Inquilab Logo Happiest Places to Work

بی جے پی غنڈے بھیج رہی ہے: سی جے پی نے مودی کا بیان مسترد کردیا

Updated: July 23, 2026, 3:03 PM IST | New Delhi

وزیراعظم نریندر مودی کی جانب سے نیٹ اور دیگر امتحانات میں پرچہ لیک معاملات پر فاسٹ ٹریک عدالتوں کے اعلان کے بعد کاکروچ جنتا پارٹی (CJP) نے ان کے بیان کو مسترد کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ جنتر منتر پر جاری احتجاج کو بدنام کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ پارٹی کے بانی ابھیجیت دِپکے نے الزام لگایا کہ باہر سے افراد بھیج کر پتھراؤ کرایا جا رہا ہے جبکہ سماجی کارکن سورَو داس نے بتایا کہ بھوک ہڑتال پر بیٹھے سونم وانگچک نے تمام مظاہرین سے پرامن رہنے کی اپیل کی ہے۔

Abhijeet Dipke. Photo: INN
ابھیجیت دِپکے۔ تصویر: آئی این این

وزیراعظم نریندر مودی کی جانب سے امتحانی پرچہ لیک معاملات میں فاسٹ ٹریک عدالتوں کے قیام اور سخت کارروائی کے اعلان کے بعد کاکروچ جنتا پارٹی (CJP) نے اس بیان کو مسترد کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ جنتر منتر پر جاری احتجاج کو بدنام کرنے کی منظم کوشش کی جا رہی ہے۔ پارٹی کے بانی ابھیجیت دِپکے نے الزام لگایا کہ احتجاج میں خلل ڈالنے کے لیے باہر سے افراد بھیجے جا رہے ہیں اور اس کا مقصد پرامن تحریک کو تشدد سے جوڑ کر اس کی ساکھ کو نقصان پہنچانا ہے۔ ابھیجیت دِپکے نے کہا، ’’باہر سے لوگوں کو جان بوجھ کر ہمارے احتجاج میں خلل ڈالنے کے لیے بھیجا جا رہا ہے۔ ہم ایک ماہ سے یہاں پرامن انداز میں بیٹھے ہیں اور اس دوران کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا۔ اب جب احتجاج نے وسعت اختیار کر لی ہے تو بی جے پی غنڈوں کو بھیج رہی ہے تاکہ وہ پتھراؤ کریں، لوگوں کو اشتعال دلائیں اور سی جے پی کو بدنام کریں۔ پولیس بھی مبینہ طور پر ٹرکوں میں پتھر لا رہی ہے تاکہ احتجاج کرنے والوں کو بدنام کیا جا سکے۔‘‘

دِپکے نے مزید الزام لگایا کہ جنتر منتر پر جاری تحریک میں انتشار پیدا کرنے کے لیے جان بوجھ کر بیرونی افراد کو شامل کیا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق حالیہ پتھراؤ بھی بی جے پی کارکنوں کی جانب سے احتجاج کو بدنام کرنے کے مقصد سے کیا گیا۔ تاہم ان الزامات کے حق میں کوئی ثبوت عوامی طور پر پیش نہیں کیا گیا اور نہ ہی ان کی آزادانہ تصدیق ہو سکی ہے۔ دوسری جانب سماجی کارکن سورَو داس نے بتایا کہ انہوں نے بھوک ہڑتال پر بیٹھے سونم وانگچک سے کئی مرتبہ بات کی ہے۔ ان کے مطابق دونوں کے درمیان اس بات پر اتفاق ہوا کہ احتجاج ہر صورت پرامن رہنا چاہیے۔ سورَو داس نے کہا، ’’میں نے آج کئی مرتبہ سونم وانگچک سے بات کی۔ ہمارا نتیجہ یہی تھا کہ یہ پرامن احتجاج ہر حال میں پرامن رہنا چاہیے۔ انہوں نے بھی عوامی طور پر تمام مظاہرین سے اپیل کی ہے کہ وہ امن برقرار رکھیں اور احتجاج صحیح طریقے سے جاری رکھیں۔ اس ملک میں پہلے بھی ایسے احتجاج دیکھے گئے ہیں جہاں حکمران جماعت کے مبینہ طور پر بھیجے گئے سماج دشمن عناصر احتجاج میں گھس کر اسے پٹڑی سے اتار دیتے ہیں، پھر آخر میں پرامن مظاہرین ہی کو موردِ الزام ٹھہرایا جاتا ہے، اور اس بار ایسا نہیں ہونا چاہیے۔‘‘

سی جے پی لیڈروں کا کہنا ہے کہ وہ احتجاج کو مکمل طور پر پرامن رکھنا چاہتے ہیں اور کسی بھی اشتعال انگیزی سے دور رہنے کی اپیل کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق اگر کوئی شرپسند عنصر احتجاج میں شامل ہونے کی کوشش کرے تو مظاہرین کو اس سے خود کو الگ رکھنا چاہیے تاکہ تحریک کی ساکھ متاثر نہ ہو۔ وزیراعظم نریندر مودی نے اس سے قبل اعلان کیا تھا کہ پرچہ لیک کے معاملات میں فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کی جائیں گی اور قصورواروں کو سخت سزا دی جائے گی۔ تاہم سی جے پی کا مؤقف ہے کہ صرف اعلانات کافی نہیں بلکہ طلبہ کے مطالبات اور احتجاج کے دوران پیش آنے والے واقعات کی غیر جانبدارانہ تحقیقات بھی ضروری ہیں۔ خبر لکھے جانے تک بی جے پی اور دہلی پولیس نے ابھیجیت دِپکے کی جانب سے لگائے گئے ان مخصوص الزامات پر کوئی عوامی ردِعمل جاری نہیں کیا تھا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK