دنیا کی سب سے بڑی کرپٹو کرنسی بٹ کوائن (Bitcoin) نے جمعہ کو اہم سطح عبور کرتے ہوئے ۷۷؍ہزار ڈالرس کا ہندسہ پار کر لیا۔ یہ مئی کے بعد بٹ کوائن کی بلند ترین سطح ہے اور حالیہ دنوں میں کرپٹو مارکیٹ میں مضبوط واپسی کی علامت سمجھی جا رہی ہے۔
EPAPER
Updated: August 21, 2026, 8:04 PM IST | New Delhi
دنیا کی سب سے بڑی کرپٹو کرنسی بٹ کوائن (Bitcoin) نے جمعہ کو اہم سطح عبور کرتے ہوئے ۷۷؍ہزار ڈالرس کا ہندسہ پار کر لیا۔ یہ مئی کے بعد بٹ کوائن کی بلند ترین سطح ہے اور حالیہ دنوں میں کرپٹو مارکیٹ میں مضبوط واپسی کی علامت سمجھی جا رہی ہے۔
دنیا کی سب سے بڑی کرپٹو کرنسی بٹ کوائن (Bitcoin) نے جمعہ کو اہم سطح عبور کرتے ہوئے ۷۷؍ہزار ڈالرس کا ہندسہ پار کر لیا۔ یہ مئی کے بعد بٹ کوائن کی بلند ترین سطح ہے اور حالیہ دنوں میں کرپٹو مارکیٹ میں مضبوط واپسی کی علامت سمجھی جا رہی ہے۔ رپورٹس کے مطابق بٹ کوائن نے گزشتہ ۲۴؍ گھنٹوں میں ۷؍ فیصد سے زیادہ اضافہ کیا اور تقریباً ۷۷؍ ہزار ڈالر تک پہنچ گیا۔ دورانِ کاروبار اس نے ۷۹۴۰۰؍ ڈالر کے قریب بھی سطح دیکھی، یعنی قیمت ۸۰؍ ہزار ڈالر کے اہم نفسیاتی ہدف کے قریب پہنچ گئی۔
یہ بھی پڑھئے:سندیپ کے بھائی کا دعویٰ:دپیکا پڈوکون نے ’’اسپرٹ‘‘ کے منافع میں ۱۰؍ فیصد حصہ مانگا تھا؟
یہ اضافہ اس لیے بھی اہم ہے کیونکہ بٹ کوائن نے مسلسل پانچ دن تک فائدہ درج کیے ہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق پیر سے اب تک اس کی قیمت میں تقریباً ۲۴؍ فیصد اضافہ ہو چکا ہے، جو مارچ ۲۰۲۳ء کے بعد اس کی بہترین ہفتہ وار کارکردگی میں شامل ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق موجودہ ریلی کے پیچھے کئی عوامل کام کر رہے ہیں۔ امریکی ٹریزری کی جانب سے طویل مدتی سرکاری بانڈز کی خریداری بڑھانے کے منصوبے نے بانڈ مارکیٹ میں حالات کو سہارا دیا، جس سے سرمایہ کاروں میں رسک اثاثوں کے لیے دلچسپی بڑھی۔
کمزور امریکی ڈالر اور امریکی مالیاتی صورتحال سے متعلق خدشات نے بھی بٹ کوائن اور سونے جیسے اثاثوں کی طلب میں اضافہ کیا ہے۔ بعض سرمایہ کار بٹ کوائن کو افراطِ زر اور کرنسی کی قدر میں کمی کے خلاف ایک متبادل اثاثے کے طور پر دیکھتے ہیں۔ صرف بٹ کوائن ہی نہیں بلکہ دیگر بڑی کرپٹو کرنسیوں میں بھی تیزی دیکھی گئی۔ رپورٹ کے مطابق عالمی کرپٹو مارکیٹ کی مجموعی مالیت تقریباً ۶ء۲؍ ٹریلین ڈالر تک پہنچ گئی، جبکہ Ethereum بھی تقریباً ۴ء۴؍ فیصد اضافے کے ساتھ ۲۳۹۰؍ ڈالر کے قریب پہنچا۔
یہ بھی پڑھئے:تریسا-گایتری سیمی فائنل میں پہنچیں، ہندوستان کا ۱۵؍ سالہ تمغے کا انتظار ختم
بٹ کوائن کی حالیہ تیزی نے یہ بحث دوبارہ شروع کر دی ہے کہ کیا کرپٹو مارکیٹ ایک نئے بُل مارکیٹ کی طرف بڑھ رہی ہے۔ کچھ تجزیہ کار موجودہ رفتار، ادارہ جاتی سرمایہ کاری اور بہتر ریگولیٹری ماحول کو مثبت اشارے قرار دے رہے ہیں۔ تاہم ماہرین یہ بھی خبردار کر رہے ہیں کہ صرف چند دن کی تیزی کو مکمل بُل مارکیٹ کی واپسی قرار دینا قبل از وقت ہوگا۔ بٹ کوائن اب بھی اپنے سابقہ ریکارڈ ہائی سے کافی نیچے ہے، اس لیے آنے والے دنوں میں ۸۰؍ہزار ڈالر کی سطح پر مزاحمت اور مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ اہم رہیں گے۔ ۷۷؍ ہزار ڈالر کی سطح عبور کرنا بٹ کوائن کے لیے ایک اہم تکنیکی اور نفسیاتی سنگِ میل ہے، لیکن کرپٹو کرنسی انتہائی کمزور اثاثہ ہے۔ قیمت میں تیزی کے ساتھ اچانک بڑی گراوٹ بھی آ سکتی ہے۔ موجودہ ریلی میں ادارہ جاتی سرمایہ کاری، امریکی مالیاتی پالیسی، ڈالر کی سمت اور کرپٹو ریگولیشن آئندہ قیمتوں کے لیے اہم عوامل رہیں گے۔