ایم این ایس سربراہ کا دیویندر فرنویس کے نام کھلا خط، لوگوں کی موت پر ہنسنے والے لیڈران پر کارروائی کا مطالبہ، وزیر اعلیٰ پر غلطی کے باوجود اپنے لیڈران کو بچانے کا الزام
EPAPER
Updated: July 05, 2026, 8:40 AM IST | Mumbai
ایم این ایس سربراہ کا دیویندر فرنویس کے نام کھلا خط، لوگوں کی موت پر ہنسنے والے لیڈران پر کارروائی کا مطالبہ، وزیر اعلیٰ پر غلطی کے باوجود اپنے لیڈران کو بچانے کا الزام
مہاراشٹر نو نرمان سینا کے سربراہ راج ٹھاکرے نے بی جے پی لیڈران کے غیر ذمہ دارانہ بیانات اور ’مغرور‘ رویے پر تنقید کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ دیویندر فرنویس کے نام ایک کھلا خط لکھا ہے۔انہوں نے واضح الفاظ میں کہا ہے کہ بی جے پی لیڈران اس وقت اقتدار کے نشے میں ہیں اور لوگوں کی موت پر قہقہے لگا رہے ہیں جبکہ وزیر اعلیٰ کی اس جانب کوئی توجہ نہیں ہے۔
سوشل میڈیا پر پوسٹ کئے گئے اس خط میں راج ٹھاکرے نے کہا ’’مشرقی، مغربی، شمالی اور جنوبی ہندوستان کے لوگ مسلسل یہ بات کہہ رہے ہیں کہ مرکز میں بی جے پی لیڈران کو اقتدار کا نشہ چڑھ گیا ہے۔ اس لوگ ناراض تھے اور ہیں کہ مرکز کے لوگ اپنی من مانی کر رہے ہیں۔ لیکن کیا اب یہ جراثیم ہماری ریاست میں پھیل گیا ہے اور آپ اسے پھیلانے دے رہے ہیں۔‘‘ انہوں نے لکھا ہے ’’ملک کی دوسری ریاستوں کی سیاست اور مہاراشٹر کی سیاست میں بہت فرق تھا۔ پورے ملک میں مہاراشٹر کے سیاسی لیڈروں کے افکار اور نظریات کے تعلق ستائش اور رشک ہوا کرتا تھا۔ لیکن پچھلے کچھ سال میں یہ واضح ہو گیا ہے کہ ہم نے اپنا موازنہ شمال کی کچھ پسماندہ ریاستوں سے کرنا شروع کر دیا ہے!‘‘ ایم این ایس سربراہ کا کہنا ہے کہ ’’آپ کا ایک رکن اسمبلی اور( پارٹی) عہدیدار لوگوں کی موت پر قہقہہ لگاتا ہے اور اس کے خلاف کارروائی کے تعلق سے ایک لفظ نہیں بولا جاتا۔
راج ٹھاکرے نے یاد دلایا کہ ’’ انگریزی کا ایک بہت مشہور جملہ ہے جو آپ نے سنا ہوگا،طاقت بدعنوان کرتی ہے، اور مطلق طاقت بالکل بدعنوان ہوتی ہے۔ لیکن صورتحال یہ ہے کہ اگر کل اس جملے کا مطلب سمجھانے کا وقت آیا ہے تو اس کیلئے بی جے پی میں موجود آپ کے ساتھی اس کی عمدہ مثال ہوں گے۔‘‘ انہوں نے کہا’’کسی کو کوئی پچھتاوا نہیں ہے، کوئی افسوس نہیں ہے۔ اور اس معاملے میں آپ ایک لفظ بھی ادا نہیں کرتے جس کی وجہ سے سب ناراض ہیں۔مہاراشٹر کا خیال تھا کہ دیویندر فرنویس ایک مہذب وزیر اعلیٰ ہیں، حساس ہیں، اور میں نے بھی ایسا ہی سوچا تھا لیکن جب ایسی چیزیں ہوتی ہیں اور جب آپ کی طرف سے کوئی افسوس کا اظہار نہیں ہوتا ہے تو پھر آپ کی حساسیت پر شک کرنا پڑتا ہے۔‘‘ ایم این ایس سربراہ نے آگے لکھا ہے ’’میں گزشتہ ۳۷؍ سال سے سیاست میں سرگرم ہوں۔ اس دوران مہاراشٹر میں اگر کسی لیڈر نے کوئی غلطی کی یا اس سے کوئی لرزش ہوئی تو صرف اس لئے کہ وہ اپنی پارٹی کا کبھی اس کی غلطیوں پر پردہ نہیں ڈالا گیا۔ چاہے وہ بالا صاحب ہوں، پوار صاحب ہوں یا پرمود جی ہوں یا کوئی بھی ہو، مہاراشٹر کی سیاست کی تصویر پورے ملک میں مختلف تھی۔‘‘ راج ٹھاکرے نے کہا ’’آج آپ کا رویہ یہ ہے کہ’ یہ ہمارا اپنا ہے ناں! تو پھر وہ چاہے جو بھی کرے اسے بچالیا جائے، اس کا ساتھ دیا جائے۔ کیا آپ کو نہیں لگتا کہ ایسا کرکے آپ اپنی اور مہاراشٹر کی شبیہ خراب کر رہے ہیں؟ ‘‘ انہوں نے لکھا ’’آپ کے وزراء آئے روز بیہودہ بیانات دے رہے ہیں، آپ اس پر کچھ نہیں کہتے۔ آپ اپنے دیگر لیڈران کو بھی کچھ نہیں کہتے جو کھلے عام بے حسی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔(اگر آپ بولتے تو ان میں دوبارہ وہی غلطی کرنے کی ہمت نہ ہوتی، لیکن ان کا جو رویہ ہے، اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ آپ انہیں کوئی نصیحت نہیں کرتے) آپ کی خاموشی کی اصل وجہ کیا ہے؟‘‘ راج ٹھاکرے نے کہا’’آپ کو کچھ کہنے کے بجائے مہاراشٹر کے اس وزیر اعلیٰ سے ہمیشہ کسی اشارے کی توقع کی جاتی ہے۔ پھراس کا تعلق کسی بھی پارٹی سے کیوں نہ ہو۔ آپ ہماری توقعات کو نابود نہ کریں۔ ورنہ دیویندر فرنویس، آپ کی شبیہ صرف ایک ایسے بھائی کی رہ جائے گی جو اپنے لوگوں کی غلطیوں کی حمایت کرتا ہے، جو کہ مہاراشٹر کی سیاست میں غلط چلن شروع کرے گا۔درحقیقت آپ کو ایسے رویے والوں سے استعفیٰ لینا چاہئے۔ لیکن میں نہیں جانتا کہ آپ ایسا کیوں نہیں کر رہے ہیں۔ ایک بار دکھا دیجئے کہ اوٹ پٹانگ حرکتیں کرنے والوں کے ساتھ دیویندر فرنویس سختی سے نپٹتا ہے۔ اس کے بعد سب سیدھے ہو جائیں گے۔آپ عقلمند ہیں۔ آپ سے توقعات وابستہ ہیں۔‘‘ یاد رہےکہ حال ہی میں بی جے پی کے ممبئی صدر امیت ساٹم نے ممبئی کے ساکی ناکہ میں ایک شخص کے مین ہول میں گر جانے پر ہنستے ہوئے میڈیا کے سامنے بیان دیا تھا کہ ایسے واقعات ہوتے رہتے ہیں۔