صارفین کے اثاثوں کے تحفظ کے لیے بائنانس نے تقریباً ۶؍ ارب ڈالر کے کرپٹو ٹوکنز کا متبادل فراہم کیا، چوری شدہ رقم کے ۹۵؍ فیصد نقصانات پورے کرنے کا دعویٰ، ایف بی آئی نے شمالی کوریا کے ہیکنگ گروپ کو حملے کا ذمہ دار قرار دیا ۔
EPAPER
Updated: November 01, 2026, 4:04 PM IST | New Delhi
صارفین کے اثاثوں کے تحفظ کے لیے بائنانس نے تقریباً ۶؍ ارب ڈالر کے کرپٹو ٹوکنز کا متبادل فراہم کیا، چوری شدہ رقم کے ۹۵؍ فیصد نقصانات پورے کرنے کا دعویٰ، ایف بی آئی نے شمالی کوریا کے ہیکنگ گروپ کو حملے کا ذمہ دار قرار دیا ۔
دنیا کے سب سے بڑے کرپٹو کرنسی ایکسچینج پلیٹ فارمز میں شمار ہونے والے بائنانس (Binance) نے تقریباً ۳۴ء۶؍ارب ڈالر مالیت کے کرپٹو اثاثوں کی چوری کے بعد صارفین کے لیے رقم نکلوانے کی سہولت مرحلہ وار بحال کردی ہے۔ یہ سائبر حملہ کرپٹو کرنسی کی تاریخ کے بڑے ترین ڈجیٹل مالیاتی حملوں میں شمار کیا جارہا ہے۔ بائنانس نے اس واقعے کے بعد احتیاطی اقدام کے طور پر صارفین کی رقم نکلوانے کی سہولت عارضی طور پر معطل کردی تھی، تاکہ سیکیورٹی نظام کی جانچ، متاثرہ انفراسٹرکچر کی بحالی اور مزید غیر مجاز لین دین کو روکنے کے اقدامات مکمل کیے جاسکیں۔
کمپنی کے مطابق یکم نومبر سے رقم نکلوانے کی سہولت پہلے مرحلے میں بحال کرنے کا عمل شروع کیا گیا ہے۔ اس مرحلے میں بٹ کوائن (Bitcoin)، ایتھریم (Ethereum)، بی این بی (BNB)، سولانا (Solana)، ایکس آر پی (XRP)، ڈوج کوائن (Dogecoin) اور دیگر اہم کرپٹو اثاثوں کو شامل کیا گیا ہے۔ بائنانس نے واضح کیا ہے کہ تمام کرپٹو کرنسیوں اور نیٹ ورکس کی سہولت ایک ساتھ بحال نہیں کی جائے گی بلکہ سیکیورٹی اور تکنیکی جانچ مکمل ہونے کے بعد انہیں مرحلہ وار دوبارہ فعال کیا جائے گا۔ کمپنی نے صارفین کو یہ بھی خبردار کیا ہے کہ ابتدائی مرحلے میں زیادہ ٹریفک کے باعث رقم کی منتقلی میں تاخیر ہوسکتی ہے۔
بائنانس نے اپنے سرکاری بیان میں کہا ہے کہ اس نے چوری ہونے والے کرپٹو اثاثوں کے تقریباً ۹۵؍ فیصد نقصان کو پورا کرنے کا انتظام کرلیا ہے۔ کمپنی کے مطابق تقریباً۶؍ارب ڈالر مالیت کے متاثرہ کرپٹو ٹوکنز کو اپنے وسائل سے دوبارہ حاصل یا خرید کر صارفین کے اثاثوں کی کمی پوری کی گئی ہے۔ اس مقصد کے لیے کمپنی نے اپنے کارپوریٹ خزانے، سیف ایسٹ فنڈ فار یوزرز (SAFU) اور فیوچرز انشورنس فنڈ کے وسائل استعمال کیے ہیں۔ بائنانس کے مطابق باقی ۵؍ فیصد اثاثے نسبتاً کم لیکویڈیٹی والے ٹوکنز پر مشتمل ہیں، جنہیں مطلوبہ مقدار میں حاصل کرنے میں مزید وقت لگ سکتا ہے۔ کمپنی نے یقین دہانی کرائی ہے کہ اس سائبر حملے کے مالی نقصانات صارفین پر منتقل نہیں کیے جائیں گے بلکہ ان کی ذمہ داری خود بائنانس اٹھائے گا۔ کمپنی نے یہ بھی بتایا کہ متاثرہ اہم کرپٹو اثاثوں کے صارفین کے بیلنس کو مکمل طور پر محفوظ رکھنے کے لیے اقدامات کیے گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے:دہرادون: بجرنگ دل نے مسجد کی مرمت کا کام رکوایا، غیر قانونی تعمیر کا الزام
اس بڑے سائبر حملے کی تحقیقات کے دوران امریکی وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف بی آئی نے شمالی کوریا کے سرکاری سرپرستی میں کام کرنے والے ہیکنگ گروپ ٹریڈر ٹریٹر (TraderTraitor) کو اس واقعہ کا ذمہ دار قرار دیا ہے۔ ایف بی آئی کے مطابق حملہ آوروں نے چوری کیے گئے کرپٹو اثاثوں کو ایتھریم میں تبدیل کرنا شروع کردیا تھا اور خدشہ ہے کہ ان رقوم کو مختلف ڈیجیٹل ذرائع کے ذریعے مزید منتقل کرکے ان کا سراغ لگانا مشکل بنانے کی کوشش کی جاسکتی ہے۔
تحقیقاتی اداروں اور بلاک چین سیکوریٹی کمپنیوں نے بھی حملے کے طریقہ کار اور سابقہ سائبر حملوں سے مماثلت کی بنیاد پر شمالی کوریا سے وابستہ ہیکرز کے ملوث ہونے کا شبہ ظاہر کیا ہے۔ تاہم حملے کی مکمل تفصیلات اور ذمہ داروں کی شناخت سے متعلق تحقیقات جاری ہیں۔ بائنانس نے قانون نافذ کرنے والے اداروں، بلاک چین تجزیاتی کمپنیوں، ڈجیٹل اثاثوں کے اجرا کنندگان اور دیگر کرپٹو ایکسچینج پلیٹ فارمز کے ساتھ مل کر چوری شدہ اثاثوں کا سراغ لگانے اور انہیں منجمد کرنے کی کوششیں بھی تیز کردی ہیں۔ کمپنی کے مطابق مختلف شراکت داروں کی مدد سے تقریباً ۳؍ ارب ڈالر مالیت کے متاثرہ اثاثے بلاک چین پر منجمد کیے جاچکے ہیں۔
کمپنی نے متاثرہ انفراسٹرکچر کو محفوظ بنانے، غیر مجاز رسائی کے اختیارات ختم کرنے اور رقم کی منتقلی کے نظام پر اضافی حفاظتی اقدامات نافذ کرنے کی بھی اطلاع دی ہے۔ بائنانس کی ابتدائی تحقیقات میں ایک متاثرہ لیپ ٹاپ کو ممکنہ طور پر حملے کا ابتدائی ذریعہ قرار دیا گیا تھا، تاہم بعد کی تحقیقات میں سیکوریٹی کی خلاف ورزی کے مزید ممکنہ راستوں کا بھی انکشاف ہوا۔ کمپنی کے مطابق اب تک ایسے شواہد نہیں ملے جن سے یہ ثابت ہو کہ کرپٹو والٹس کی نجی چابیاں افشا ہوئی تھیں۔ تاہم حملے کے مکمل طریقہ کار اور اس میں استعمال ہونے والی تکنیکوں کی تحقیقات جاری ہیں۔
یہ بھی پڑھئے:کشور کمار کا سدا بہار گیت ’نخرے والی‘ نئے انداز میں لوٹ آیا
کمپنی نے وعدہ کیا ہے کہ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد واقعہ سے متعلق ایک تفصیلی تکنیکی رپورٹ جاری کی جائے گی، جس میں حملے کی وجوہات، سیکیورٹی میں موجود خامیوں اور مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے کیے جانے والے اقدامات کی تفصیلات شامل ہوں گی۔ بائنانس پر ہونے والے اس بڑے سائبر حملے نے عالمی کرپٹو کرنسی مارکیٹ میں ڈیجیٹل اثاثوں کی حفاظت اور ایکسچینج پلیٹ فارمز کے سیکیورٹی نظام پر کئی سوالات کھڑے کردیے ہیں۔ رقم نکلوانے کی سہولت کی عارضی معطلی سے سرمایہ کاروں میں تشویش پیدا ہوئی تھی، تاہم بائنانس کی جانب سے نقصانات برداشت کرنے اور مرحلہ وار خدمات بحال کرنے کے اعلان کے بعد صارفین کو کچھ اطمینان ملا ہے۔
ماہرین کے نزدیک یہ واقعہ اس بات کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے کہ کرپٹو کرنسی کے شعبے میں مضبوط سائبر سیکیورٹی، شفاف مالیاتی نظام، اثاثوں کے ذخائر کی تصدیق اور فوری ہنگامی اقدامات کتنے ضروری ہیں۔ بائنانس نے بھی واضح کیا ہے کہ رقم نکلوانے کی سہولت بحال ہونا بحالی کے عمل کا ایک اہم مرحلہ ہے، تاہم سیکیورٹی کو مزید مضبوط بنانے اور باقی متاثرہ اثاثوں کے حصول کی کوششیں جاری رہیں گی۔