Inquilab Logo Happiest Places to Work

گائے کو قومی جانور قرار دینے کا مطالبہ، سابق نائب صدر حامد انصاری کی حمایت

Updated: May 26, 2026, 3:11 PM IST | New Delhi

عیدالاضحیٰ سے قبل ہندوستان میں گائے کو ’’قومی جانور‘‘ قرار دینے کا مطالبہ زور پکڑ گیا ہے، جس کی بعض مسلم مذہبی و سماجی تنظیمیں بھی حمایت کر رہی ہیں۔ سابق ہندوستانی نائب صدر محمد حامد انصاری نے بھی اس مطالبے کی تائید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے ملک میں امن و ہم آہنگی برقرار رکھنے میں مدد مل سکتی ہے۔

Hamid Ansari Photo: INN
حامد انصاری۔ تصویر: آئی این این

مسلم تنظیموں کی جانب سے گائے کو ’’قومی جانور‘‘ قرار دینے کے بڑھتے ہوئے مطالبے کے درمیان، ہندوستان کے سابق نائب صدر محمد حامد انصاری نے پیر کو اس خیال کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ اگر ’’مسئلے کی جڑ‘‘ کو ختم کیا جا سکتا ہے تو ’’ایسا ضرور کیا جانا چاہئے۔ ‘‘حامد انصاری نے پیر کو’’ دی انڈین ایکسپریس‘‘ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا:’’میں نے خبروں میں پڑھا کہ کچھ آوازیں گائے کو قومی جانور قرار دینے کا مطالبہ کر رہی ہیں۔ مجھے یہ ایک نہایت معقول مطالبہ محسوس ہوا۔ کیونکہ اگر آپ مسئلے کی اصل وجہ کو ختم کر سکتے ہیں تو ایسا کیا جانا چاہئے۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: بائیکاٹ کی بنا پر محمد دیپک کیلئے جم کا کرایہ ادا کرنا مشکل

جب ان سے پوچھا گیا کہ مسلم تنظیموں کے اس مطالبے کی حمایت کی وجہ کیا ہے، تو انصاری نے کہا’’ملک میں لڑائی جھگڑے کے بجائے امن اور ہم آہنگی برقرار رہنا بہتر ہے۔ ‘‘جب ان سے یہ پوچھا گیا کہ کیا وہ چاہتے ہیں کہ مرکزی حکومت گائے کو قومی جانور قرار دے، تو انصاری، جو۲۰۰۷ء سے۲۰۱۷ء تک نائب صدر رہے، نے کہا:’’یہ مرکزی حکومت کے غور کرنے کا معاملہ ہے، اگر گائے کے ذبح کو روکنے کیلئے ایسا قدم اٹھایا جاتا ہے تو یہ اچھی بات ہوگی۔ ‘‘

یہ بھی پڑھئے: لاڈلی بہن اسکیم کی وجہ سےترقیاتی کاموں میں رکاوٹ؟

انصاری کے یہ بیانات عید الاضحیٰ (بقرعید) سے چند روز قبل سامنے آئے ہیں، جب متعدد مسلم تنظیموں نے مولانا ارشد مدنی کے اس مطالبے کی حمایت کی کہ گائے کو ’’قومی جانور‘‘ قرار دیا جائے۔ مسلم تنظیموں کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ انہیں امید ہے کہ ایسا فیصلہ گائے کے ذبح کے مسئلے کے سیاسی استحصال کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہوگا۔ مدنی نے حال ہی میں ایک بیان جاری کرتے ہوئے اپنے دیرینہ مطالبے کو دہرایا کہ گائے کو قومی جانور کا درجہ دیا جانا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ گائے کے ذبح کیلئے خرید و فروخت میں ملوث افراد، اور گائے کے گوشت کی تجارت کرنے والوں کے خلاف سخت ترین کارروائی کیلئے قوانین بنائے جانے چاہئیں۔ 

یہ بھی پڑھئے: آگ لگا دی پیٹرول، ڈیزل کے دام نے

مولانا خالد راشد فرنگی محلی، جو آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے سینئر ایگزیکٹو رکن اور اسلامک سینٹر آف انڈیا کے چیئرمین ہیں، نے بھی کہا:’’ہمارے ہندو بھائیوں کے گائے کے حوالے سے مذہبی جذبات وابستہ ہیں، اس لئے ان کے جذبات کے احترام میں گائے کو قومی جانور قرار دیا جانا چاہئے۔ ‘‘انہوں نے زور دے کر کہا کہ گائے کے ذبح کے خلاف ایک یکساں قانون پورے ملک میں نافذ کیا جانا چاہئے اور تمام مذہبی تنظیموں کو اس سمت میں آگے آنا چاہئے۔ آل انڈیا شیعہ پرسنل لا بورڈ کے قومی جنرل سیکریٹری مولانا یعسوب عباس نے کہا کہ گائے کو قومی جانور قرار دینے کا مطالبہ درست ہے، لیکن اس پر خلوص نیت سے عمل کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK