• Sun, 01 November, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

اسرائیل:عرب جماعتوں کے ساتھ اتحادی حکومت کا مطالبہ کرتے ہوئے ہزاروں لوگ سڑکوں پر

Updated: November 01, 2026, 5:18 PM IST | Tel Aviv

اسرائیل میں عرب جماعتوں کے ساتھ اتحاد کا مطالبہ کرتے ہوئے ہزاروں افرادسڑکوں پر نکل آئے، مظاہرین عرب جماعتوں کو شامل کرنے والے وسیع حکومتی اتحاد کے قیام کا مطالبہ کرنے کے لیے کئی اسرائیلی شہروں میں ریلی نکال رہے ہیں، جبکہ دائیں بازو کے انتہا پسندوں نے ان کی شمولیت کی مخالفت کرتے ہوئے جوابی مظاہرے کیے اور نئے انتخابات کا مطالبہ کیا۔

Thousands of Israelis call for an alliance with Arab parties. Photo: X
عرب پارٹیوں کے ساتھ اتحاد کا مطالبہ کرے ہزاروں اسرائیلی۔ تصویر: ایکس

اسرائیلی روزنامہ ہارٹز نے رپورٹ کیا کہ ہزاروں افراد وسطی تل ابیب کے ہبیما اسکوائر میں جمع ہوئے،وہ جوائنٹ لسٹ اور یونائیٹڈ عرب لسٹ (رعام) کے ساتھ حکومتی اتحاد کا مطالبہ کر رہے تھے۔ اس سے پہلے کہ وہ رابن اسکوائر کی طرف مارچ کریں،مظاہرین نے ’’شراکت داری اور مساوات کے ذریعے، ہم حکومت کو بدلتے ہیں‘‘ اور ’’عوام نے آپ کو اپنی حمایت دی ہے - اب حکومت بنائیں‘‘ جیسے نعرے والے پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے ۔اسی طرح کے مظاہرے یروشلم میں پیرس اسکوائر، حیفہ میں آڈیٹوریم پلازہ، بیئر شیبہ میں، اور تیرہ اور طیبہ کے قریب راس عامر جنکشن پر ہوئے۔ تل ابیب اور حیفہ میں مظاہرین نے’’ ۶۷‘‘  اور’’ ۵۳؍‘‘ نمبر والے نشانات اٹھا رکھے تھے، جو منگل کے قومی انتخابات کے بعد پارلیمانی تقسیم کو ظاہر کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: یوکے: اسلام مخالف نفرت انگیز جرائم۵۰۰۰ سے متجاوز، مسلمان سب سے زیادہ متاثر

واضح رہے کہ وزیر اعظم نیتن یاہو کی مخالفت کرنے والے دھڑوں نے۱۲۰؍ رکنی کنیسٹ میں۶۷؍ نشستیں حاصل کیں،جن میں تبدیلی بلاک میں یہودی جماعتوں کی ۴۸؍ نشستیں اور عرب جماعتوں کے لیے۱۹؍ نشستیں شامل ہیں، جبکہ نیتن یاہو کے دائیں بازو کے اتحاد کی۵۳؍ نشستیں ہیں۔تاہم اسی دوران، سینکڑوں دائیں بازو کے مظاہرین عرب جماعتوں کی کسی بھی شمولیت کو مسترد کرنے کے لیے ہبیما اسکوائر میں جمع ہوئے۔جوابی مظاہرین نے ’’بی بی اسرائیل کا بادشاہ ہے‘‘، ’’عوام انتخابی سالمیت چاہتے ہیں‘‘، اور ’’عوام نئے انتخابات کا مطالبہ کرتے ہیں‘‘ کے نعرے لگائے۔اگرچہ پولیس نے ایک علاحدہ حدود مقرر کی تھی، تاہم درجنوں دائیں بازو کے کارکن شراکت داری کے حامی مظاہرے کے لیے مختص زون میں داخل ہو گئے۔
دی ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق،۶۷؍ نشستوں کی مشترکہ اکثریت کے باوجود، زیادہ تر صیہونی اپوزیشن پارٹی کے لیڈرنے عرب لسٹوں پر منحصر حکومتی اتحاد بنانے سے انکار کر دیا ہے۔اس موقف سے یہودی اپوزیشن دھڑوں کے پاس۴۸؍ نشستیں رہ جاتی ہیں، نیتن یاہو کے کیمپ سے پانچ پیچھے اور مطلق اکثریت کے لیے درکار۶۱؍ سے کم۔نتیجتاً، نہ تو نیتن یاہو اور نہ ہی ان کے صیہونی حریف عرب پارٹی کے ووٹوں یا کراس بلاک منحرفیوں کے بغیر حکومتبنا سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: الخلیل: اسرائیلی فوجی لاک ڈاؤن، مسماری کا نواں دن، ۵؍ ہزار فلسطینی بے گھر

دریں اثناء رعام نے حکومت میں شامل ہونے کی اپنی آمادگی کا اعادہ کیا ہے، جبکہ جوائنٹ لسٹ کے لیڈریوسف جبارین نے تصدیق کی ہے کہ ان کی پارٹی نیتن یاہو کی انتظامیہ کو ہٹانے میں سہولت فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK