بنگال میں بی جے پی کی مہم، مسلمانوں کو رِجھانےکی کوشش

Updated: September 16, 2020, 8:32 AM IST | Agency | Kolkata

اس کیلئے مختلف طریقے اختیار کئے جائیںگے جن میں لالچ دینے اور ترنمول کی جانب سے بدگمانی جیسے طریقے بھی شامل ہیں،ان سے بات نہیں بنی توخوف پیدا کرنے کا حربہ بھی استعمال کیا جاسکتا ہے

Dilip Ghosh - Pic : INN
دلیپ گھوش ۔ تصویر : آئی این این

مغربی بنگال میں آئندہ اسمبلی انتخابات کے پیش نظر بی جے پی کی جانب سےمسلمانوں کو رجھانے اور اُن پر ڈورے ڈالنے کی کوشش شروع کردی گئی ہے۔مغربی بنگال بی جے پی اقلیتی مورچہ نے سال کے اخیر تک۲۰؍لاکھ مسلمانوں کو پارٹی ممبر بنانے کا ہدف مقرر کیا ہے۔  اس کے ذریعہ ۲۰۲۱ء کے اسمبلی انتخابات میں ترنمول کانگریس کے مسلم ووٹ بینک میں سیندھ لگانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ذرائع کے مطابق مسلمانوں کو رجھانے کیلئے بی جے پی کی جانب سے مختلف طریقے اختیار کئے جائیںگے جن میں بی جے پی کی جانب سے لالچ اور ترنمول کی جانب سے بدگمانی جیسے طریقے بھی شامل ہیں۔جہاں ان دونوں طریقوں سے بات نہیں بنے گی، وہاں خوف پیدا کرنے کا حربہ بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔
 بنگال بی جے پی کے اقلیتی مورچہ کے صدر علی حسین نے بتایا کہ ساڑھے چار لاکھ بنگالی مسلمان ۲۰۱۴ء سے ۲۰۲۰ء تک  بی جے پی کی رکنیت حاصل کرچکے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ریاستی صدر دلیپ گھوش نے۳؍کروڑ بی جے پی ممبربنانے کا ہدف رکھا ہے جن میں سے۲۰؍لاکھ مسلم ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ اگلے۴؍ مہینے میں ہم نے اس ہدف کو حاصل کرلینے کا منصوبہ بنایا ہے۔
 مسلمانوں کے تعلق سے بی جے پی کی پالیسیاں، بالخصوص این آر سی اور سے اے اے کے معاملے میں جگ ظاہر ہیں ایسے میں مسلمانوں کو اپنے خیمے میں لانا زعفرانی محاذ کیلئے آسان نہیں ہوگا لیکن علی حسین کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے  این آر سی اور سی اے اے کے بعد بنگال بھرکے اقلیتی علاقوں کا دورہ کیا ہے لیکن انہیں کہیں بھی مسلمانوں میں کسی قسم کی کوئی ’تشویش‘ نظر نہیں آئی۔ان کا کہنا ہے کہ کہیں پر بھی سی ا ے اے اور این آر سی  سےمتعلق ان سے کوئی سوال نہیں پوچھا گیا۔انہوں نے کہا کہ سچ تو یہ ہے کہ مسلمانوں میں بی جے پی کے تئیں غلط فہمی پھیلائی گئی ہے مگر اب مسلمان سمجھنے لگے ہیں کہ نام نہاد سیکولر جماعتیں مسلمانوں کو دھوکہ دینے کے علاوہ کچھ نہیں کیا ہے۔خیال رہے کہ مغربی بنگال میں ۳۰؍فیصد سے زائدمسلم ووٹ شیئر ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق ۲۹۴؍ اسمبلی حلقوں میں سے ۱۲۰؍ زائداسمبلی حلقے ایسے ہیں جہاں پر مسلم ووٹ فیصلہ کن   پوزیشن رکھتے ہیں۔علی حسین کا خیال ہے کہ بی جے پی نے مسلمانوں کو نفسیاتی خوف میں مبتلا کیا ہے، جس کا مسلمانوں ہی کو نقصا ن ہوا ہے۔ دہلی فساد کے نام پر مسلمانوں کی گرفتاریاں، ملک بھر کے مسلم نوجوانوں کو ہراساں کرنے اور بی جے پی لیڈروں کی شرانگیزیوں جیسے واقعات  پر خاموشی اختیار کرتے ہوئے بی جے پی اقلیتی مورچے کے ریاستی صدر نے کہا کہ اب مسلمانوں کو بی جے پی سے بیر نہیں رہا ، وہ اس کی ’پالیسیوں‘ کو سمجھنے لگے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بہت سے دانشور اور تعلیم یافتہ نوجوان بی جے پی میں شامل ہورہے ہیں اور لوگ یہ محسوس کرنے لگے ہیں کہ بی جے پی ملک کی ترقی میں یقین رکھتی ہے۔
 بی جے پی اقلیتی مورچہ کے صدر علی حسین نے  میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ شہریت ترمیمی ایکٹ اور این آر سی سے متعلق غلط فہمیاں پھیلائی گئی ہیں مگر اب عوام سمجھنے لگے ہیں کہ یہ قوانین مسلمانوں کے خلاف نہیں تھے، حالانکہ انہوں نے یہ بتانے کی زحمت نہیں کی کہ یہ قوانین جس کے تعلق سے ملک بھر کے مسلمانوں میں تشویش پائی جارہی ہے، مسلمانوں کے خلاف کیوں نہیں ہیں؟بی جےپی اقلیتی مورچہ کے ذرائع کے مطابق ریاست کے ۱۲۰؍مسلم  اکثریتی علاقوں سے۱۰؍لاکھ افراد کو ممبر بنایا جائے گا جبکہ باقی۱۰؍لاکھ ممبردیگر ۱۷۴؍اسمبلی حلقوں سے  بنائے جائیںگے۔
 علی حسین انصاری نے بتایا کہ مسلمانوں کے اکثر یتی اضلاع جیسے شمالی دیناج پور، جنوبی دیناج،،کوچ بہار، جلپائی گوڑی، مالدہ اور مرشدآباد  میںگزشتہ چند برسوں سے اقلیتی ووٹوں کا رجحان ترنمول کانگریس کی جانب بڑھا ہے،اسلئے بی جے پی کی پوری توجہ ان علاقوں کی جانب ہوگی۔  اب دیکھنا ہے کہ بی جے پی ان علاقوں کے مسلمانوں کو ’رجھانے‘ کیلئے کون کون سے حربے استعمال کرتی ہے؟

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK