کرناٹک میں دودھ صارفین کو مہنگائی کا ایک اور جھٹکا لگا ہے۔ ریاستی حکومت نے معروف ڈیری برانڈ نندنی کے دودھ کی قیمت میں فی لیٹر ۸ ؍روپے اضافے کا فیصلہ کیا ہے، جس پر یکم نومبر ۲۰۲۶ء سے عمل درآمد شروع ہوگیا ہے۔
EPAPER
Updated: November 01, 2026, 5:08 PM IST | Bengaluru
کرناٹک میں دودھ صارفین کو مہنگائی کا ایک اور جھٹکا لگا ہے۔ ریاستی حکومت نے معروف ڈیری برانڈ نندنی کے دودھ کی قیمت میں فی لیٹر ۸ ؍روپے اضافے کا فیصلہ کیا ہے، جس پر یکم نومبر ۲۰۲۶ء سے عمل درآمد شروع ہوگیا ہے۔
کرناٹک میں دودھ صارفین کو مہنگائی کا ایک اور جھٹکا لگا ہے۔ ریاستی حکومت نے معروف ڈیری برانڈ نندنی کے دودھ کی قیمت میں فی لیٹر ۸ ؍روپے اضافے کا فیصلہ کیا ہے، جس پر یکم نومبر ۲۰۲۶ء سے عمل درآمد شروع ہوگیا ہے۔ حکومت کے مطابق اس اضافے کا بنیادی مقصد ڈیری کسانوں کو ان کی پیداوار کا بہتر معاوضہ فراہم کرنا، ان کی آمدنی میں اضافہ کرنا اور دودھ کی پیداوار سے وابستہ کسان خاندانوں کو مالی مشکلات سے نکالنے میں مدد دینا ہے۔کرناٹک کابینہ نے ۲۹؍ اکتوبر کو دودھ کی قیمت میں اضافے کی منظوری دی تھی۔ ریاستی وزیر کرشنا بائرے گوڑا نے کابینہ کے فیصلے کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ فی لیٹر ۸ ؍روپے کے اضافے میں سے ۷ روپے براہ راست دودھ پیدا کرنے والے کسانوں کو دیے جائیں گے، جبکہ باقی ایک روپیہ دودھ یونینوں کو ان کے انتظامی اور عملی اخراجات پورے کرنے کے لیے فراہم کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھئے:پرکاش راج کے سیاسی مؤقف سے خاندان بھی پریشان رہا، اہلیہ پونی ورما کا انکشاف
قیمتوں میں اضافے کے بعد نندنی کے بنیادی ٹونڈ دودھ کی قیمت ۴۶ ؍روپے سے بڑھ کر ۵۴؍ روپے فی لیٹر ہوگئی ہے۔ تاہم دودھ کی مختلف اقسام میں چکنائی کی مقدار اور دیگر خصوصیات کے مطابق اضافہ مختلف رکھا گیا ہے۔یکم نومبر سے نافذ ہونے والی نئی قیمتوں کے مطابق ہوموجنائزڈ دودھ کی قیمت ۴۷ ؍روپے سے بڑھ کر ۵۶؍ روپے فی لیٹر اور اسپیشل ٹونڈ دودھ کی قیمت ۵۲ ؍روپے سے بڑھ کر ۶۴؍ روپے فی لیٹر ہوگئی ہے۔ شبھم دودھ کی قیمت بھی بڑھا کر ۶۴؍ روپے فی لیٹر کردی گئی ہے۔ کرناٹک ملک فیڈریشن کے مطابق مختلف اقسام کے دودھ کی قیمتوں میں فی لیٹر ۸ ؍سے ۱۲؍ روپے تک اضافہ ہوا ہے۔
ریاستی حکومت کے فیصلے کے تحت دودھ کی خریداری کے لیے کسانوں کو دی جانے والی بنیادی قیمت ۳۵ ؍روپے سے بڑھا کر ۴۲ ؍روپے فی لیٹر کردی گئی ہے۔ اس کے علاوہ حکومت کی جانب سے پہلے سے دی جانے والی ۵ ؍روپے فی لیٹر کی مالی ترغیب بھی جاری رہے گی۔ اس طرح سرکاری ترغیب سمیت کسانوں کو اب فی لیٹر دودھ کے عوض مجموعی طور پر ۴۷ ؍روپے حاصل ہوں گے۔وزیر کرشنا بائرے گوڑا کے مطابق کسانوں کو دودھ کی مناسب قیمت فراہم کرنے کا مطالبہ کافی عرصے سے کیا جارہا تھا۔ دودھ پیدا کرنے والے کسانوں نے قیمتوں میں اضافے کے لیے احتجاج بھی کیا تھا، جبکہ ڈیری کوآپریٹو یونینوں نے بھی حکومت سے خریداری کی قیمت بڑھانے کی درخواست کی تھی۔ کسانوں اور یونینوں کی جانب سے فی لیٹر کم از کم ۱۰ ؍روپے اضافے کا مطالبہ کیا گیا تھا، تاہم کابینہ نے مالی صورت حال کا جائزہ لینے کے بعد ۸؍ روپے اضافے کی منظوری دی۔
یہ بھی پڑھئے:زمان، منہاس اور بیگ کی شاندار کارکردگی کی بدولت پاکستان نے سہ فریقی سیریز جیتی
کرناٹک حکومت نے قیمتوں میں اضافے کی ایک اہم وجہ ریاست میں خشک سالی اور دودھ کی پیداوار میں کمی کو قرار دیا ہے۔ وزیر اعلیٰ ڈی کے شیوکمار کے مطابق خشک سالی کے باعث مویشیوں کے لیے چارے اور خوراک کی دستیابی متاثر ہوئی ہے، جبکہ جانوروں کی دیکھ بھال، ادویات، چارے، ایندھن، نقل و حمل اور پیکنگ کے اخراجات میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اگر ڈیری کسانوں کو دودھ کی مناسب قیمت نہیں ملے گی تو ان کے لیے مویشیوں کی خوراک اور دیکھ بھال پر مناسب خرچ کرنا مشکل ہوجائے گا۔ اس سے نہ صرف کسانوں کی آمدنی متاثر ہوگی بلکہ دودھ کی پیداوار میں بھی مزید کمی آسکتی ہے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ کسانوں اور مویشیوں کے تحفظ کے لیے قیمتوں میں اضافہ ضروری تھا، کیونکہ ڈیری کا کاروبار ریاست کے لاکھوں خاندانوں کی روزی روٹی کا اہم ذریعہ ہے۔ کرناٹک میں ڈیری کا شعبہ بڑے پیمانے پر کسانوں اور کوآپریٹو اداروں سے وابستہ ہے۔ کرناٹک کوآپریٹو ملک پروڈیوسرز فیڈریشن (KMF) کے اعداد و شمار کے مطابق ریاست میں روزانہ تقریباً ۱ء۰۵ سے ۱ء۰۸ کروڑ لیٹر دودھ جمع کیا جاتا ہے۔ ریاست کے ڈیری نظام سے لاکھوں کسان وابستہ ہیں اور بڑی تعداد میں کسان کوآپریٹو سوسائٹیوں کو دودھ فراہم کرتے ہیں۔
حکومت کے مطابق نئی قیمتوں سے کسانوں کو سالانہ تقریباً ۱۸۵۰؍ کروڑ سے ۲۱۰۰ ؍کروڑ روپے تک اضافی آمدنی حاصل ہونے کی توقع ہے۔ وزیر اعلیٰ نے یہ بھی کہا کہ ڈیری کوآپریٹو اداروں کے ارکان میں چھوٹے اور معمولی زمین رکھنے والے کسانوں کی بڑی تعداد شامل ہے، اس لیے قیمتوں میں اضافے سے دیہی معیشت کو سہارا ملنے کی امید ہے۔ دودھ کی قیمتوں میں اضافے کے ساتھ دہی کی قیمت میں بھی اضافہ کیا گیا ہے۔ دستیاب اطلاعات کے مطابق دہی کی قیمت ۵۴ ؍روپے سے بڑھ کر ۶۸؍ روپے فی کلو ہوگئی ہے۔ اس کے علاوہ دودھ میں چکنائی کی مقدار اور نئی قیمتوں کے اثرات کے باعث گھی، مکھن اور چھاچھ جیسی ڈیری مصنوعات کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوسکتا ہے۔