• Sun, 01 November, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

کسی اَدب کا اپنی سماعی روایت سے رشتہ منقطع ہوجائے، یہ کوئی چھوٹا سانحہ نہیں ہے

Updated: November 01, 2026, 1:48 PM IST | Intezar Hussain | Mumbai

نیا زمانہ آیا تو سارا نقشہ ہی بدل گیا۔ مغرب سے فکشن کی نئی اصناف آئیں۔ ناول اور مختصر افسانہ۔ نئے کہانی کاروں نے داستان کو رد کیا۔ ساتھ میں اس سے وابستہ سماعی روایت کو بھی سلام کرلیا۔ اسی کے ساتھ رات کی تخصیص بھی ختم ہوگئی۔ نئے کہانی کار قلم کاغذ لے کر بیٹھے اور دن کے اجالے میں مختصر افسانے اور ناول لکھنے شروع کردیئے۔ پرنٹنگ پریس بھی نئے زمانے کے جلو میں آن پہنچا تھا۔ افسانے اور ناول چھپ کر شائع ہونے لگے۔ وہ مخلوق جسے سامعین کہتے تھے تتربتر ہوتی چلی گئی۔

Photo: INN.
تصویر: آئی این این۔

ابتداء میں کلام تھا اور سننا سنانا تھا۔ شاعری اور کہانی دونوں کا معاملہ یہی تھا کہ سنائی جاتی تھی اور سنی جاتی تھی۔ اور جب میں کہانی کی ابتداء پر دھیان کرتا ہوں تو تصور میں لمبی کالی رات منڈلانے لگتی ہے اور اس کے بیچ ایک روشن الاؤ۔ الاؤ کے گرد بیٹھے ہوئے لوگ۔ کوئی کہتا ہے کہ کہانی سناؤ کہ بات چلے اور رات کٹے۔ سو کہانی شروع ہوجاتی ہے۔ بس اسی میں رات کٹ جاتی ہے۔ اب صبح ہو رہی ہے۔ کہانی ختم۔ کہنے والے کا بھلا، سننے والوں کا بھلا۔ قدیم زمانے کے الاؤ سے لے کر میری نانی اماں کی انگیٹھی تک کہانی کی تاریخ اسی طرح چلی ہے۔ اس بیچ کیسے کیسے شاہکار تصنیف ہوئے اور دفتر کے دفتر لکھے گئے، خاص طور پر مشرق میں، جیسے کتھا سرت ساگر، جیسے الف لیلہ۔ مگر ابتداء سب کی سننے سنانے سے ہوئی اور کتھاسرت ساگر کی کہانیاں تو پہلے عالم بالا میں سنائی گئی تھیں۔ شیوجی نے سنائی، پاربتی جی نے سنیں۔ زمین پر جب ستواہن انہیں قلمبند کرنے بیٹھا تو اس کا مقصد بھی یہی تھا کہ وہ یہ کہانیاں راجہ کو سنائے گا۔ جب راجہ نے سننے سے انکار کردیا تو وہ جنگل میں جا براجا اور جنگل کے جانوروں کو یہ کہانیاں سنانے لگا۔ 
الف الیلہ کی کہانیاں بھی قلمبند بعد میں ہوئیں، پہلے تو وہ بغداد، بصرہ اور قاہرہ کے قہوہ خانوں میں، گلی کوچوں میں سنائی گئی تھیں۔ داستان گو سناتے تھے، خلقت سنتی تھی۔ ان داستان گویوں نے آگے چل کر نیا جنم اٹھارہویں انیسویں صدی کی دلی اور لکھنؤ میں لیا۔ چاندنی بچھی ہے، شمعیں روشن ہیں، سامعین قرینے سے گاؤ تکیوں کے سہارے بیٹھے ہیں۔ پیچوان گردش میں ہے اور اس کے ساتھ الائچی کی تھالی، اور ہاں پان کی گلوریاں۔ بیچ میں داستان گو مسند نشیں ہے۔ سامنے چینی کی پیالی میں افیون گھلی دھری ہے۔ چسکی لی اور شروع ہوگئے۔

یہ بھی پڑھئے: زندگی اور فن میں ذہنی تنہائی کا کوئی بدل نہیں

رات بھیگتی جاتی ہے اور داستان رنگ پکڑتی جاتی ہے۔ 
فکشن کی حد تک ہمارے یہاں سماعی روایت کی یہ آخری بہار تھی۔ نیا زمانہ آیا تو سارا نقشہ ہی بدل گیا۔ مغرب سے فکشن کی نئی اصناف آئیں۔ ناول اور مختصر افسانہ۔ نئے کہانی کاروں نے داستان کو رد کیا۔ ساتھ میں اس سے وابستہ سماعی روایت کو بھی سلام کرلیا۔ اسی کے ساتھ رات کی تخصیص بھی ختم ہوگئی۔ نئے کہانی کار قلم کاغذ لے کر بیٹھے اور دن کے اجالے میں مختصر افسانے اور ناول لکھنے شروع کردیئے۔ پرنٹنگ پریس بھی نئے زمانے کے جلو میں آن پہنچا تھا۔ افسانے اور ناول چھپ کر شائع ہونے لگے۔ وہ مخلوق جسے سامعین کہتے تھے تتربتر ہوتی چلی گئی، نئے فکشن نے پرنٹنگ پریس کے زور پر کچھ گنے چنے قارئین پیدا کرلئے۔ 
شاعری کا معاملہ تھوڑا مختلف تھا۔ روایت سے بغاوت تو یہاں بھی ہوئی تھی۔ غزل، قصیدہ، مثنوی غرض ہر پرانی شعری صنف معتوب ٹھہری۔ خیر باقی پرانی اصناف تو سچ مچ جلد ہی دم توڑ گئیں مگر غزل سخت جان نکلی۔ ڈوبتے کو تنکے کا سہارا بھی بہت ہوتا ہے۔ غزل کا سہارا تنکے سے کہیں بڑھ کر تھا۔ سماعی روایت نے اس سہارے اپنی جان بچائی۔ مگر انصاف کی بات یہ ہے کہ نئی شاعری والوں کو غزل سے کد تھی، سماعی روایت کا سہاراتو وہ خود چاہتے تھے۔ حالیؔ اور آزادؔ نے اپنی نئی شاعری کو نیچرل شاعری کہا تھا مگر انہوں نے پرانی شعری روایت سے بغاوت کی تھی سماعی روایت سے نہیں۔ سماعی روایت کو انہوں نے رد نہیں کیا۔ سماعی روایت نے انہیں کرد کردیا۔ انہوں نے تو نیچرل شاعری کے فروغ کے لئے مشاعرے سے بہت توقعات باندھی تھیں۔ کرنل ہالرائڈ کے مشاعروں کا تو مقصود ہی یہ تھا مگر مشاعرے میں تو غزل کا طوطی بولتا تھا۔ نیچرل شاعری کی دال یہاں نہیں گلی۔

یہ بھی پڑھئے: ’’آل اِنڈیا ریڈیو کی اُردو نشریات کا انتظار رہتا تھا ‘‘

نتیجہ یہ ہوا کہ اردو شاعری آدھا تیتر آدھا بٹیر ہوگئی۔ نئی شاعری صرف پڑھنے کی چیز بن کر رہ گئی، جو شاعری سنی جاتی ہے وہ غزل ہے۔ موٹے لفظوں میں یوں سمجھئے کہ راشدؔ اور میراجیؔ جو نئی شاعری کے امام مانے گئے تھے، رسالوں کی زینت بن کر رہ گئے۔ اس واسطے سے انہیں گنے چنے قارئین میسر آئے۔ سامعین کے ہجوم کو مشاعرے کے طفیل غزل سمیٹ کر لے گئی۔ مگر پھر غزل میں بھی ایک تقسیم ہوگئی۔ جب غزل نے روایتی رنگ کو ترک کرکے نیا بننے کی کوشش کی تو مشاعرہ اس کے ہاتھ سے بھی نکل گیا۔ مشاعرے میں داد کے ڈونگرے روایتی غزل پر برسے۔ نئی غزل کو ادبی رسالوں میں پزیرائی ملی۔ اس کو یوں سمجھئے کہ مشاعروں میں جگرؔ صاحب کا ڈنکا بجتا تھا، فراقؔ کی غزل کا سکہ رسالوں کتابوں میں چلتا تھا۔ 
نتیجہ اس کا یہ نکلا کہ مشاعرے کا نئے طرز احساس سے میل نہیں ہوسکا اور نئے طرز احساس کو مشاعرے سے کوئی فیض نہیں پہنچا۔ یعنی اردو شاعری میں جو نئے گل پھول کھلے ان کی مہک مشاعرے تک نہیں پہنچی۔ ادھر یہ نئے گل پھول رسالوں اور کتابوں کے گلدستوں میں سجے رکھے رہے۔ مشاعرے کی ہوا انہیں راس نہیں آئی۔ 
تو نئے زمانے میں آکر یہ انجام ہوا اس سماعی روایت کا جو صدیوں سے برسرعمل تھی اور جس سے ہماری شاعری اور ہماری کتھا کہانی کی روایت سیراب ہوتی چلی آرہی تھی۔ ہم نے مغرب سے فیض اٹھا کر اپنے ادب کو پرانے سے نیا بنا تو لیا اور یہ اچھا ہی کیا مگر یہ دیکھئے کہ اس کے لئے ہمیں کتنی بھاری قیمت ادا کرنی پڑی۔ کسی ادب کا اپنی سماعی روایت سے رشتہ منقطع ہوجائے، یہ کوئی چھوٹا سانحہ نہیں ہے۔ سماعی روایت ہی کے وسیلہ سے تو ادب خلق کے ساتھ جیتا جاگتا رشتہ قائم کرتا ہے اور لوگوں کے دل و دماغ تک رسائی حاصل کرتا ہے۔ یہ رشتہ ٹوٹ جائے (جیسا کہ ہمارے یہاں ٹوٹ گیا) توپھر ادب خالی کتابی ادب بن کر رہ جاتا ہے۔ 
آپ اپنے نئے فکشن کے بل پر عوامی زندگی کی ترجمانی کے دعوے کرتے رہئے اور اپنی نودریافت حقیقت نگاری پر اتراتے رہئے، مگر کہیں نعروں اور نظریوں کے زور پر انسانی زندگی کی گہرائیاں اور وسعتیں گرفت میں آتی ہیں ؟ گر کبھی فرصت میسر ہو نظریوں اور نعروں سے تو پوچھئے الف لیلہ سے اور کتھا سرت ساگر سے اور مہابھارت میں بکھری ہوئی رنگارنگ کتھاؤں کہانیوں سے کہ انسانی زندگی کے کیا بھید بھاد ہیں، تہوں میں کتنے پاتال سرسرا رہے ہیں اور کتنے پرستان گم ہیں اور ان میں کتنی بصیرتیں جگمگا رہی ہیں۔ اور یہ ساری کہانیاں، جیسا کہ ابھی کہا گیا، پروان چڑھیں سماعی روایت کے وسیلہ سے۔ اس وسیلہ سے کہانی کہنے والے کو خلقت کے دل و دماغ تک رسائی ملی۔ ان دل و دماغ کے اندر سرسراتے اندیشوں، وسوسوں اور خوابوں تک۔ اور اب مَیں پھر عسکری صاحب کا ایک بیان نقل کرنے لگا ہوں۔ یہ انہوں نے قصہ چہاردرویش کے بارے میں کہا تھا کہ ’’اس فضا میں ہر چیز یہاں تک کہ نثر اور خود نثرنگار سب اس طرح گھل مل گئے ہیں کہ معلوم ہوتا ہے کوئی آدمی نہیں بلکہ یہ خود آسمان کہانی کہہ رہا ہے۔ ‘‘ تو کہی تھی یہ بات انہوں نے قصہ چہار درویش کے بارے میں مگر میرا دھیان بھٹک کر کتھا سرت ساگر کی طرف چلا گیا۔ یہاں بھی لگتا ہے کہ کتھا کار کوئی آدمی نہیں۔ پھر کون ہے؟ بھیگتی رات کا پاکیزہ اندھیرا یا آسمان۔ جو بھی ہو یا دونوں۔ بہرحال نقشہ کچھ اس قسم کا ابھرتا ہے کہ بھیگتی رات ہے، دھرتی پر دہکتا الاؤ، آسماں پر جھلملاتے ستارے۔ اس ٹھنڈی جھلملاہٹ اور حرارت بھری دمک کے درمیان کہانی کے بیچ سے نکلتی کہانی اپنا جادو جگا رہی ہے اور کائنات اور انسانی زندگی کے بھید کھلنے کے ساتھ ساتھ کچھ اور گہرے اور گمبھیر ہوتے چلے جارہے ہیں۔ 
اور اب میری سمجھ میں آرہا ہے کہ اُس زمانے سے اِس زمانے میں آتے آتے کہانی کے ساتھ واردات کیا گزری ہے۔ اس کے دو بڑے دشمن پیدا ہوگئے۔ بجلی کی روشنی اور پرنٹنگ پریس۔ بجلی کی روشنی نے رات سے اس کا وہ بھید بھرا اندھیرا چھین لیا جس میں کہانی اپنا جادو جگاتی تھی۔ اس پر مستزاد پرنٹنگ پریس جس کا زور شاعری سے زیادہ کہانی پر چلا۔ کہانی آگے کہی جاتی تھی، اب لکھی جاتی ہے۔ پہلے سمندر تھی اب جوئے کم آب ہے۔ 
(کتاب: نظریئے سے آگے)

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK