Inquilab Logo Happiest Places to Work

بی جے پی بوکھلاگئی ، کانگریس کے دفتر پر حملہ

Updated: August 29, 2025, 11:09 PM IST | Patna

ووٹر ادھیکار یاترا کی بے پناہ مقبولیت اور کامیابی سےحکمراں پارٹی خوفزدہ ،پٹنہ میں کانگریس کے صدر دفتر پر کارکنوں کا حملہ ، توڑ پھوڑ اور پتھرائو

Congress workers outside the party office unsuccessfully trying to stop BJP workers who were ready for violence. (PTI)
پارٹی دفتر کے باہر کانگریس کارکنان بی جے پی کے تشدد پر آمادہ کارکنوں کو روکنے کی ناکام کوشش کرتے ہوئے۔(پی ٹی آئی )

بہار میںووٹر ادھیکار یاترا کی بے پناہ مقبولیت اور عوام کی جانب سے زبردست حمایت ملنے کی وجہ سے حکمراں پارٹی بی جے پی پوری طرح سے بوکھلاگئی ہے۔ اس کے کارکنوں نے پٹنہ میں کانگریس پارٹی کے صدر دفتر پر حملہ کردیا اور وہاں جم کر توڑ پھوڑ کی ۔ حالانکہ اس دوران بی جے پی اور کانگریس کارکنوں کے درمیان اس وقت جھڑپ ہوگئی جب بی جے پی کے اراکین نے راہل گاندھی کی ووٹر ادھیکار یاترا کے دوران وزیراعظم مودی کے خلاف توہین آمیز تبصرے کے نام پر کانگریس کے صدر دفتر پر حملہ کر دیا۔ راہل گاندھی نے اس معاملے پر شدید ردعمل ظاہر کیا ہے۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر پوسٹ کرتے ہوئے  انہوں نے کہاکہ ’’سچائی اور عدم تشدد کے سامنے جھوٹ اور تشدد نہیں ٹھہر سکتے۔ مارو اور توڑو، جتنا مارنا توڑنا ہے، ہم سچائی اور آئین کی حفاظت کرتے رہیں گے۔‘‘
 اطلاع کے مطابق بی جے پی کے احتجاجی کارکنوں نے کرجی موڑ سے کانگریس کے دفتر تک مارچ کیا۔ صورتحال اس وقت بگڑ گئی جب بی جے پی کارکنان  کانگریس کے دفتر کا گیٹ توڑ کر اندر داخل ہو گئے اور `راہل گاندھی مردہ باد کے نعرے لگانے لگے۔ بات پھیلتے ہی کچھ ہی دیر میں کانگریس کارکن بھی موقع پر پہنچ گئے اور دونوں پارٹیوں کے کارکنوں کے درمیان زبردست جھڑپ شروع ہوگئی۔  بی جے پی  کے کارکنان نےکچھ ہی دیر میں پرتشدد رخ اختیار کر لیاجس کی وجہ سے کانگریس کارکنوں نے بھی اپنا بھرپور دفاع کیا۔ دیکھتے ہی دیکھتےایک دوسرے پر پتھراؤ شروع ہوگیا اورکیمپس میں کھڑی گاڑیوں میں بھی توڑ پھوڑ کی گئی جس میں کئی گاڑیوں کو شدید نقصان پہنچا ہے ۔
 خاص بات یہ ہے اس جھڑپ میں کچھ کارکن زخمی بھی ہوئے۔ پولیس نے موقع پر پہنچ کر حالات پر قابو پالیا لیکن تب تک کافی نقصان ہو چکا تھا۔ تشدد کی اطلاع ملتے ہی پولیس موقع پر پہنچ گئی اور حالات کو قابو میں کیا۔دونوں پارٹیوں نے ایک دوسرے پر تصادم کو ہوا دینے کا الزام لگایا۔ بی جے پی کارکنوں کا کہنا ہے کہ وہ پٹنہ میں کانگریس کے دفتر کے سامنے پرامن طریقے سے احتجاج کر رہے تھے، جب لوگوں نے مبینہ طور پر پتھراؤ شروع کر دیا۔ دوسری طرف کانگریس نے بی جے پی کارکنوں پر باہر سے پتھراؤ کرنے کا الزام لگایا۔بی جے پی کے کئی کارکنوں کو پٹنہ میں کانگریس کے دفتر کے گیٹ کو لات مارتے اور پھراندر داخل ہوتےہوئے دیکھا گیا۔ پٹنہ میں کانگریس کے دفتر کے باہر دونوں پارٹیوں کے اراکین ایک دوسرے کو پارٹی کے جھنڈوں سے پیٹتے ہوئے بھی دیکھے گئے۔
 واضح رہے کہ  ووٹرادھیکاریاتراکے دوران  بنائے گئے ایک اسٹیج سے وزیر اعظم مودی  کے تعلق سے مبینہ طور پر نازیبا زبان استعمال کی گئی اور اس کا ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگیا۔ خاص بات یہ ہے کہ یہ وہی جگہ تھی جہاں سے راہل گاندھی، ان کی بہن اور کانگریس جنرل سکریٹری پرینکا واڈرا اور آر جے ڈی لیڈر تیجسوی یادو موٹر سائیکل پر مظفر پور کے  لئے روانہ ہوئے تھے۔
 اس معاملے میں کانگریس پارٹی کے لیڈروں نے شدید ردعمل ظاہر کیا ہے۔کانگریس کے جنرل سکریٹری کے سی وینوگوپال نے پارٹی دفتر پرحملہ کے لیے بی جے پی کی سخت تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ ہماری ووٹر ادھیکاریاترا کی بڑھتی ہوئی عوامی مقبولیت اور حمایت سے مایوس بی جے پی نے ایک بار پھر ہمیں ڈرانے کیلئے اپنے غنڈے اتار دئیے ہیں۔پٹنہ میں ہمارے بہار پردیش کانگریس کے دفتر صداقت آشرم پرحملہ کی قیادت بی جے پی کے ایک موجودہ کابینی وزیر اور بی جے پی کے دیگر لیڈروں نے کی جوکہ ایک بزدلانہ کارروائی ہے اور یہ ہمیں ایس آئی آر کے نام پر بڑے پیمانے پر ووٹوں کی چوری کو بے نقاب کرنے سے نہیں روکے گا۔ بی جے پی نے اپنے زوال اور بہار کے لوگوں کے بڑھتے ہوئے غصے کو محسوس کرلیا ہے اسی لئے  اس کی مایوسی  انتہا کو پہنچ چکی ہے۔
 کانگریس لیڈرپون کھیڑا نے اپنے ردعمل میںکہا کہ بی جے پی والے پہلے اپنے ایجنٹوں کو ہماری میٹنگ میں بھیجتے ہیں ،وہ گالی دیتے ہیں، پھر الزام لگاتے ہیں۔اس کے بعد وہ صداقت آشرم پر حملہ کرنے کیلئے اپنے غنڈے بھیجتے ہیں اور ہمارے کارکنوں کے سرپھاڑ دیتے ہیں۔یہ کانگریس کو بدنام کرنے کی بی جے پی کی سازش ہے تاکہ کوئی مسئلہ پیدا ہو اور وہ عوام کی توجہ ووٹ چوری سے ہٹا سکیں۔مودی حکومت ووٹ چوری کرتے ہوئے رنگے ہاتھوں پکڑی گئی ہے، اس لئے وہ بوکھلا گئی ہے۔کانگریس ترجمان سپریہ شرینیت نے اپنے ردعمل میںکہا کہ سچائی کو ہمت اور سکون کی ضرورت ہوتی ہے۔ جھوٹ ہمیشہ تشدد کا سہارا لیتا ہے۔بی جے پی صداقت آشرم میں گھس گئی اور کانگریس کارکنوں کو لہولہان کردیا۔ درحقیقت راہل گاندھی نے بی جے پی کو رنگے ہاتھوں پکڑلیا، جس سے وہ بری طرح سے بوکھلا گئی ہے

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK