Inquilab Logo Happiest Places to Work

بی ایم سی کا نئے پورٹل سے تعلیمی اشیاء کی خریداری کا فیصلہ

Updated: May 26, 2026, 2:30 PM IST | Mumbai

اپوزیشن نےنئے طریقہ کار سے سامان کی خریداری میں تاخیر ہونے کا خدشہ ظاہر کیا، مہایوتی کے اس اقدام سے شفافیت میں بہتری اور ۴۰؍کروڑ روپے کی بچت کا دعویٰ۔

Photo: INN.
تصویر: آئی این این۔

بی ایم سی نے امسال اوّل سے آٹھویں جماعت کے طلبہ کودی جانے والی ۲۷؍ تعلیمی اشیاء گورنمنٹ ای مارکیٹ پلیس سے خریدنے کا فیصلہ کیا ہے، جو پہلے کے ٹینڈر پر مبنی نظام سے مختلف ہے۔ اپوزیشن نے اس فیصلہ پر خدشات کا اظہار کرتے ہوئے نئے طریقہ کار سے تعلیمی سامان کی خریداری میں تاخیر ہونے کا خدشہ ظاہر کیا ہے جبکہ حکمراں بی جے پی کی زیر قیادت مہایوتی نے اس اقدام کا دفاع کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہےکہ اس سے شفافیت میں بہتری آئے گی اور شہری ادارہ کو ۴۰؍کروڑ روپے سے زیادہ کی بچت ہوگی۔ واضح رہے کہ بی ایم سی طلبہ کو یونیفارم، بیاض، اسکول بیگ، جوتے، چھتری اور دیگر تعلیمی سامان تقسیم کرتی ہے۔ اگرچہ شہری انتظامیہ نے تعلیمی سال ۲۷۔ ۲۰۲۶ء اور ۲۸۔ ۲۰۲۷ء کی خریداری کیلئے مارچ میں روایتی ٹینڈر کا عمل شروع کیا تھا، لیکن بعد میں اسے حکمراں مہاوتی اتحاد کے مذکورہ پورٹل پر خریداری کو منتقل کرنے کا فیصلہ کرنے کے بعد ٹینڈر کے عمل کو ختم کر دیا گیا۔ اسی مناسبت سے گزشتہ دنوں طلبہ کیلئے برساتی اور چھتریاں خریدنے کی تجویز اسٹینڈنگ کمیٹی کے سامنے منظوری کیلئے رکھی گئی۔ تجویز کی منظوری کے بعد، ٹھیکیداروں کو ورک آرڈر جاری کئے جائیں گے، جن کو ۴۵؍دنوں میں برساتی اور چھتریاں فراہم کرنی ہوگی۔ کانگریس کے گروپ لیڈر اشرف اعظمی نے اس معاملہ پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ’’ جب طلبہ کو رین کوٹ اور چھتریاں ملیں گی، تب تک اگست کا مہینہ ہو چکا ہو گا اور بارش کی شدت کم ہو چکی ہو گی، جس سے اشیاء کی تقسیم کا مقصد ہی ختم ہو جائے گا۔ ‘‘ اسٹینڈنگ کمیٹی کے چیئرمین پربھاکر شندے نے دعویٰ کیا کہ’’ جی ای ایم پورٹل کے ذریعے تعلیمی اشیاء کی خریداری سے بی ایم سی کو خاطر خواہ عوامی فنڈز بچانے میں مدد ملے گی۔ اس سسٹم سے طلبہ کیلئے تعلیمی اشیاء کی خریداری پر شہری انتظامیہ کو تقریباً ۴۰؍کروڑ روپے بچنے کی اُمید ہے۔ نئے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے، دلیل دی کہ جب بھی نظام میں کوئی بڑی تبدیلی متعارف کرائی جاتی ہے تو عارضی چیلنجز ناگزیر ہوتے ہیں ۔ ‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK