برطانیہ کی ایک عدالت نے فلسطین حامی کارکنوں کے ایک گروہ کو سزا دینے سے انکار کر دیا ہے جن پر ایل بٹ ہتھیاروں کی فیکٹری پر چھاپے کے انعقاد میں مدد کرنے کا مقدمہ چلایا جا رہا تھا۔
EPAPER
Updated: August 21, 2026, 8:04 PM IST | London
برطانیہ کی ایک عدالت نے فلسطین حامی کارکنوں کے ایک گروہ کو سزا دینے سے انکار کر دیا ہے جن پر ایل بٹ ہتھیاروں کی فیکٹری پر چھاپے کے انعقاد میں مدد کرنے کا مقدمہ چلایا جا رہا تھا۔
برطانیہ کی ایک عدالت نے فلسطین حامی کارکنوں کے ایک گروہ کو سزا دینے سے انکار کر دیا ہے جن پر ایل بٹ ہتھیاروں کی فیکٹری پر چھاپے کے انعقاد میں مدد کرنے کا مقدمہ چلایا جا رہا تھا۔کیج کے دفتر برائے عوامی وکالت کے سربراہ انس مصطفیٰ نے کہا، ’’یہ مدعا علیہان کی ایک زبردست کامیابی ہے، اس نظام کی نہیں جس نے انہیں۱۸؍ ماہ کی مقدمے سے قبل حراست میں رکھا اور دہشت گردی کا الزام عائد کیا، ‘‘جبکہ ملزمان کارروائی کی رات فلٹن سائٹ پر موجود بھی نہیں تھے۔جبکہ ان کے خلاف مشترکہ منصوبہ کا الزام تراشا گیا، جس میں کہا گیا کہ انہوں نے۶؍ اگست۲۰۲۶ء کو ایل بٹ سسٹم کی فلٹن ہتھیاروں کی فیکٹری میں ہونے والی کارروائی میں معاونت یا حوصلہ افزائی کی، جس کے نتیجے میں ۴۰؍اسرائیلی ہتھیار تباہ ہوئے، جن میں کواڈ کاپٹر ڈرون بھی شامل تھے۔‘‘
واضح رہے کہ پابندی عائد ہونے سے پہلے، فلسطین ایکشن نے اسرائیل سے منسلک دفاعی کمپنیوں یا ان سے روابط رکھنے والی فرموں کو ’’براہ راست کارروائی‘‘ کے ذریعے نشانہ بنایا، اکثر داخلی راستوں کو بلاک کیا یا سرخ پینٹ چھڑکا، خاص طور پر ایل بٹ سسٹمز کی سہولیات پر۔جون۲۰۲۵ء میں رائل ایئر فورس کے برائز نورٹن بیس پر توڑ پھوڑ کے فوری بعد اس گروہ پر پابندی عائد کر دی گئی تھی، اس دوران کارکنوں نے دو فوجی طیاروں کو نقصان پہنچایا۔تب سے تقریباً۳۰۰۰؍ افراد کو فلسطین ایکشن کی حمایت میں پلے کارڈز اٹھانے کے الزام میں گرفتار کیا جا چکا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: اسرائیل: ہند رجب کے قتل کی تحقیق کو اس کی دادی نے مسترد کردیا
یاد رہے کہ غزہ میں اسرائیلی جارحیت کے خلاف احتجاج کے طور پر برطانیہ میں فلسطین ایکشن کا قیام عمل میں آیا، جس کے کارکنوں نے غزہ پر اسرائیلی مظالم کے خلاف مظاہرے کئے، اس کے علاوہ اسرائیلی مفادات پر بھی حملے کئے، انہیں میں سے ایک مشہور واقعہ دو جنگی جہازوں پر اسپرے پینٹ چھڑکنے کا تھا،جس میں ایک سائیکل سوار فلسطین ایکشن کارکن نے فوجی اڈے میں داخل ہوکر جنگ میں استعمال ہورہے جہازوں پرپینٹ چھٹرکا تھا۔ اس کے بعد حکومت نے اس تنظیم پر پابندی عائد کرکے اس کے متعدد کارکنوں کو گرفتار کیا،اور تنظیم کی کارکردگی پر روک لگا دی، ان کارکنوں پر چلنے والے ایک اسی طرح کے مقدمے میں عدالت نے کارکنوں پرکارروائی کرنے سے انکار کردیا۔