Inquilab Logo Happiest Places to Work

شہریوں کو پولیس اسٹیشنوں میں داخل ہونے میں اطمینان محسوس ہونا چاہئے، خوف نہیں: بامبے ہائی کورٹ

Updated: July 04, 2026, 10:38 PM IST | Mumbai

چیف جسٹس گھوگے نے پولیس کے خلاف سخت زبانی تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ”آپ کے افسران کورٹ ہال میں اتنے معصوم بن جاتے ہیں لیکن کورٹ ہال سے باہر اپنے تھانے میں وہ آقا ہوتے ہیں۔ جب لوگ آپ کے تھانے آتے ہیں تو کانپتے ہیں۔ درحقیقت، تھانہ ایسا ہونا چاہئے جہاں کوئی بھی شہری داخل ہوتے ہوئے خود کو پرسکون محسوس کرے۔“

Bombay High Court. Photo: INN
بامبے ہائی کورٹ۔ تصویر: آئی این این

بامبے ہائی کورٹ نے مہاراشٹر پولیس کی ایک پٹیشن کو مسترد کر دیا ہے جس میں ملزمان کو ایف آئی آر اور شکایت کی کاپیاں فراہم کرنے سے انکار کرنے پر پالگھر کے ایک پولیس اہلکار پر عائد کردہ ۲۵ ہزار روپے کا جرمانہ واپس لینے کی درخواست کی گئی تھی۔ عدالت نے سخت تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ پولیس افسران ”تھانوں میں خود کو آقا سمجھتے ہیں“ جبکہ عدالتوں کے سامنے بڑے ”معصوم“ اور ”تعاون کرنے والے“ بن جاتے ہیں۔

کارگز ایگزیکٹیو چیف جسٹس رویندر وی گھوگے اور جسٹس گوتم اے انکھڑ پر مشتمل ایک ڈویژن بنچ نے ۲۵ جون کو یہ جرمانہ عائد کیا تھا۔ عدالت نے مشاہدہ کیا تھا کہ ایسی درخواستیں بار بار عدالتوں میں اس لئے آتی ہیں کیونکہ افسران طے شدہ قانونی تقاضوں کو پورا کرنے میں ناکام رہتے ہیں، جس کی وجہ سے درخواست گزاروں کو قانونی چارہ جوئی پر پیسہ خرچ کرنا پڑتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: چمبور اسکول بس واقعہ پرمیونسپل کمشنر اور دیگر محکموں کیخلاف پولیس میں شکایت

درخواست گزار، جو معاشی جرائم کے مقدمات میں ملزم ہیں، نے اپنے وکلاء منوج بورکر اور پرساد بورکر کے ذریعے عدالت کو بتایا کہ معاشی جرائم ونگ (EOW) سے ”انتھک کوششوں کے بعد“ کاپیاں حاصل کرنے کے باوجود، واڈا پولیس اسٹیشن نے ایک الگ معاملے میں شکایت کی کاپیاں دینے سے انکار کر دیا اور مبینہ طور پر اس درخواست کو ”وقت کا ضیاع“ قرار دے کر مسترد کر دیا۔

ریاست کے ایڈیشنل پبلک پراسیکیوٹر نے دلیل دی کہ واڈا پولیس اسٹیشن کے متعلقہ سینئر پولیس انسپکٹر قصوروار نہیں ہیں۔ درخواست گزاروں کو مئی میں کاپیاں لینے کیلئے کہا گیا تھا لیکن وہ نہیں آئے۔ ریاست نے مزید دعویٰ کیا کہ کرائم برانچ نے الگ سے اسی طرح کے مواد پر مشتمل شکایت کی کاپیاں فراہم کر دی تھیں۔ عدالت نے ریکارڈ کا جائزہ لینے کے بعد ان دلائل کو مسترد کر دیا اور نوٹ کیا کہ جس افسر نے شروع میں کاپیاں دینے سے انکار کیا تھا، اس نے عدالت کے ۲۵ جون کے حکم کے بعد ہی انہیں ای میل کے ذریعے بھیجا۔

یہ بھی پڑھئے: ’’چوری اور بدعنوانی ہونی چاہیے، بس کمیشن کا فیصد کم ہو‘‘

چیف جسٹس گھوگے نے پولیس کے خلاف سخت زبانی تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ”آپ کے افسران کورٹ ہال میں اتنے معصوم بن جاتے ہیں لیکن کورٹ ہال سے باہر اپنے تھانے میں وہ آقا ہوتے ہیں۔ جب لوگ آپ کے تھانے آتے ہیں تو کانپتے ہیں۔ درحقیقت، تھانہ ایسا ہونا چاہیے جہاں کوئی بھی شہری داخل ہوتے ہوئے خود کو پرسکون محسوس کرے۔ وہ وہاں قدم رکھتے ہی کانپتے ہیں کیونکہ وہ نہیں جانتے کہ اندر ان کے ساتھ کیا ہونے والا ہے۔“

بنچ نے ۲۵ جون کے فیصلے میں کوئی غلطی نہ پاتے ہوئے جرمانہ عائد کرنے کے اپنے اصل حکم کو برقرار رکھا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK