکو واضح ہدایت دی ہے کہ کورونا معاملے میں کسی طرح کی سیاست نہیں کی جانی چاہئے۔ حکومت نے کورونا کے سبب پیدا ہونے والی معاشی دقت کی بھرپائی کیلئے ۲۰؍لاکھ کروڑ روپوں کا امدادی منصوبہ بنایا اور اس کے ذریعہ معاشی صورت حال میں بہتری لانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ دیہی علاقوں میں لوگوں کو روزگار ملے، اس کیلئے منریگا کے پروجیکٹ میں ۴۰؍ہزار کروڑ روپے دیئے گئے۔حکومت کورونا کو شکست چاہتی ہے اور اسے اجتماعی طور سے ہی مدد کر کے ہرایا جاسکتا ہے، اسلئے ممبران پارلیمنٹ کی تنخواہوں میں کمی کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK